فیس بک: سہولت یا مصیبت؟ یہ شاندار تحریر پڑھیے اور اپنی رائے دیجیے

لاہور(ویب ڈیسک)اکٹھے رہنا انسان کی ضرورت ہے اوروہ ایک دوسرے کو جاننا پسند کرتے ہیں۔ اس خواہش کی تکمیل کے لیے تاریخ انسانی میں نت نئے طریقے وضع ہوئے اور ایجادات ہوتی رہیں۔ جسمانی اشارے کافی نہیںتھے، زبانیں اسی لیے انسانوں کا طرۂ امتیاز بنیں۔ تاہم اپنے اعضاسے انسان چندگز کے فاصلے تک ہی

گفتگو کر سکتا ہے۔ انسانی آواز کی طرح اس کی بصارت بھی محدود ہے۔ نصف کلومیٹر کے فاصلے سے انسانی آنکھ چہرہ نہیں پہچان پاتی۔ ابتدا میں اس محدودیت کا حل سیاحوں اور مسافروں سے حل احوال لینے سے نکالا گیا۔تحریر کی ایجاد کے بعد خط و کتابت اورتار نے اسے تیز کیا۔ ٹیلی فون نے فاصلوں کو مزید سمیٹ دیا۔ ایک عام ٹیلی فون پر صرف آواز آیا کرتی ہے۔ انٹرنیٹ نے تحریر، تصویر، ویڈیو ہر ذریعے سے رابطے کو ممکن کر دیا۔ ایک اپلی کیشن جسے اس بارے میں امتیاز حاصل کیا وہ فیس بک ہے۔ چودہ سال قبل مارک زکر برگ ہاورڈ یونیورسٹی کے ساتھیوں سے مل کر فیس بک کو ویب سائٹ پر لائے۔ایک اندازے کے مطابق اب فیس بک کے اثاثے 84 ارب ڈالر ہیں، 25ہزار سے زائد افراد اس میں کام کرتے ہیں، یہ دنیا کی تیسری سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ویب سائٹ ہے اور ایک ارب سے زائد صارفین اسے موبائل فون پر روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ اعدادوشمارحیران کن ہیں جو فیس بک کی تیز رفتار وسعت اور اس میں پائی جانے والی دلچسپی کا پتا دیتے ہیں۔ آخر اس میں ایسا کیاہے کہ لوگ اس کی جانب کھنچے چلے جارہے ہیں۔ ایک دوسرے کو جاننے کے ساتھ ساتھ انسان نت نئی دنیائیں دریافت کرنا چاہتا ہے۔

فیس بک ایک ایسی دنیا ہے جس میں سفر نہیں کرنا پڑتا اور مختلف دنیاؤں کی ’’سیر ‘‘ ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر سے ہر رنگ، نسل، نظریات، ملک اور مذہب کے پروفائل تک رسائی ہو سکتی ہے۔ آپ پسندیدہ گروپس میں شامل ہو سکتے ہیں، رائے دے سکتے ہیں اور تبصرہ بھی کر سکتے ہیں۔ تصاویر اور ویڈیوزدیکھی جا سکتی ہیں اور پوسٹ کی جا سکتی ہیں۔ صارفین کی بڑی تعداد کے ہوتے دلچسپ تحاریر پڑھنے اور تصاویر اور ویڈیوز کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔یہ فوری اور نت نئی معلومات کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ فیس بک کے ذریعے آپ اپنے دوستوں سے رابطہ کر سکتے ہیں اور انہیں تلاش کر سکتے ہیں۔یوں بہت سے بچھڑے ہوئے دوست آپس میں مل جاتے ہیں۔ روایتی میڈیا سے اوجھل بہت سی خبریں یہاں مل جاتی ہیں۔ ٹرینڈ بن جائیں تو حکام کو ہلا دیتی ہیں۔ لیکن ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ عمومی تجربہ بتاتا ہے کہ فیس بک کے صارف کسی گورکھ دھندے کی طرح اس میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ کسی ایک کی پروفائل کو دیکھ کردوسرے پرجانا ، ایک کے بعد دوسرا تبصرہ پڑھا نا۔۔۔اور جب احساس ہوتا ہے تو بہت وقت ضائع ہو چکا ہوتا ہے، تجسس کی تسکین پھر بھی نہیں ہوئی ہوتی۔

تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ سوشل میڈیا بشمول فیس بک کی نشے جیسی لت بھی لگ سکتی ہے۔ صارف بار باراپنے اکاؤنٹ سے رجوع کرتا ہے اوراسے کھولے بغیر رہ نہیں پاتا۔ اسے دوسروں کے تبصروں اور ’’لائیکس‘‘ کا انتظار رہتا ہے۔ تب اس سے انسانی رشتے متاثر ہونے لگتے ہیں۔ خاندان کے افراد اور دوست ملتے ہیں مگر نظریں موبائل پر جمی ہوتی ہیں۔انسانوں کی اس نوع کی اجنبیت ایک انوکھا مظہر ہے جس کی ابتدا شاید تھیٹر اور بعدازاں سینما سے ہوئی۔ سینما میں ایک جگہ پر موجود انسانوں کی بڑی تعدادایک دوسرے کی بجائے ایک سے تین گھنٹے تک واحد مردہ سکرین ہی کو دیکھتی ہے وگرنہ چار انسانوں کے ملنے کے بعد باہمی گفتگو اورحال احوال کو فطری سمجھا جاتا ہے۔ اب ہوا یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے سبب سکرینیں کسی عمارت میں نصب نہیں بلکہ ہر ہاتھ میں ہیں۔ یوں انسان جہاں ایک دوسرے کے قریب ہوا ہے وہیں وہ دور اور بیگانہ بھی ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاندان میں کسی ایک کو دوسرے سے شکایت ہوتی ہے ۔بچوں کو ماں باپ یا ماں باپ کو نوعمروں سے۔ میاں بیوی میں سے کسی ایک کو دوسرے سے۔ بوڑھوں کو اپنی اولاد سے۔ وہ شکایات کرتے نظر آتے ہیں کہ انہیں وقت نہیں دیا جا رہا۔

متعدد صارفین کی نیند پوری نہیں ہوتی اور ان کا کام متاثر ہوتا ہے۔ فیس بک اکاؤنٹ بنانے کے لیے عمر کی ایک حد ہے اور یہ بلاوجہ نہیں۔ اس پر بہت سا ایسا مواد ہوتا ہے جو بچوں کے لیے موزوں نہیں۔ لیکن ملک میں بچوں کی ایک بڑی تعداد نے اکاؤنٹ بنا رکھے ہیں، یہاں تک کہ بہت سے والدین بھی اسے برا تصور نہیں کرتے۔ اس سے بچوں کی رسائی ایسے مواد ہو تک جاتی ہے جو نفسیاتی طور پر انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے نیز ایسے افراد ان سے رابطہ کر سکتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائیں۔ فیس بک پرصارفین کی جانب سے بہت سی ایسی معلومات بھی فراہم کردی جاتی ہیں جن کی نوعیت نجی ہوتی ہے۔ پرائیویسی سیٹنگ نہ ہونے، غلطی ہونے یا اکاؤنٹ ہیک ہونے کی صورت میں ان تک رسائی آسان ہو جاتی ہے اور پھر بلیک میل کرنے کی کوششیں ہوتی ہیں۔ ایسے کئی واقعات منظر عام پر آ چکے ہیں۔ فیس بک پر معلومات کا ارتکاز ہو چکا ہے یعنی ایک ہی کمپنی کے ہاتھ میں اربوں صارفین کا ڈیٹا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کو بڑے پیمانے پر حاصل کر کے انہیں کاروبار ی اور سیاسی مفادات کے لیے بلااجازت اور غیر اخلاقی طور پر استعمال کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ جعلی اور خفیہ اکاؤنٹس کے ذریعے رائے عامہ بدلنے اور ترغیب دینے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ گزشتہ امریکی صدارتی انتخابات میں کی جانے والی ایسی کوششیں ابھی تک خبروں اور تجزیوں کی زینت ہیں۔ لہٰذا اس کا استعمال مفید تو ہے مگر احتیاط کا متقاضی ہے۔ اسے استعمال کرتے ہوئے اس کے فوائد کو حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے اس کے نقصانات پر نظر رکھنا اور ان سے بچنا بھی ضروری ہے۔ (رضوان عطا)(م،ش)