خانہ کعبہ کے اوپر سے کوئی بھی جہاز یا پرندہ کیوں نہیں گزر سکتا ۔۔۔؟ ایسے حقائق جو یقیناً اس سے پہلے آپ کے علم میں نہ ہونگے

لاہور (ویب ڈیسک) آخر خانہ کعبہ کے اوپر سے جہاز اور پرندے کیوں نہیں گزرتے؟ آپ کو یہ بھی بتایا جائے گا کہ کیا خانہ کعبہ زمین کے بلکل درمیان موجود ہے؟ اور جدید سائنس اس کے بارے میں کیا کہتی ہے؟ ہمیں معلوم ہے کہ مکہ مکرمہ اور خاص طور پر خانہ کعبہ کی حدود کے

اوُپر سے آج تک کوئی جہاز نہیں گزرسکا اور نہ ہی اس کی اجازت سعودی حکومت نے کسی کو دی ہے اور نہ ہی ایسا کبھی دیکھنے میں آیاہے۔آخر اس کے پیچھے وجوہات کیا ہیں؟ کیا وجوہات یہ ہیں کہ اس کےاُپر سے گزرنے والی ہر چیز جل جاتی ہےیا کوئی اور وجہ ہے؟ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خانہ کعبہ زمین کے سنٹر میں موجود ہے؟ زمین ایک بیضوئی نما(انڈے نما) شکل کی ہے اور کسی بھی بیضوئی نما چیز کا کوئی سینٹر نہیں ہوتا، اگر زمین فلیٹ ہو تو اس کا سینٹر دریافت کیاجاسکتا ہے، لیکن ایک گول چیز کا کوئی سینٹر نہیں ہوتا، جب آہ کسی بھی گول چیز کو دیکھتے ہیں تو اس کا درمیانی نقطہ تبدیل ہو جاتا ہے۔درحقیقت آپ اس کا کوئی یقینی سینٹر نہیں بنا سکتے۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ خانہ کعبہ اس زمین کے سیٹر میں موجود ہے تو یہ درست نہیں ہے۔زمین کو بنانے کےلیے جو ٹکڑا سب سے پہلے بنایا گیا تھا آج وہ ٹکڑا سعودی عرب کہلاتاہے یہ بات سائنسی اعتبار سے بھی درست ثابت کی جا چکی ہے۔دوسرا سوال ایہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خانہ کعبہ کے اوپر سے کوئی جہاز یا پھر کوئی پرندہ گزر سکتا ہے؟

آپ نے کئی بار یہ سنا ہوگا کہ خانہ کعبہ کے اوپر سے ایک جہاز یا پرندہ گزرہ جو کہ جل گیا یا تباہ ہو گیا۔یہ باتیں سننے میں تو اچھی لگتی ہیں مگر ان کے پیچھے کوئی تاریخی حقیقت نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کیا واقعی خانہ کعبہ کے اوپر سے کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جاتی؟سعودی حکام اور سعودی ایوی ایشن نے سختی سے پابندی لگا رکھی ہے کہ کسی بھی قسم کاکائی جہاز مکہ مکرمہ یا حجاز کی سر زمین کے اوپر سے نہیں گزر سکتا، اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ جو بھی عازمین جو حج یا عمرہ کیلئے جاتے ہیں ان کا جہاز سب سے پہلے ریاض لے جا یا جاتا ہے اور ریاض سے لوگوں کو بسوں اور ٹرینوں میں لے کر جاتے ہیں۔اس کی بڑی اور پہلی وجہ ہی ہے کہ اللہ پاک نے قرآن مجید میں غیر مسلموں کو پاک سر زمین میں داخل ہونے پر پابندی عائد کی ہے، اور دیگر آیات بھی موجود ہیں جو یہ ثابت کرتیں ہیں کہ مشرکین مدینہ اور مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔اس لئے کسی بھی مسافر طیارے کو حجاز کی سر زمین میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے ، کیوں کہ ہو سکتا

ہے کہ ان مسافروں میں کوئی غیر مسلم بھی موجود ہو ، اور یہ ہی ہے وجہ ہے کہ سر زمین حجاز کو دنیا بھر کی تمام ائیر لائینوں کیلئے نو فلائے زون قرار دیا گیا ہے۔دوسری طرف جن علاقون میں آئل ریفانریز موجود ہوتی ہیں وہاں بھی کسی فلائٹ یا جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں ملتی کیونکہ اگر کوئی جہاز وہاں گر گیا تو ایک بہت ہی خوفناک دھماکہ ہو گا۔مکہ مکرمہ ایک انتہائی اہم جگہ اور جہازوں کو اس کے اوپر یا قریب بھی آنے نہیں دیا جاتا کہ خدانخواستہ کوئی مشرکین یا کافر اور دہشتگردی کے عناصر جہاز کو ہائی جیک کر کے مسجد حرام میں لا کر مار دیں۔سعوی حکومت نے بھی پوری دنیا کو واررننگ جاری کی ہوئی ہے کہ اگر کسی نے بھی ایسا کرنے کی کوشش کی مزشائل مار کر وہ جہاز تباہ کر دیا جائے گا۔ کسی جہاز کو آنے کی اجازت نہیں ،اگر آپ دیکھیں کہ جہاں مکہ میں مسلمان جہاں عبادت کرتے ہیں اگر کوئی جہاز وہاں سے گزرے تو مسلمانوں کی عبادت میں خلل پیدا ہو جائے گا۔ابھی تک نا تو ایسا واقعہ ہونے دیا گیا ہے اور نہ کبھی دیکھا گیا ہے کہ کوئی جہاز گزرا جو جل گیا یا تباہ ہو گیا۔(ف،م)