You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > متفرق واقعات > مسلمان سائنسدانوں کی ایسی ایجادات جن پر مغرب قابض ہو گیا ۔پڑھیے اپنے اسلاف کے سائنسی میدان میں ناقابل یقین کارنامے

مسلمان سائنسدانوں کی ایسی ایجادات جن پر مغرب قابض ہو گیا ۔پڑھیے اپنے اسلاف کے سائنسی میدان میں ناقابل یقین کارنامے

تاریخ کا سب سے پہلا کیمیا دان اور عظیم مسلمان سائنسدان جابر بن حیان جس نے سائنسی نظریات کو اپنے عروج تک پہنچا دیا۔ دنیا آج تک اسے بابائے کیمیا کے نام سے جانتی ہے۔ جابر بن حیان کو کیمیا کا بانی کہا جاتا ہے۔ وہ کیمیا کے تمام عملی تجربات سے نہ صرف واقف تھے بلکہ اس پر مکمل عبور بھی رکھتے تھے۔

علم حاصل کرنے کے دوران انہوں نے اپنے ارد گرد کے لوگوں کو سونا بنانے کے جنون میں مبتلا دیکھا تو خود بھی یہ روش اپنا لی۔ کافی تجربات کے بعد بھی وہ سونا تیار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ لیکن کیمیا میں حقیقی دلچسپی کی وجہ سے انہوں نے تجربات کا سلسلہ ختم نہ کیا۔ انہوں نے اپنے والد کے آبائی شہر کوفہ میں اپنی تجربہ گاہ تعمیر کی۔ خلیفہ ہارون رشید کے وزیروزیر یحییٰ برمکی کی چہیتی بیوی شدید بیمار ہوئی، بہت سے علاج کے بعد بھی شفا نہ ہوئی جب یحییٰ اس کی زندگی سے مایوس ہوگیا تو مشورتاً اس نے ایک حکیم سے رجوع کیا۔ اس حکیم نے صرف ایک دوا’’ دو گرین‘‘ تین اونس’’ شہد‘‘ میں ملا کر ایک گھونٹ پلائی۔ آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں مریضہ پہلے کی طرح صحت یاب ہوگئی۔ یہ دیکھ کر یحییٰ برمکی اس حکیم کے گرویدہ ہوگئے اس حکیم نے بقیہ دوا بھی اسے دے دی۔ یہ حکیم جابر بن حیان ہی تھا جس کی طبیبانہ مہارت نے حاکمِ وقت کے دل میں گھر کر لیا۔ وہ ہمہ وقت کسی نہ کسی سوچ اور تجربے میں منہمک رہتے۔ گھر نے تجربہ گاہ کی صورت اختیار کر لی۔ سونا بنانے کی لگن میں انہوں نے بے شمار حقائق دریافت کئےاور متعدد ایجادات کیں۔ جابر بن حیان نے اپنے علمِ کیمیا کی بنیاد اس نظریئے پر رکھی کہ تمام دھاتوں کے اجزائے ترکیبی ’’گندھک ‘‘اور ’’پارہ‘‘ ہیں۔ مختلف حالتوں میں اور مختلف تناسب

میں ان دھاتوں کے اجزائے ترکیبی ملنے سے دیگر دھاتیں بن سکتی ہیں۔ ان کے خیال میں دھاتوں میں فرق کی بنیاد اجزائے ترکیبی نہیں بلکہ ان کی حالت اور تناسب تھا۔ لہٰذا معمولی اور سستی دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرنا ممکن تھا، ان میں مشاہدہ ذہانت لگن اور انتھک محنت کرنے کی صلاحیت بدرجہ اْتم موجود تھی۔جابر بن حیان ’’ قرع النبیق‘‘ نامی ایک آلہ کے بھی موجد تھے جس کے دو حصے تھے۔ ایک حصہ میں کمیائی مادوں کو پکایا جاتا اور مرکب سے اٹھنے والے بخارات کے ذریعہ آلہ کے دوسرے حصہ میں پہنچا کر ٹھنڈا کر لیا جاتا تھا۔ یوں وہ بخارات دوبارہ مائع حالت اختیار کر لیتے، کشیدگی کا یہ عمل کرنے کے لئے آج بھی اس قسم کا آلہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا موجودہ نام ’’ ریٹاٹ‘‘ ہے۔ ایک دفعہ کسی تجربے کے دوران ’’ قرع النبیق‘‘ میں بھورے رنگ کے بخارات اْٹھے اور آلہ کے دوسرے حصہ میں جمع ہو گئے جو تانبے کا بنا ہوا تھا۔ حاصل شدہ مادہ اس قدر تیز تھا کہ دھات گل گئی، جابر نے مادہ کو چاندی کے کٹورے میں ڈالا تو اس میں بھی سوراخ ہوگئے، چمڑے کی تھیلی میں ڈالنے پر بھی یہی نتیجہ نکلا۔جابر نے مائع کو انگلی سے چھوا تو وہ بھی جل گئی۔ اس کاٹ دار اور جلانے کی خصوصیت رکھنے والے مائع کو انہوں نے ’’ریزاب‘‘ کا نام دیا۔ جس کو آج ہم تیزاب کہتے ہیں۔ پھر اس تیزاب کو دیگر متعدد دھاتوں پر آزمایا لیکن سونے اور شیشے کے علاوہ سب دھاتیں گل گئیں۔ جابر بن حیان مزید تجربات میں جْٹ گئے۔ آخر کار انہوں نے بہت سے کیمیائی مادے مثلاً گندھک کا تیزاب اور ایکوار یجیا بنائے۔ حتیٰ کہ انہوں نے ایک ایسا تیزاب بنایا جس سے سونے کو بھی پگھلانا ممکن تھا۔اس کے علاوہ لوہے کو زنگ سے بچانے کے لئے لوہے پر وارنش کرنے، موم جامہ بنانے، خضاب بنانے کا طریقہ دریافت کیا۔


Top