You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > تاریخی وا قعات > اذان سے ہمارے برتن ناپاک ہو جاتے ہیں۔۔۔کی شکایت پر رنجیت سنگھ نے کیا انوکھا حکم جاری کیا؟جانیے

اذان سے ہمارے برتن ناپاک ہو جاتے ہیں۔۔۔کی شکایت پر رنجیت سنگھ نے کیا انوکھا حکم جاری کیا؟جانیے

رنجیت سنگھ کے زمانے میں ، پنجاب پر سکھوں کی حکومت تھی، رنجیت سنگھ جنگجو طبعیت کا مالک تھا، ۔ یہ واقعہ رنجیت سنگھ کے زمانے کا ہے۔سکھ اکٹھے ہوکر رنجیت سنگھ کے دربار میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ مسلمان جو صبح کو اذان دیتے ہیں، اس سے ہمارے برتن ناپاک ہوتے ہیں، مسلمانوں کو ایسا کرنے سے روکا جائے۔رنجیت سنگھ نے ایک انوکھا تاریخی حکم دیا کہ مسلمانوں کو ایسا کرنے سے روکا جاتا ہے اور جتنے سکھ یہ شکایت لے کر آئے ہیں ان کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے کہ وہ صبح جس وقت اذان ہوتی اس سے پہلے ہر مسلمان کے گھر جائیں اور اسے بتائیں کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے۔ سکھوں پر تو جیسے قیامٹ ٹوٹ پڑی روزانہ ان کو مشقت کرنی پڑتی، نمازیوں کی تعداد مساجد میں بہت زیادہ ہوگئی۔ کچھ دنوں زیادہ ہوگئی۔ کچھ دنوں بعد ان سکھوں نے ہاتھ جوڑ لیے، رنجیت سنگھ سے کہا کہ آپ اپنا حکم واپس لیں، مسلمانوں کو اذان دینے دیں، اب برتن ناپاک نہیں ہونگے

میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔

سالوں پہلے کی بات ہے جب ایک امام مسجد صاحب روزگار کیلئے برطانیہ کے شہر لندن پُہنچے تو روازانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول بن گیا۔لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔ امام صاحب سوچ میں پڑ گئے، پھر اپنے آپ سے کہا کہ یہ بیس پنس وہ اترتے ہوئے ڈرائیور کو واپس کر دیں گے کیونکہ یہ اُن کیونکہ یہ اُن کا حق نہیں بنتے۔ پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ بھول جاؤ ان تھوڑے سے پیسوں کو، اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے!!! ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُن کی کمائی میں کیا فرق پڑ جائے گا؟ اور میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں..

بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو بیس پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے ہیں۔ڈرائیور نے بیس پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟ میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ یہ بیس پنس میں نے جان بوجھ کر تمہیں زیادہ دیئے تھے تاکہ تمہارا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں۔اور امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترا، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنے کیلئے ایک کھمبے کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی، یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔۔۔ہو سکتا ہے کہ ہم کبھی بھی اپنے افعال پر لوگوں کے رد فعل کی پرواہ نہ کرتے ہوں۔مگر یاد رکھیئے کہ بعض اوقات لوگ صرف قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جانتے ہیں۔یا غیر مسلم ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہوں۔اس طرح تو ہم سب کو دوسروں کیلئے ایک اچھی مثال ہونا چاہیئے۔۔اور ہمیشہ اپنے معاملات میں سچے اور کھرے بھی۔۔صرف اتنا ہی ذہن میں رکھ کر، کہیں کوئی ہمارے رویوں کے تعاقب میں تو نہیں؟ اور ہمارے شخصی تصرف کو سب مسلمانوں کی مثال نہ سمجھ بیٹھے۔اسلام ایک جامع اور خوبصورت دین ہے اسکا بسیرا اخلاق اور اچھائی کے ذخیرے میں ہی ممکن ہے ۔

Top