فیس بک کی پراسرار دنیا کے چند دنگ کر ڈالنے والے راز جن سے واقف ہونا آپ کے لیے بے پناہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے

لاہور (ویب ڈیسک )فیس بک کے نشے میں مبتلا دنیا اُس وقت ہوش میں آئی جب رابطوں کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے والی سوشل میڈیا سائٹ کی تاریخ کا بدترین سکینڈل منظر عام پر آیا،جس میں یہ معلومات سامنے آئیں کہ فیس بک کے کروڑں صارفین کے ڈیٹا کا غلط استعما ل کرکے سیاسی فوائد حاصل کیے گئے
، دراصل یہ کہانی نومبر 2016ءمیں امریکہ کے صدارتی انتخابات کے بعد شروع ہوئی جب فیس بک پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ اُس نے ان انتخابات میں ٹیکنیکل انداز میں ٹرمپ کی معاونت کی ۔اُس وقت تو فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے اس الزام کی سختی سے تردید کی تھی۔ لیکن اب اُنہوں نے پانچ کروڑ فیس بک صارفین کے ڈیٹا کو غلط استعمال کرنے پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ اُنہوں نے فیس بک بنائی اور صارفین کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اُنہی پر عائد ہوتی ہے اگر وہ یہ کام نہیں کر سکتے تو اُنہیں یہ کام چھوڑ دینا چاہیئے۔اب ہم اپنے قارئین کو فیس بک کی تاریخ کے بدترین بحران کے پس منظر اور موجودہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہیں۔جس کے بعد صارفین کی بڑی تعداد یہ جاننا چا ہتی ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں کس حد تک ان کی ذاتی معلومات حاصل کرتی ہیں؟ہلیری کلنٹن کو ٹیکنیکل انداز میں شکست دینے میں فیس بک کاکردار امریکہ میں فیس بک خبروں کے حصول کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے ۔2016ءکے امریکی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی جیت اور ہلیری کلنٹن کی شکست کے بعد یہ باتیں ہوئیں کہ ان انتخابات میں روس نے مداخلت کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کی راہ ہموار کی تھی،اس مقصد کے حصول کےلئے ایسی گراﺅنڈ تیار کی گئی جسے” ٹیکنیکل انداز میں دھاندلی“ قرار دیا جا سکتا ہے۔اُس وقت سوشل نیٹ ورک ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اس تنقید پراپنا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ
اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ فیس بک پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں سے ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات میںمدد ملی تھی۔کیلیفورنیا میں ایک ٹیکنالوجی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے زکربرگ کا کہنا تھا کہ اس کا ذمہ دار فیس بک کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔خیال رہے کہ اعداد و شمار سے یہ امر سامنے آیا تھا کہ فیس بک پر بڑے پیمانے پر ایسی جعلی خبریں شیئر کی گئی تھیں ،دوسرے جانب ان کی تردید زیادہ شیئر نہیں کی گئی۔دراصل فیس بک کی ‘نیوز فیڈ’ ایسے انداز میں ڈیزائن کی گئی ہے کہ وہ سب سے پہلے وہ چیزدکھاتی ہے جس کے بارے میں اُسکا خودکار نظام یہ سمجھتا ہے کہ صارفین اس میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ فیس بک کے عملہ پر یہ الزام بھی عائد کیا جا چکا ہے کہ یہ لوگوں کے ‘ٹرینڈنگ باکس’ میں لبرل خبریں دکھانے کے لیے طرفداری کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔ مارک زکربرگ فیس بک کے حوالے سے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ میرا مقصد یہ ہے کہ ہم کھلے روابط کی ایک دنیا بنا سکیں۔ اس کے لیے نیوز فیڈ کا ایک اچھا ورژن بنانے کی ضرورت ہے اور ہم فیس بک میں مزید بہتری لاتے رہیں گے۔دوران تقریب مارک زکربرگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے حوالے سے پراُمید خیال پیش کیا کہ ان کے صحت عامہ اور روابط کو بہتر بنانے کے مقاصد کے لیے حکومت کا تعاون ضروری نہیں ہے۔نتیجتاً وہ خبریں جو بعد میں جعلی ثابت ہوئیں بڑی تعداد میں صارفین کی ٹائم لائن پر دکھائی دینا شروع ہوگئیں۔فیس بک اشتہاری کمپنیوں کی اُمیدوں کا مرکز
