You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > متفرق واقعات > دبئی کے شیخ محمد بن راشد المختوم نے 1976ءمیں دبئی کے بارے میں ایسا کیا کہا تھا جو من وعن پورا ہو رہا ہے ؟پڑھیے ایک دلچسپ رپورٹ

دبئی کے شیخ محمد بن راشد المختوم نے 1976ءمیں دبئی کے بارے میں ایسا کیا کہا تھا جو من وعن پورا ہو رہا ہے ؟پڑھیے ایک دلچسپ رپورٹ

شیخ محمد بن راشد المختوم نے 1976ءمیں پیشن گوئی کی تھی ”دبئی 2000ءتک دنیا کی جدید اور مضبوط ترین ریاست ہو گی اور پوری دنیا سے لوگ یہاں آ کر آباد ہوں گے“ ان کا یہ بیان اس وقت برطانیہ کے اخبارات میں شائع ہوا تھا اور جس شخص نے بھی یہ بیان پڑھا تھا اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی

یہ مسکراہٹ بجا تھی .اس وقت دبئی دنیا کی پسماندہ ترین ریاست تھی . پورے شہر کا کل رقبہ 20 مربع کلومیٹر تھا .شہر میں صرف ایک تھری سٹار ہوٹل اور ایک بڑی سڑک تھی . لوگ اونٹوں اور گدھا گاڑیوں پر سفر کرتے تھے اور شہر میں پینے کا پانی تک دستیاب نہیں تھا لہٰذا اس وقت ایک ایسے شہر کے بارے میں یہ دعویٰ یقیناً مذاق اڑانے کے مترادف تھا .تھا . برطانیہ کے ایک اخبار کے رپورٹر نے شیخ سے اس خدشے کا اظہار بھی کیا لیکن اسکے جواب میں شیخ محمد نے جو واقعہ سنایا اس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا . شیخ نے فرمایا ”ہم نے دبئی میں نئی پولیس تشکیل دی ہے. کل میں اپنی گاڑی چلاتا ہوا اپنی ہمشیرہ کے گھر گیا . میں نے غلطی سے نو پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر دی. میں جب واپس آیا تومیری گاڑی کے ٹائر پر پولیس کا ”کلپ“ چڑھا تھا . میں نے آگے پیچھے دیکھا . دور سائے میں ایک پولیس کانسٹیبل کھڑا تھا . میں نے اشارے سے اسے بلایا. وہ آیا . اس نے مجھے سلیوٹ کیا . میں نے اس سے پوچھا . گاڑی پر کلپ تم نے لگایاہے .اس نے اثبات میں سر ہلا دیا

میں نے اس سے کہا .تم مجھے نہیں جانتے. اس نے ہاں میں سر ہلا کر جواب دیا . آپ ہمارے شیخ ہیں ¾ میں نے کہا .تم میری گاڑی نہیںپہچانتے تھے .اس نے ہاں میں گردن ہلائی اور احترام سے بولا . میں پہچانتا ہوں ¾میں نے پوچھا . پھر تم نے میری گاڑی پر کلپ کیوں لگایا. اس نے سینہ تان کر جواب دیا ¾ آپ کی گاڑی غلط جگہ پر پارک تھی اور دبئی میں شیخ ہو یا کوئی ویٹرقانون سب کے لئے برابر ہے ¾ مجھے اس کی بات بہت اچھی لگی لہٰذا میں آج اس پولیس کانسٹیبل کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرتا ہوں ہمارے ملک کا کل بہت روشن ہے اور اگر ہمارےملک میں اس طرح قانون کی حکمرانی رہی تو اگلے 25 برسوں میں دبئی دنیا کی جدید ترین ریاست ہو گا“ شیخ کا جواب سن کر وہ صحافی خاموش ہو گیا .شیخ محمد کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی اور ٹھیک 25 برس بعددبئی یورپین سٹائل کا پہلا ایشین شہربن گیا . آج آپ دبئی جائیں تو آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ نیو یارک . لندن یا ٹوکیو میں گھوم رہے ہیں اور جیسے آپ جدید دنیا کے کسی جدید ترین شہر میں آ گئے ہیں

.آج جب بھی کوئی شخص شیخ محمد بن راشد المختوم کے سامنے دبئی کی تعریف کرتا ہے تو وہ 1976ءکے اس پولیس کانسٹیبل کا نام لیتے ہیں اور اس کے بعد فخر سے کہتے ہیں ”دبئی کو دبئی اس کانسٹیبل نے بنایا تھا۔“انسان کی دس ہزار سالہ تاریخ اس نقطے پر متفق ہے جب تک کسی شہر. کسی معاشرے اور کسی ملک میں قانون اور اس کے بعد انصاف قائم نہیں ہوتا اس وقت تک وہ ملک ترقی نہیں کرتا . آپ دنیا کے کسی جدید اور ترقی یافتہ ملک کو دیکھ لیں آپ کو اس ملک کی ترقی کے پیچھے پولیس کا مضبوط نظام اور فوری اور غیرجانبدارانہ عدالتی سسٹم ملے گا ‘اسی طرح آپ تمام تباہ شدہ . برباد اور انحطاط پذیر معاشروں کا تجزیہ کرلیں .آپ کو ان تمام معاشروں میں ایک بات مشترک نظر آئے گی اور وہ بات قانون اور انصاف کا کمزور اور بے بس نظام ہو گا .آپ کو معلوم ہو گا ان تمام ملکوں کی عدالتیں بے بس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کرپٹ ہیں . ان ملکوں کے بااختیار لوگ قانون کو کھیل اور عدالتوں کو کھلونا سمجھتے ہیں اور وہاں کی پولیس اور عدالتیں حکمران کلاس کی انا اور مفادات کی حفاظت کر رہی ہیں ¾ مجھے اچھی طرح یاد ہے

