You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > متفرق واقعات > 32 سال کی عمر کے بعد عورت کو اچھا شوہر نہیں ملتا۔۔۔۔۔ مگر کیوں اور کیسے ؟ پڑھیے ایک شاندار تحریر

32 سال کی عمر کے بعد عورت کو اچھا شوہر نہیں ملتا۔۔۔۔۔ مگر کیوں اور کیسے ؟ پڑھیے ایک شاندار تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہماری عمر کا ایک خاص حصہ ہماری زندگی کے مختلف موڑ کا تعین کرتا ہے۔ ہمارے ہاں صحیح وقت پر شادی کرنا بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ صحیح وقت کا فیصلہ کون کرے گا؟ زیادہ تر یہ فیصلہ معاشرہ اور خاص طور پر ہمارے رشتہ دار اور دوست کرتے ہیں۔ جب آپ ایک خاص عمر کو پہنچتے ہیں تو

نامور خاتون صحافی اور مضمون نگار عاشین پرویز اپنی ایک خصوصی تحریر میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہر موقع پر کوئی نہ کوئی آپ کو ہلا کر، مشورے دے کر ، سوالات پوچھ کر اور دوسرے طریقوں سے یاد دلاتا ہے کہ آپ کے لیے وہ وقت آ گیا ہے جب آپ کو بڑا فیصلہ کر لینا چاہیے۔ آپ کی مرضی، رائے یا جنسی جسامت(سیکشول اورینٹیشن) کو اس معاملے میں کوئی اہمیت نظر نہیں آ رہی ہوتی۔ جہاں تک سیکسول اورینٹیشن کا تعلق ہے، سوسائیٹی میں ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ انسان اس معاملے میں سٹریٹ ہو۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری آپشن نہیں ہے۔ لیکن اصلا ایسا بلکل نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک عجیب چیز سمجھا جاتا ہے اور جوان نسل پر ایک خاص اثر چھوڑتا ہے۔ انسان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس لیے آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ آپ اس بلی کو بیگ سے نکال نہیں سکتے۔ ہمیں کسی صورت اس بارے میں بات تک کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اگر آپ اپنا خود ساختہ راستہ چننا چاہیں جس کے لیے آپ کی توانائی اور آپ کی زندگی کا بڑا حصہ درکار ہے، اس لیے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کے پاس شادی کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی نہ ہو۔ یا پھر آپ کسی بندھن میں بند ھنا نہیں چاہتے ہیں کیونکہ آپ کا کوئی ساتھ شادی کے تجربہ سے بہت بری طرح متاثر ہوا ہے، آپ کو لگتا ہے کہ آپ شادی کے لیے نفسیاتی طور پر ابھی تیار نہیں ہیں یا آ پ فی الحال اس راستہ کا انتخاب نہیں کرنا چاہتے۔ شادی کا مسئلہ انسان کا ذاتی مسئلہ ہونا چاہیے اور دوسروں کو اس معاملے میں ٹانگ نہیں اڑانی چاہیے۔

اپنی بہن، بیٹی، دوست یا کسی بھی لڑکی کے لیے فکر مند ہونا ایک قابل تعریف بات ہے لیکن شور مچانے اور فکرمند ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ شادی کے معاملے میں ہم میں سے زیادہ تر لوگ اس فرق کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میں ایک قریبی ساتھی کے ساتھ ہسپتال گئی اور رجسٹریشن کرواتے وقت ہمیں مریض کی عمر کے بارے میں پوچھا گیا ۔ جب اس نے بتایا کہ وہ 32 سال کی ہیں تو اہلکار نے ان سے خاوند کا نام پوچھا۔ اس سے میرے ذہن میں خیال آیا کہ ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ 32 سال کی لڑکی کی شادی ہرصورت میں ہو جانی چاہیے۔ بہت سی خوبصورت خواتین ایسی بھی ہیں جو ایک خاص وقت کے اندر شادی کر لینے میں ہی خیر سمجھتی ہیں۔ ایک عورت کو اپنی دوستوں کے مشورے کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنے چاہیے کیونکہ آپ اب 30 سال کی عمر کے قریب پہنچ چکی ہیں یا آپ کو ڈر ہے کہ آپ کو بعد میں شاید اچھا شوہر نہ ملے۔ آپ شادی اپنی مرضی سے کریں اور اپنے مقاصد کو نظر میں رکھ کر کریں۔ شادی ایک اچھا اور مقدس رشتہ ہے ۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جو انسان کو اپنی مرضی سے اور اپنے مقاصد کو سامنے رکھ کر شروع کرنا چاہیے۔

