ہزاروں سال پرانے تابوت کو کھولا گیا تو اندر امید کے بر عکس کیا چیز بر آمد ہوئی؟ 440 وولٹ کے جھٹکے کے لیے تیار ہو جائیں

لاہور (ویب ڈیسک )مصری بندرگاہی شہر اسکندریہ سے ملنے والے دو ہزار سال پرانے ایک تابوت سے مقامی افراد کو امید تھی کہ غالباﹰ اس میں سکندر اعظم کی باقیات ہوں گی۔ لیکن ماہرین آثار قدیمہ نے اس تابوت میں تین ممیاں دریافت کی ہیں۔یہ سر بہ مُہر دو ہزار سال پرانا سیاہ سنگ مرمر

کا تابوت مقامی مزدوروں کو بُحیرہ روم پر واقع یونان کے تاریخی بندرگاہی شہر اسکندریہ میں رواں ماہ ایک عمارت کی تعمیر کے دوران ملا تھا۔ اسکندریہ میں ملنے والا یہ تیس ٹن وزنی سیاہ تابوت اب تک ایسا سب سے بڑا تابوت ہے۔اس تابوت کے ملنے کی خبر عام ہونے کے بعد سے مقامی اور عالمی میڈیا میں ایسی قیاس آرائیاں ہونے لگی تھیں کہ اس میں یونان کے فاتح سکندر اعظم کی باقیات ہو سکتی ہیں۔اسکندریہ شہر کی بنیاد سکندر اعظم یا ’الیگزینڈر دی گریٹ‘ نے 331 قبل از مسیح میں رکھی تھی اور یہ شہر آج تک اسی کے نام پر آباد ہے۔تاہم مصر کی وزارتِ آثار قدیمہ نے اس تابوت میں سکندر اعظم کی باقیات ہونے کے امکانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔یہ تابوت مقامی مزدوروں کو اسکندریہ میں رواں ماہ ایک عمارت کی تعمیر کے دوران ملا تھامصر میں آثار قدیمہ کی سپریم کونسل کے سیکریٹری جنرل مصطفی وزیری نے تابوت ملنے کے مقام پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ ہمیں تابوت میں تین افراد کی باقیات ملی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس میں ایک ہی خاندان کو دفن کیا گیا تھا۔ بد قسمتی سے ممیوں کی صرف ہڈیاں ہی باقی بچی ہیں اور جسم کے باقی حصے بہت خراب حالت میں ہیں۔‘‘وزیری کا کہنا تھا کہ ممیوں کی کچھ باقیات تابوت میں موجود ایک چھوٹے سے سوراخ سے نکاسی کا گندا پانی جانے کے سبب بالکل شکستہ ہو گئی ہیں۔اس طویل سر بہ مہر تابوت کے کھلنے سے قبل مصرکے میڈیا میں ایسی افواہیں گردش کرنے لگی تھیں کہ تابوت میں سے ہزار سال پرانی ’بد دعا‘ باہر نکل آئے گی۔ اس حوالے سے وزیری نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا،’’ ہم نے تابوت کھول لیا ے اور اللہ کا شکر ہے کہ اس سے دنیا میں کوئی قیامت نہیں آ گئی۔‘‘323 قبل مسیح میں قدیمی شہر بابل میں مرنے والے سکندر اعظم کی قبر یا باقیات کہاں ہیں، یہ آج تک ایک راز ہے۔ابھی حال ہی میں عجائبات عالم میں شمار ہونے والے اہرام مصر کے قریب سے زمانہ قدیم کے فرعونوں اور امراء کی لاشوں کو حنوط کرنے کی ایک ڈھائی ہزار سال پرانی ورکشاپ بھی دریافت ہوئی تھی۔(،ع ع )