رونلڈ ریگن کے دور میں امریکہ میں ایک بڑی سطح کا سروے ہوا تھا . اس سروے میں لوگوں سےپوچھا گیا تھا ”ہم سپر پاور کیوں ہیں“ اس وقت نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی فوج . سب زیادہ ایٹمی ہتھیار . سب سے بڑی سٹاک ایکسچینج .سب سے بڑا میڈیا . سب سے زیادہ مالیاتی ذخائر .سب سے بڑی انڈسٹری . سب سے زیادہ انجینئر ¾سب سے زیادہ ڈاکٹر . سب سے زیادہ سائنس دان اور سب سے زیادہ یونیورسٹیاں امریکہ میں تھیں بلکہ اس وقت امریکہ نے سوویت یونین کو تازہ تازہ شکست بھی دی تھی لیکن جب سروے کے نتائج آئے تو امریکہ کے 81 فیصد لوگوں کی متفقہ رائے تھی ”امریکہ کو اس کے قانون اور انصاف نے سپرپاور بنایا“ اس سروے کے بعد رونلڈ ریگن نے بڑا مشہور بیان دیا تھا‘انہوں نے کہا تھا ”اور جب تک امریکہ میں قانون اور انصاف کا احترام باقی رہے گا اس وقت تک امریکہ دنیا کی سپر پاور رہے گا“ ریگن کا یہ بیان پاکستانی اخبارات میں بھی شائع ہواتھا‘میں اس وقت میٹرک کا طالب علم تھا. میرے لئے ریگن کی بات حیران کن اور ناقابل یقین تھی لیکن جب آنے والے دنوں میں مجھے دنیا میں گھومنے پھرنے کاموقع ملا اور میں

نے قوموں کے عروج و زوال کا تجزیہ کیاتو مجھے معلوم ہوا جب کسی قوم میں قانون محترم ہوتا ہے . جب کسی ملک میں لوگوں کو فوری اور غیر جانبدار انصاف ملتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس ملک کو ترقی کرنے سے نہیں روک سکتی اور جب کسی ملک میں قانون اور انصاف کا مذاق شروع ہو جاتا ہے . جب کسی معاشرے میں قانون سیاستدانوں . حکمرانوں اور مافیا لارڈز کے دروازے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا ہے اورجب انصاف حکمرانوں کے گھر کی لونڈی بن جاتاہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس معاشرے کو برباد ہونے . اسے کھنڈر بننے سے نہیں بچا سکتی . مجھے معلوم ہوا قانون اور انصاف وہ بنیادی پتھر ہوتے ہیں جن پر معاشروں کی دیواریں . چھتیں . گنبد اور مینار تعمیر ہوتے ہیں .یہ بنیاد کے وہ پتھر ہوتے ہیں جن پر عروج اور ترقی کے قبلے تعمیر ہوتے ہیں . یہ وہ بنیادی اصول ہوتے ہیں جو قوموں کے آنے والے سورج تراشتے ہیں اور یہ وہ کھیت ہوتے ہیں جن میں معاشروں کے مستقبل کاشت ہوتے ہیں۔آپ بنیاد کے ان پتھروں اور تنزلی اور ترقی کے ان اصولوں کو سامنے رکھ کر پاکستان کے مستقبل کا اندازہ لگا سکتے ہیں‘ ذرا سوچئے جس ملک میں کانسٹیبل سے لے کر آئی جی تک کی زندگی کا مقصد حکمران طبقے کی حفاظت ہواور جس کی کسی عدالت میں انصاف نہ ملتا ہو.اس ملک کا کیا مستقبل ہوگا. ذرا سوچئے جس ملک میں قانون بنانے والے ارکان اسمبلی قانون نافذ کرنے والوں کو سڑکوں پر لٹا کر ٹھڈے مار رہے ہوں اور عدالتیں اس واقعہ پرخاموش بیٹھی ہوں‘ اس ملک کا کیا مستقبل ہو گا .اس ملک کا کیا کل ہوگا ؟ میں جب بھی ایسےواقعات دیکھتا ہوں تومجھے محسوس ہوتا ہے ہم لوگ گارے کی دیوار پر چڑھ کر چاند کو چھونے کی کوشش کر رہے ہیں .ہم لوگ جوہڑ کے کنارے بیٹھ کر ہنسوں کا انتظار کر رہے ہیں .ہم روڑیوں میں لعل تلاش کر رہے ہیں اور ہم لوگ ایک لا قانون اور بے انصاف معاشرے میں رہ کر اللہ کی نصرت اور اللہ کے کرم کی دعائیں مانگ رہے ہیں , مجھے محسوس ہوتا ہے ہم اکیسویں صدی کے شیخ چلی ہیں۔اقتباس زیرو پوائنٹ (جاوید چوہدری)


Top