یہ گراف میں ایک موڑ کے برابر ہے جو کبھی آسانیاں پیدا کرتا ہے اور کبھی مشکلات کے پہاڑ کی طرف لے جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ عزت اور محبت جیسا رشتہ ہے کیونکہ ہم اسے زندگی بھر کا سب سے بڑا معاہدہ سمجھتے ہیں۔ اسی لیے انسان کو یہ بڑا فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ ہر شخص کو عمر کے ایک حصے میں کسی ساتھی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور کبھی کبھار ہمارا خاندان ہمارے لیے یہ ضرورت محسوس کرتا ہے۔ میں نے بہت سی ایسی شادیوں کے بارے میں سنا ہے جہاں لوگ یہ فیصلہ کرنے میں بہت وقت لگاتے ہیں اور کئی بار انہیں کوئی مطلوبہ ساتھی نہیں مل پاتا۔ وہ ایسی شادی میں اس لیے راضی ہوتے ہیں کہ ان کا خاندان، رشتہ دار یا ساتھی انہیں اس کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس طرح کی شادیاں انسان پر پہاڑ بن کر بھی ٹوٹتی ہیں اور ان چاہا بوجھ آپ پر آن پڑتا ہے کیونکہ آپ اس لیے شادی کے لیے رضا مند ہوتے ہیں کہ ایک دن تو شادی کرنی ہی ہے تو کیوں نہ ابھی کر لی جائے۔ شادی اس لیے کبھی مت کریں کہ ایک دن کرنی ہی ہے۔ یہ کوئی بھی ضابطہ یا اصول نہیں ہے کہ 27 سال کی عمر سے قبل شادی کرنی ضروری ہے۔ آج کل کی عورتیں خود مختار ہوتی ہیں۔ وہ ماضی کے مقابلے میں اپنے فیصلے میں زیادہ آزادی رکھتی ہیں۔

شادی دو روحوں کا میل ہوتا ہے جسے ہر مذہب میں تقدس کا حامل رشتہ سمجھا جاتا ہے۔ اسے کبھی اپنے لیے بیڑی مت بنائیں۔ آپکا شادی شدہ ہونا یا نہ ہونا آپ کی پہچان نہیں کہلاتا۔ یہ صرف آپ کی موجودگی کو خوبصورتی بخشتا ہے۔ کبھی کسی کو اپنے آپ پر تنقید کرنے یا اپنے کردار کا خون کرنے کا موقع مت دو کیونکہ کسی بھی لائف پارٹنر کے بغیر زندگی گزارنے کا فیصلہ آپ کا اپنا ہے۔ آپ خدا کی سب سے خوبصورت اور مضبوط تخلیق ہو ۔ آپ کو اس دنیا میں ایک نئی زندگی پیدا کرنے کا حق ہے اس لیے یہ حق کسی کو چھیننے مت دو۔ لوگ باتیں کریں گے کیونکہ لوگوں کو باتیں کرنا ہی آتا ہے۔ لیکن لوگوں کی باتیں اور تنقید آپ کے ذاتی فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے چاہیے۔ لوگوں کی باتوں سے تنگ آ کر یا ان کے ابھارنے پر آپ ایسا جذباتی قدم نہ اٹھائیں۔ جب آپ اس مقدس رشتے میں داخل ہوں گے تو لوگ آپ کو فیملی پلاننگ کے بارے میں پوچھیں گے، جب بچے پیدا ہوں گے تو سکول پھر کالج پھر یونیورسٹی کے بارے میں سوالات ہونگے۔ پھر بچے کے پروفیشن اور اس کی شادی کے بارے میں گفتگو شروع ہو جائیگی۔ یہ ایک پیچیدہ سائیکل ہے جو کبھی رکتی نہیں۔ آپ کا جلدبازی میں شادی کر لینا لوگوں کو باتیں کرنے اور سوالات پوچھنے سے نہیں روک سکتا۔ ایک وقت آئے گا جب آپ لوگوں کی تجاویز، مشوروں، بیانات اور تبصروں کا سامنا کریں گے لیکن کوئی آپ پر حکمرانی کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے کٹھ پتلی مت بننے دیں۔ اگر آپ کو شادی کرنے کی خواہش نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے آپ اس رشتے کے لیے ابھی تیار نہیں ہیں۔ شادی ہوئی ہے یا نہیں ہوئی ، آپ اس بات کو سر درد بنائے بغیر اپنی زندگی میں مگن رہیں۔ اپنا ہر فیصلہ اپنی مرضی سے کریں اور ایک خوشحال زندگی جئیں۔


Top