You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > متفرق واقعات > مجھے کیوں نکالا ۔۔۔۔۔ لیاقت علی خان کے خاندان کے افراد کے ساتھ پاکستان میں ان دنوں کیا سلوک ہو رہا ہے ؟ جان کر آپ کو نواز شریف کے سوال کا جواب بھی مل جائے گا

مجھے کیوں نکالا ۔۔۔۔۔ لیاقت علی خان کے خاندان کے افراد کے ساتھ پاکستان میں ان دنوں کیا سلوک ہو رہا ہے ؟ جان کر آپ کو نواز شریف کے سوال کا جواب بھی مل جائے گا

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان کی ممتاز شخصیت اور صف اول کے صحافی و کالم نگار صحافی مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے کہ ملک میں موروثی سیاست کا آغاز ایوب خان نے کیا ،قائداعظم ،لیاقت علی خان اور حسین شہید سہروردی میں سے کسی نے موروثی سیاست کو پسند نہیں کیا۔ قائد اعظم نے جب مسلم لیگ کی صدارت چھوڑی تو کسی نے کہا کہ محترمہ فاطمہ جناح کو صدر بنادیا جائے اس بات پر قائد اعظم اس قدرغصہ میں آئے کہ وہ اجلاس سے واک آؤٹ کرگئے،

لیاقت علی خان کی اولاد میں سے کوئی بھی سیاست میں نہیں آیا ان کے پوتے پڑپوتے تو آج تک وہ جائیداد حاصل نہیں کرسکے جو ان کو الاٹ ہوئی تھی۔ اس پر ایک سیاستدان قابض ہے اور وہ عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسد اللہ خان کی کتاب ’’مجھے کیوں نکالا نواز شریف کے فوج سے اختلافات‘‘کی تقریب رونمائی کے موقع پر کیا۔ تقریب میں شرکت کرنے والے دیگر معزز مہمانوں میں جنرل(ر)ضیاء الدین بٹ ،بریگیڈیئر (ر)فاروق حمید،سہیل وڑائچ،عارف نظامی،فرخ سہیل گوئندی،ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور،حبیب اکرم،اجمل جامی اور مریم فرمان کے نام نمایاں ہیں۔مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے لئے سیاستدانوں نے کیا کردار ادا کیا اور فوجیوں نے کیا کردار ادا کیا ۔اس کتاب میں بہت کم باتیں ایسی ہیں جن سے اختلاف کیا جا سکے اسد اللہ خان نے یہ بات مان لی ہے کہ نواز شریف جہاں تک پہنچے ہیں وہ فوج کی وجہ سے ہی پہنچے ہیں ۔اقامہ اور پانامہ تو ایک بہانہ ہے ۔اس کتاب کے حوالے سے زیادہ تر مقررین نے گفتگو اپنے خیالات پر کی ہے۔پاکستان میں اب یہ رواج ہو گیاہے کہ سیاستدانوں اور فوجی افسروں نے کتابیں لکھی ہیں ۔اس کتاب میں تعصب نظر نہیں آتا ۔

یہ بہت عمدہ کتاب ہے اس کا عنوان بھی زبردست ہے ۔ایوب خان کا پہلا مارشل لاہے جو نظریاتی ہے ۔انہوں نے ملک میں رائج پارلیمانی نظام کو نہیں مانا۔جبکہ دیگر مارشل لاء اس لئے لگے کہ ہم جمہوریت کو ٹھیک کرنے آئے ہیں اور آئین کو معطل کرتے رہے بعد میں بحال کردیا، مارشل لاء لگانے والوں نے وہی کیا جو سیاستدان کرتے ہیں۔میں نے نواز شریف سے کہا تھا کہ کیا یہ مناسب تھا کہ آپ نے ملک سے باہر گئے ہوئے کمانڈر انچیف کو ایسے نکالا جیسے کوئی چپراسی کو بھی نہیں نکالتا میری بات کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا پرویز مشرف سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی کہا کہ دیکھیے جناب کوئی کمانڈر انچیف کو ایسے نکالتا ہے ایسے تو کوئی چپراسی کو بھی نہیں نکالتا تو میں نے کہا کہ کوئی وزیر اعظم کو بھی ایسے نہیں نکالتا ۔لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف کے دل سے آرمی والوں کے لئے کینہ نہیں جا رہا تو میں کہتا ہوں کہ جب فوج کے دل سے کینہ نہیں جا رہا تو ان کے دل سے کیسے جائے گا۔ جنرل(ر) ضیاء الدین بٹ نے کہا کہ اسد اللہ خان نے کتاب لکھنے کے دوران کئی بار مجھ سے مشاورت کی اس کتاب میں نواز شریف اور فوج کے درمیان تعلقات کو بہت بہتر انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔

بریگیڈیئر (ر)فاروق حمید نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ وہ فوج کے ساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن شپ نہیں رکھ سکے ۔نوازشریف اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان کارگل کا واقعہ وجہ تنازعہ بنا وہ اس حد تک بڑھا کہ 12اکتوبر 1999 ء کو ان کو ہٹا دیا گیا۔نواز شریف کو ایک بار صدر ،دوسری بار آرمی چیف اور تیسری بار سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کے عہدہ سے ہٹایا ۔ان کے موجودہ دور میں ڈان لیکس اور دیگر واقعات ہوئے ان کی بیٹی مریم نواز بھی 12اکتوبر سے اپنے آپ کو باہر نہیں لا سکیں ۔ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمورنے کہاکہ اسد اللہ خان نے بہترین کتاب لکھی اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ملکی سیاست میں آرمی کے کردار سے انکار ممکن نہیں ، ایک میان میں دو تلواروں کو رکھ کر ہی ہم چل سکتے ہیں ۔نوا شریف اگر فوج،عدلیہ اور بیوروکریسی کے ساتھ بہتر تعلقات رکھ کر نہیں چل سکتے تو ان کو جانا ہی تھا، ہر بار دوسرے غلط نہیں ہوسکتے۔سہیل وڑائچ نے کہا کہ پاکستان میں چیزیں چھپائی جاتی ہیں۔عارف نظامی نے کہا اسد اللہ خان نے بہترین اور جامع کتاب لکھی ہے، اگر ہر کوئی اپنے اپنے دائرہ کار میں چلے تو معاملات کبھی خراب نہ ہوں۔ فرخ سہیل گوئندی،حبیب اکرم اور دیگر مقررین نے بھی ملے جلے خیالات کا اظہار کیا۔(ش س م)


Top