جوں ہی یہ خبر منظر عام پر آئی کہ کیمبرج اینالیٹیکا کمپنی نے فیس بک کے پانچ کروڑ
صارفین کی معلومات کا غلط استعمال کرکے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فائدہ پہنچایا ۔ دنیا بھر میں ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ سوشل میڈیا نیٹ ورک پر صارفین کی معلومات کیسے اور کس کےساتھ شیئر کی جاتی ہے؟،جس کا جواب یہ ہے کہ ایسی معلومات فیس بک جیسی سائٹس کے لیے بے حداہمیت کی حامل ہوتی ہیں کیونکہ اسی معلومات کی وجہ سے ہی اشتہاری کمپنیاں سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر اپنے کلائنٹس کی پراڈکٹس اور مصنوعات کی تشہیر کرتی نظر آتی ہیں ۔ وہ اپنی ٹارگٹ آڈینس تک رسائی حاصل کرنے کےلئے معلومات کا تجزیہ کرکے اشتہارات ڈیزائن کرتی ہیں جن میں صارفین کی پسند و نا پسندکو سامنے رکھ کر اپیل کی جاتی ہے۔ اور یہ طریقہ کار ہی حقیقت میں مال و دولت کمانے کابڑا ذریعہ ہے ۔ اس مقصد کے حصول کےلئے فیس بک اپنے صارفین کی پسند، ناپسند، لائف سٹائل اور سیاسی رجحانات کے متعلق پروفائل تیار کرتی ہے ۔لیکن اصل سوال تویہ ہے کہ آیافیس بک اپنے صارفین کی کون کون سی معلومات دوسروں کےساتھ شیئر کرتی ہے ؟
امریکہ میں شور مچا تو کیمبرج اینالیٹیکا کے چیف ایگزیکٹو الیگزینڈر نیکس کو طلب کر لیا گیا ،جنہوں نے امریکی ایوان کے نمائندوں کو بتایا کہ وہ صارفین کے ڈیٹا کو سروے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ فیس بک پر صارفین سے کوئز پوچھے جاتے ہیں جیسا کہ ’یہ آپ کی ڈیجیٹل لائف ہے‘ کو کیمبرج اینالیٹیکا نے کروڑوں افراد کی معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔بہت سے کوئز سے اندازہ لگانا آسان ہے کہ آپ کی معلومات محفوظ ہیں۔ یہ کھیل کچھ ایسے انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ صارفین کو
متوجہ کر کے اُن سے معلومات حاصل کی جا سکے۔صارفین کی پرائیویسی کے لیے کام کرنے والی الیکٹرانک فرنٹیئر فاو¿نڈیشن کے مطابق ان کوئز کے ذریعے جس طرح کی معلومات اکٹھی کی جاتی ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فیس بک کی سروس کی شرائط اور اے پی آئی کا نظام اس وقت کیسا تھا؟ کیمبرج اینالیٹیکا نے صارفین سے کس قسم کی معلومات حاصل کیں؟ اس حوالے سے برطانیہ کی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی آئی سی او نے تحقیقات کی ۔صارفین ڈیٹااپنا محفوظ رکھنے کےلئے فیس بک سے دیگر” ایپس“ پر مت جائیں
فیس بک کی پُر اسرار دنیا کی کھوج کے دوران ہمارے ہاتھ یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا سکول آف لا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، انٹلیکچوئل پراپرٹی اور میڈیا لا پڑھانے والے لیکچرر پال برنل کی ریسرچ لگی ۔ ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اپنے صارفین کو اس اہم ریسرچ ورک کے حوالے سے آگا ہ کریں۔ اس حوالے سے پال برنل کا کہنا ہے کہ صارفین کو چاہیئے کہ اگر آپ کسی بھی پراڈکٹ کے سروس پیج پر کوئی گیم اورکوئز شو کھیلنا چاہ رہے ہیں تو کبھی بھی لائک کا بٹن مت دبائیں اور نہ ہی فیس بک کے ذریعے ان صفحات پر جائیں بلکہ ان صفحات پر براہ راست جائیں۔اُن کا کہنا ہے کہ فیس بک سے سائٹس پر جانا آسان تو ہے لیکن اس سے آپ کا بہت سا ڈیٹا فیس بک پروفائلز سے دیگر ایپس تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ صارفین کس طرح اپنا فیس بک ڈیٹا محفوظ کر سکتے ہیں؟اس حوالے سے اُن کا کہنا ہے کہ صارفین فیس بک سیٹنگ پیج پر جائیںاور
