بڑے لوگ اگر نخرے پر آ جائیں تو انہیں کیسے اپنے شیشے میں اتارا جائے ۔۔۔۔ نامور ادیب و کالم نگار ممتاز مفتی کی زندگی کا ایک انوکھا واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) ایک بار میں نے نامور ادیب اور ناول نگار ممتاز مفتی کو ایک سوال نامہ بھیجا جو کچھ علمی و ادبی قسم کے سوالوں پر مشتمل تھا ممتاز مفتی صاحب کو میرا سوال نامہ ملا تو جواب میں دوسطروں کا روکھا پھیکا خط موصول ھؤا جس میں لکھا تھا

پاکستان کے شعبہ تعلیم کی نامور اور جانی پہچانی شخصیت اور ضلع میانوالی کے باکمال بیٹے پروفیسر منور علی ملک اپنی ایک خصوصی تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میں رسمی، کتابی , نصابی سوالوں کے جواب نہیں دیا کرتا“-میرے سوال نامے میں تو کوئی رسمی نصابی کتابی سوال تھا ھی نہیں – لگتا تھا بابا جی نے سوالنامہ پڑھا ھی نہیں تھا -میں جانتا تھا کہ یہ با بے لوگ دل کے برے نہیں ھوتے – ان کے اپنے موڈ ، اپنے نخرے ھوتے ھیں – جو ایک بار برداشت کرلے اس سے یاری پکی ، ایسی پکی کہ آخری سانس تک برقرار -اس لیے میں نے مفتی جی کے روکھے پھیکے خط کے جواب میں لکھا ———- “ سرکار، مانگنے والے کے دامن کو نہ دیکھیں ، اپنی شان کے مطابق کچھ عطا کردیں “-میری یہ سادہ سی بات مفتی جی کو لے کر بیٹھ گئی – اس کے جواب میں فی الفور ایک اور دوسطری خط آیا – مفتی جی نے لکھا :“منور ، تونے مجھے خوش کر دیا ، اللہ تجھے خوش رکھے – میں تیرے تمام سوالوں کے جواب دوں گا “-تین چار دن بعد ایک اچھا خاصا وزنی پارسل ڈاک سے موصول ھؤا – اس میں جواب نامہ ، مفتی جی کی پکچر اور زیر تکمیل آپ بیتی “الکھ نگری“ کے بہت سے صفحات بھی تھے – میں حیران ، کہ اپنے ھاتھ سے لکھے ھوئے اصل مسودے کے اوراق مجھے کیوں بھیج دیئے – خط پڑھا تو لکھا تھا “ میرے ھاتھ سے لکھے ھوئے کاغذ بھی سب تمہارے – میں نے ان کی فوٹو کاپی رکھ لی ھے – اور بھی جو کچھ چاھیے بتا دینا ، بھیج دوں گا “-(ش س م)