عبدالکلام نے نقل کی اور عبدالقدیر نے ایجادات ۔۔۔۔۔۔پڑھیے ایک دل خوش کر دینے والی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) ’میرے علم میں نہیں ہے کہ ڈاکٹر عبدالکلام یا کسی اور بھارتی سائنسدان نے اپنے میزائل کی تشکیل میں کوئی غیر معمولی کردار ادا کیا ہو۔ ڈاکٹر عبدالکلام ایک سادہ انسان اور ایک عام سے سائنسدان تھے جنھوں نے روسی میزائل پروگرام کو ہی آگے بڑھایا۔ ہمیں یقین ہوا، ہم کو اعتبار آیا کیونکہ یہ قول ہے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا، جنہوں نے ہالینڈ میں پاکستان کا جوہری پروگرام اور شمالی کوریا میں پاکستان کا میزائیل پروگرام خود ایجاد کیا تھا۔

نامور کالم نگار عدنان خان کاکڑ اپنی ایک خصوصی تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے یہ بات جولائی 2015 کے اواخر میں ڈاکٹر کلام پر بے لاگ تبصرہ کرتے ہوئے کہی تھی۔ ویسے بھی ہندوستانی ہیں ہی نکمے۔ یقین ہے کہ راکٹ کو مریخ تک پہنچانے والی ٹیکنالوجی بھی بھارتیوں نے روسیوں سے ہی لی ہو گی۔ اور چاند پر بھی وہ سالم روسی چاند گاڑی کرائے پر کرا کر ہی پہنچے ہوں۔ ا ور بندے کو تو یہ بھی یقین ہے کہ یہ صفر کی ایجاد اور دس کی بنیاد پر گنتی بھی عربوں کی ایجاد ہے۔ ٹیکسلا یونیورسٹی میں بیٹھ کر چانکیہ وغیرہ صرف مکر و فریب کی صنعت ہی میں فکر و ایجاد کیا کرتے تھے۔ اور یہ ہڑپے موہنجوداڑو میں بیٹھے دراوڑ اور بھیل کہلائے جانے والے ننگ دھڑنگ شودر بھی اقوام عالم میں اس خطے کو شرمندہ کروانے پر کمربستہ تھے۔ اس میں ہرگز بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہندوستانی شروع سے ہی نہایت نکمے رہے ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ٹیکسلا تو شاید پاکستان میں ہے۔ اور غالباً ہڑپہ اور موہنجوداڑو وغیرہ بھی یہی کہیں پائے جاتے ہیں۔ بلکہ ایک لبرل فاشسٹ، نابکار دوست تو اس پر بھی مصر ہے کہ ساٹھ ستر سال پہلے ہم پاک لوگ بھی ہندوستانی کہلاتے تھے۔ اور اگر تقسیم کے دوران وہاں جنوبی ہند میں کیرالہ کی طرف بھی فسادات ہو جاتے تو ڈاکٹر عبدالکلام بھی شاید پاکستانی ہوتے۔

گمان سا ہوتا ہے کہ کوئی شخص یا قوم بھی علم کو صفر سے ایجاد نہیں کرتی ہے۔ پرانے لوگوں کی بنیاد پر ہی ہر نسل عمارت کو بلند کرتی ہے۔ جناب ڈاکٹر صاحب، جہاں کریڈٹ بنتا ہوں، دے دیں۔ یہ بڑے لوگوں کے بڑے ظرف کو ظاہر کرتا ہے۔ جنگ میں بہادری سے لڑنے والے فوجی کی لاش کو بھی دشمن پورے فوجی اعزاز سے نوازتا ہے۔ تقسیم کے وقت مولانا حسرت موہانی، ابوالکلام آزاد اور اکابرین دیوبند بھی بھارت رہ گئے تھے۔ کیا ہم ان سے بھی اظہارِ برات کر دیں؟ اور کچھ نہیں تو 1950 میں کیا گیا لیاقت نہرو معاہدہ ہی یاد کر لیں۔ جس مسلمان کو بی جے پی جیسی متعصب ہندو جماعت تک خراج عقیدت پیش کرنے پر مجبور ہے، اس میں کچھ تو خاص ہو گا۔ اے پی جے عبدالکلام 2002 سے 2007 تک بھارت کے صدر کے عہدے پر فائز رہے۔ قبل ازیں انہوں نے اپنے ملک کے ایٹمی پروگرام میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ انھیں بھارت کے میزائل پروگرام کا خالق کہا جاتا تھا۔ سنا ہے کہ دوسروں کو چھوٹا کرنے کی کوشش میں بندہ خود ہی چھوٹا ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب بندہ بھی عبدالکلام جیسا درویش منش ہو جس کے صدارتی محل میں اس کے بے شمار رشتے دار ایک بس میں بھر کر ملنے آ گئے تھے تو اس نے ان کی رہائش کیا، ان کی چائے کی ایک ایک پیالی کا بل خود اپنی جیب سے ادا کیا تھا۔ ویسے اب تو یہ بھی یقین ہوتا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند درست دعوے ہی کرتے تھے۔(ش س م)