ہر اس کیٹیگری کو ان کلک کردیں جسے وہ فیس بک ایپ پر رسائی نہیں دینا چاہتے۔ اس میں آپ کا بائیو ڈیٹا، برتھ ڈے، فیملی، مذہبی نظریات، ٹائم لائن پوسٹس اور دیگر ایکٹیوٹیز وغیرہ سب موجود ہے۔صارفین کاڈیٹا فراہم نہ کرنے والی فرمز کو جرمانہ ہو گا صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لئے نئے نئے قانون بھی تشکیل دیئے جا رہے ہیں،جن کے مطابق صارفین فرمز کو ایک درخواست کے ذریعے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ اپنے پاس اُنکی کس قدر معلومات رکھتی ہیں؟ دوران ریسرچ اس حوالے سے مسٹر سکرمز کی مثال ہمارے سامنے آئی جو نذر قارئین کی جا رہی ہے،دراصل 2011 میں آسٹریا سے کے شہری مسڑ سکرمز نے ایسی ہی ایک درخواست دی تھی کہ انہیں بتایا جائے کہ کمپنی کے پاس اُن کی کتنی معلومات موجود ہے؟ جس پر انہیں ایک سی ڈی دی گئی جس میں 1200 فائلز موجود تھیں۔انھیں معلوم ہوا کہ سوشل میڈیا نیٹ ورک نے ان تمام مشینز کے آئی پی ایڈریس بھی محفوظ کیے تھے ،جنھیں انھوں نے فیس بک تک رسائی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا تھا، تمام میسجز کی ہسٹری، جس مقام پر صارف موجود تھا وہ جگہ اور حتیٰ کہ وہ تمام مواد جو وہ ڈیلیٹ کر چکے تھے۔ جیسا کہ میسجز، سٹیٹس، اپ ڈیٹس اور وال پر موجود پوسٹس وغیرہ۔لیکن ایک ایسی دنیا جہاں فیس بک بڑے پیمانے پر معلومات کو تیسری پارٹی کے ساتھ شیئر کر رہی ہے وہاں اس طرح کی درخواستیں دینا بہت مشکل کام ہے ۔ڈاکٹر برنر کہتے ہیں کہ جب آپ جانتے ہی نہیں کہ کس سے پوچھنا ہے تو پھر آپ اپنے ڈیٹا کے بارے میں کس سے پوچھیں گے ؟
ان مسائل سے نبرد آزما ہونے کےلئے حال ہی میںیورپ میں جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن متعارف کروایا گیا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ صارفین کے لیے ان کے ڈیٹا پر کنٹرول آسان بنایا جائے۔جو فرمز یہ معلومات فراہم نہیں کریں گی ،اُنھیں بھاری جرمانے کی ادائیگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔کیا آپ یہ جان سکتے ہیں کہ آپ کے متعلق کتنا ڈیٹا محفوظ ہے اورآپ سوشل میڈیا پر کب تک اپنا مواد رکھ سکتے ہیں؟یورپ میں ڈیٹا پروٹیکشن قوانین میں یہ تجویز دی جاتی ہے کہ کسی مواد کو تب تک رکھا جائے جب تک اس کی ضرورت ہو لیکن اس کی تشریح قابل ترمیم ہو سکتی ہے۔ فیس بک میں یہ ہوتا ہے کہ جب تک کوئی صارف اپنی کسی پوسٹ کو ڈیلیٹ نہیں کرتا وہ لامحدود وقت تک موجود رہتی ہے۔کیا آپ پہلے سے موجود اپنا ڈیٹا ڈیلیٹ کر سکتے ہیں؟صارفین اپنا اکاو¿نٹ ڈیلیٹ کر سکتے ہیں جس سے ان کی تمام سابقہ پوسٹس ختم ہو جاتی ہیں لیکن فیس بک اپنے صارفین کو اکاو¿نٹ بند کرنے کے بجائے یہ آپشن دیتی ہے کہ وہ اپنے اکاو¿نٹس ڈی ایکٹیویٹ کر دیں اور جب بھی صارف کا جی چاہے وہ دوبارہ فیس بک پر ایکٹو ہو سکتا ہےفیس بک ڈیٹا جمع کرنے کے لحاظ سے دنیا کا بااثر ادارہ
فیس بک کا شمار ڈیٹا جمع کرنے کے لحاظ سے دنیا کے بااثر ترین اداروں میں ہوتا ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کمپنی کے اندر کیا ہوتا ہے اور یہ کام کیسے کرتی ہے؟ اس حوالے سے ایک اہم تحقیقی کام سے اپنے صارفین کو آگا ہ کرتے چلیں کہ دو برس قبل سربیا کے ولادان جوئلر اور ان کے دوستوں نے فیس بک کے کام کرنے والے پراسرار طریقہ کا کھوج لگانے کا بیڑا اُٹھایا۔ان کی ٹیم میں

