تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد ۔۔۔۔ اسامہ بن لادن اپنی وفات سے چند روز قبل مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے کس طرح کی منصوبہ بندی کر چکے تھے ؟ رلا دینے والا انکشاف

لاہور (انتخاب : شیر سلطان ملک ) سینیئر صحافی اور کالم نگار حامد میر اپنے ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔میں نے خود بلال ٹائون ایبٹ آباد جاکر اس کی تحقیقات کیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اُسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں ہی موجود تھے۔ لیکن ان کی وہاں موجودگی سے پاکستانی فوج یا خفیہ ادارے لاعلم تھے۔ بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ پھر اُسامہ بن لادن نے اسی جگہ کا انتخاب کیوں کیا؟

اس کا انتخاب اس لیے کہ اس طرح کی جنگ کرنے والے ہمیشہ اپنے دشمن کی نفسیات سے کھیلتے ہیں۔ وہ ایسا کچھ کرتے ہیں جس کا دشمن سوچ بھی نہ سکے۔ پرویز مشرف، پاکستان کی ریاست اور اسٹبلشمنٹ اُسامہ بن لادن کی دشمن تھی۔ ان کا خیال تھا کہ پاکستانی فوج سوچ بھی نہیں سکتی کہ میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے بالکل قریب ایک گھر میں آرام کی زندگی بسر کررہا ہوں۔ اُسامہ وہاں پر کیوں گئے؟ اس لیے بھی کہ وہاں ریاست نے کچھ ”گڈ طالبان“ کو پناہ گاہیں مہیا کی تھیں۔ زین الدین محسود، جو بیت اللہ محسود کے خلاف استعمال ہورہا تھا، وہاں اس کے خاندان کو رہنے کے لیے جگہ دی تھی۔ کچھ اور بھی لوگ تھے جن کا وہاں آنا جانا لگا رہتا۔ لوگوں کو پتا تھا کہ یہاں کچھ طالبان رہتے ہیں، لیکن یہ اچھے طالبان ہیں، برے نہیں۔ اس کا فائدہ اُٹھاکر وہ بھی وہاں بیٹھے۔ اُسامہ بن لادن وہاں زیادہ عرصے سے نہیں تھے۔ اس سے پہلے وہ ہری پور کے کسی علاقے میں چھپے تھے۔ اس سے بھی پہلے شوال میں اور افغانستان کے صوبے کنڑ میں رہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایبٹ آباد آپریشن دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کی ایک بڑی ناکامی ہے۔

افغانستان کے راستے سے غیرملکی فوج ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر آئی، آپریشن کیا، بندہ مارا اور اُٹھاکر لے گئے، پوری دنیا میں ہم بدنام ہوئے۔ یہ ہماری نااہلی ضرور ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ میں کہوں کہ وہاں ان کی موجودگی سے ریاست بے خبر تھی۔ یہ ملی بھگت نہیں تھی۔ اُسامہ بن لادن کے ساتھ انٹرویو کے سلسلے میں جو میری آخری ملاقات ہوئی، اس میں انہوں نے بار بار پاکستان حکومت اور فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ جو پیغامات اور بیانات جاری ہوتے رہے، اس سے بھی یہی پتا چلتا ہے کہ فوج یا اداروں کے ساتھ ان کا گٹھ جوڑ یا اتحاد نہیں تھا۔ یہ دونوں کے مفاد میں بھی نہیں تھا۔ یہ بات غلط ہے۔ اُسامہ بن لادن کو امریکا نہیں لے کر آیا تھا۔ انہوں نے کبھی سی آئی اے سے رابطہ بھی نہیں رکھا۔ اُسامہ 1979ء میں اپنی مرضی اور شیخ عبداللہ عزام کی ترغیب سے افغانستان آئے۔ جہاں تک میرا علم اور میری معلومات ہیں، وہ افغانستان اس مقصد کے ساتھ آئے تھے کہ اسے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کریں اور آخر کار انہوں نے بیت المقدس کی آزادی کے لیے جنگ میں حصہ لینا تھا۔ یہ ان کا ایک لانگ ٹرم منصوبہ تھا۔

ہم کیونکہ آج کل شارٹ ٹرم سیاست اور شارٹ ٹرم جرنل ازم سے گزر رہے ہیں، تو ہم نے کبھی گہرائی میں جاکر ان کی شخصیت کا جائزہ نہیں لیا۔ میں کافی سالوں سے اُسامہ بن لادن پر کتاب لکھ رہا ہوں، مجھے ابھی تک شائع کرنے کا موقع نہیں ملا، لیکن اگر وہ شائع ہوگئی تو اُسامہ بن لادن کی زندگی کے ایسے بہت سے چھپے ہوئے پہلو سامنے آجائیں گے۔ پھر آپ کو ایک اور بات بتائوں۔ مجھے اُسامہ بن لادن نے جب پہلا انٹرویو 1997ء میں دیا۔ اس میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان، افغانستان، ایران اور چین، ان چار ملکوں کا اتحاد قائم کیا جائے۔ جو شخص 1997ء میں یہ بات کررہا ہے، وہ امریکی ایجنڈے پر کیسے چل سکتا ہے؟ 1998ء میں جب خوست میں ان کے مرکز پر حملہ ہوا تو کچھ امریکی میزائل پھٹنے سے بچ گئے۔ وہ میزائل اسامہ بن لادن نے طالبان حکومت کے ذریعے چین بھجوادئیے کہ یہ ہمارے کسی کام کے نہیں، آپ ذرا دیکھیں کیا ٹیکنالوجی ہے؟ اسی طرح چین کے صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں کی تحریک چل رہی ہے۔ کچھ لوگوں نے کوشش کی کہ القاعدہ اور طالبان اس میں ملوث ہوجائیں۔ اُسامہ بن لادن ان لوگوں میں تھے جنہوں نے طالبان اور کچھ پاکستانی عسکریت پسندوں سے کہا کہ آپ سنکیانگ مزاحمت سے دور رہیں۔