ڈیٹا ایکسپرٹ بھی شامل ہیں اور وہ پراجیکٹ ‘شیئر لیب’ کے تحت فیس بک کے اند رکی پراسرار دنیا کے سامنے لانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔اس وقت فیس بک کے پاس تقریباً اپنے دو ارب صارفین کا 300 پیٹا بائٹ ڈیٹا محفوظ ہے ( 1 پیٹا بائیٹ میں 1000 ٹیرابائیٹ ڈیٹا ہوتا ہے) اور صرف 2016 ہی میں اس کی آمدن 28 ارب ڈالر سے متجاوز تھی۔ جوئلر کا کہنا ہے کہ ان تمام باتوں کے باوجود ہم مکمل طور پریہ نہیں جان پائے کہ فیس بک کام کیسے کرتی ہے؟ حالانکہ صارفین ازخود فیس بک کو مفت میں یہ تمام ڈیٹا فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔سب سے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ‘ جب ہم لوگ کوئی بھی چیز اپ لوڈ ، ٹیگ یا کسی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہیں تو دراصل ہم فیس بک کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔’ شیئر لیب نے فلو چارٹ کے ذریعے بتایا کہ مارک زکربرگ کی پہنچ کہاں تک ہے؟ہمارے انٹریکشن سائٹ کے پیچیدہ سسٹم کو استعمال کر کے فیس بک چلاتے ہیں۔ جوئلر کے مطابق ہمارے رویے اسے ایک پراڈکٹ کی شکل میں ڈھال دیتے ہیں۔لیکن اس کے تمام تانے بانے کا سرا ڈھونڈنا آسان نہیں۔ہم نے تمام ان پ±ٹس کی نقشہ بندی کرنے کی کوشش کی ۔
اس سلسلے میں ہم نے لائیکس، شیئرز، سرچ، اپ ڈیٹ سٹیٹس، تصاویر، دوست، نام شامل کرنے کے نقشے اور فلو چارٹ بنائے۔ جن کی مدد سے یہ دیکھا کہ ہماری استعمال کردہ ڈیوائسزسے ہمارے بارے میں کیا کیا معلوم ہوتا ہے اور ہم فیس بک کو ایپس کے ذریعے کیا کیا اجازتیں دے رہے ہیں، مثلاً ہم فون سٹیٹس، وائی فائی کنکشن اور آڈیو ریکارڈ کرنے تک کی اجازت بھی دے رہے ہیں۔دراصل ہم فیس بک کو جو بھی ڈیٹا دیتے ہیں ان کی مدد سے فیس بک ہمارے جنسی رویے، سیاسی ترجیحات، سماجی رتبے، سفر کے شیڈول اور بہت سی دوسری بہت سی چیزوں کے بارے میں معلومات جمع کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہم فیس بک پر ہم جو بھی لنک شیئر کرتے ہیں یا جن چیزوں کو لائیک کرتے ہیں، وہ صرف فیس بک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک بہت بڑے ایلگوردم کا حصہ بن جاتے ہیں جن میں انسٹاگرام، وٹس ایپ، اور دوسری ایسی سائٹس بھی شامل ہیں جو فیس بک کا لاگ ان استعمال کرتی ہیں۔اس سارے عمل کے ذریعے فیس بک اپنے صارفین کے بارے میں دہشت زدہ کر دینے والی معلومات حاصل کرتی ہیں، مثلاً کیا ہمیں چائینیز کھانے پسند ہیں، ہمارے بچوں کی عمریں کیا ہیں یا پھر ہمیں گھر سے دفتر
پہنچنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟جوئلر کا ایک اور فلو چارٹ بتاتا ہے کہ ہم فیس بک کو نادانستگی میں اجازت دے دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ٹیکسٹ میسج پڑھ سکے، ہماری اجازت کے بغیر فائلیں ڈاو¿ن لوڈ کرے اور یہ جان سکے کہ ہم اس وقت کہاں ہیں؟ان تمام چیزوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ جوئلر کا کہنا ہے کہ ا گر آپ ککیز، موبائل فون پر دی گئی اجازتوں، یا پھر (تصاویر) میٹا ڈیٹا کے بارے میں سوچیں۔ ان میں سے ہر چیز انتہائی دخل اندازی کرنے والی ہے۔’ فیس بک کہتی چلی آئی ہے کہ اس کے لیے صارفین کی پرائیویسی مقدم ہے۔ تاہم جوئلر کہتے ہیں کہ اس کے طویل مدتی مضمرات زیادہ تشویش ناک ہیں۔یہ سارا ڈیٹا ایک ہی کمپنی کی مٹھی میں رہتا ہے۔ فرض کیا کہ آج فیس بک چلانے والے قابلِ اعتماد ہیں لیکن اگر وہ اپنے اِختیار کا ناجائز استعمال کرنے پر اُتر آئیں تو لمحہ بھر کےلئے سوچیں کہ کیا ہو گا؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ” شیئر لیب “کا کام قابلِ قدر ہے۔ کورنیل ٹیک کی ڈاکٹر جولیا پاو¿لز کا کہنا ہے کہ شیئر لیب نے بہت عمدہ کام کیا ہے ۔اس تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے دوستوں سے رابطہ رکھنے کی خواہش میں کس قدر بھاری قیمت چکاتے ہیں؟تحریر :عثمان یوسف قصوری