وہ کیسا مرد تھا؟

لاہور(ویب ڈٰیسک)وہ ایک سیاہ فام مسلمان تھا۔ اس کا تعلق تنزانیہ کی آزاد اسلامی ریاست زنجبار سے تھا۔ پیشے کے اعتبار سے وہ صحافی تھا۔ وہ اپنے ملک میں کافی مشہور تھا۔ وہ اینکر پرسن تھا، نیوز کاسٹر تھا، پروڈیوسر تھا، ڈائریکٹر تھا اور ایف ایم پر بھی ایک پراگرام کی

میزبانی کرتا تھا۔چین میں وہ میرا ہم جماعت تھا۔ کلاس میں ہم گنتی کے ہی چند مسلمان تھے، اس لیے دنوں میں ہی آپس میں گھل مل گئے۔ اکثر ہی ہم سب شام کو مل بیٹھتے تھے اور اپنے ملک ا ور گھر والوں کی باتیں کیا کرتے تھے۔ دیارِ غیر میں اپنا ملک اور گھر والے یاد ہی اتنا آتے ہیں کہ انسان غیر ارادی طور پر بس انہی کی باتیں کرتا رہتا ہے۔اس نے اپنے بارے میں بتایا کہ اس کے والد کی وفات کے بعد گھر کی ذمہ داری اس کے کاندھوں پر آ گئی تھی۔ اب تک وہ گھر کے بیشتر اخراجات برداشت کرتا ہے۔ گرچہ اس کی والدہ ایک سکول میں پڑھاتی ہیں اور بہنیں بھی اپنا کام کرتی ہیں لیکن گھر کا سربراہ اب وہ ہے۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا مگر اس کے آگے اس نے جو بتایا وہ مجھے بے ہوش کر دینے کے لیے کافی تھا۔گھر کے سربراہ کی حیثیت رکھنے کے باوجود وہ اپنے گھر کی کسی عورت پر حکم نہیں چلا سکتا۔ کھانا کھانے کے بعد اپنی پلیٹ اور گلاس خود دھو کر کچن میں رکھتا ہے۔ اتوار کے روز اپنے کپڑے خود دھوتا ہے اور استری کرکے رکھتا ہے۔ اپنے کمرے کی صفائی بھی وہ اسی روز کرتا ہے۔

میں نے حیرانی سے پوچھا کہ تم اتنے مشہور صحافی ہو، گھر کے سربراہ ہو، اس کے باوجود اپنے کام تم خود کرتے ہو؟ وہ آگے سے مجھ سے زیادہ حیرانی سے مجھے دیکھنے لگا۔ اس نے پوچھا کہ میں اپنے کام نہیں کروں گا تو کون کرے گا؟ میں نے اسے کہا کہ دیکھو، میرا ایک بھائی ہے جو مجھ سے چھوٹا ہے۔ اس نے پانی بھی پینا ہو تو ہم بہنوں میں سے کوئی اسے لا کر دیتی ہے۔ اس کے کپڑے بھی ہم میں سے کوئی استری کر دیتی ہے۔ وہ برتن دھوئے، اس کا تو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔میرے والد گھر کے سربراہ ہیں اور اس حیثیت میں وہ تقریباً ہمارے گھر میں ایک آمر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جو وہ کہتے ہیں وہی ہوتا ہے۔ ان کی مرضی کے بغیر پرندہ بھی ہمارے گھر پر نہیں مار سکتا۔ گرچہ وہ بہت آزاد خیال انسان ہیں لیکن گھر کے سربراہ کی حیثیت سے گھر کے تمام فیصلے یا تو وہ کرتے ہیں یا حتمی مہر وہ لگاتے ہیں۔وہ کافی حیران ہوا۔ اس نے بتایا کہ ان کے ملک میں ایسا کوئی تصور نہیں ہے۔ اپنے والد کی وفات کے بعد گھر اور گھر والوں کی ذمہ داری اس نے

خودبخود اپنے سر لے لی کیونکہ اس کا معاشرہ اور اسلام اسے یہی سکھاتا ہے۔اپنی شادی کے حوالے سے اس نے بتایا کہ اپنی بیوی کا انتخاب وہ خود اپنی مرضی سے کرے گا۔ اپنے ملک میں رائج رواج کے مطابق وہ اپنے علیحدہ گھر کی تعمیر تقریباً مکمل کر چکا ہے اور اب چین سے واپس جا کر وہ اپنے لیے کوئی لڑکی ڈھونڈے گا جس سے وہ شادی کر سکے۔کیا؟ تم شادی کے بعد الگ رہو گے جبکہ تم اپنے گھر کے واحد کفیل ہو، بڑے بیٹے ہو اور ماں کے لاڈلے بھی ہو۔” ”ہاں، اس میں حیرانی کی کیا بات ہے۔ ہمارے ہاں ایسے ہی ہوتا ہے۔ میرا اپنا گھر میری والدہ کے گھر سے پانچ کلومیٹر دور ہے۔ اپنی بیوی کے ساتھ الگ گھر میں رہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اپنے گھر والوں سے دور ہو جائوں گا یا ان کی ذمہ داری نہیں اٹھائوں گا۔”ہمارے ہاں تو ایک شادی شدہ جوڑا اپنے پانچ بچوں کے ساتھ پندرہ بیس سال ایک ہی کمرے میں گزار دیتا ہے کہ الگ گھر کے فیصلے پر ماں باپ سمجھتے ہیں کہ بیٹا ہاتھ سے نکل گیا ہے۔”چین میں قیام کے دوران دو رمضان آئے۔ ہم چند دوست مل کر سحری افطاری کرتے تھے۔ ہم میں سے ہر کوئی کچھ نہ کچھ بنا لاتا تھا یا باہر سے خرید لاتا تھا اور پھر

سب مل کر کھاتے تھے۔ ہر روز افطاری کے بعد وہ میز پر پڑے برتن اکٹھے کرتا تھا اور باورچی خانے میں جا کر دھوتا تھا۔ہماری واپسی میں چند ماہ رہ گئے تھے۔ ایک دن اس کا پیغام موصول ہوا۔ وہ اپنی بہن کے لیے چین میں سکالرشپ اپلائی کر رہا تھا، اسے اپنے لیپ ٹاپ پر کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، اس لیے اب اسے میرا لیپ ٹاپ چاہئیے تھا۔ میں اس بار بھی حیران رہ گئی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم تو چند ماہ بعد واپس جا رہے ہو، تمہاری بہن کا اگر داخلہ ہو جاتا ہے تو وہ یہاں آ کر پڑھے گی۔ تمہیں کوئی اعتراض نہیں؟ اس نے کہا مجھے کیوں اعتراض ہوگا؟ میں خود بھی تو یہاں تعلیم حاصل کرنے آیا ہوں تو میری بہن کیوں نہیں؟میرے لیے اس کا یہ جواب اتنا حیران کن کیوں تھا؟ اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ میں ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتی ہوں جہاں عورت کی تعلیم کو ضروری تصور نہیں کیا جاتا۔ لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد اب تعلیم حاصل کر رہی ہے لیکن ان کی اکثریت کے والدین انہیں تعلیم صرف اس لیے اور تب تک دلوا رہے ہیں جب تک ان کا کوئی مناسب رشتہ نہیں آ جاتا۔گو پاکستان میں اب کافی تبدیلی آ گئی ہے لیکن ابھی بھی ایک مڈل کلاس گھر میں بیٹی کا باہر کے ملک جا کر پڑھنا ناممکن ہے۔ اگر کوئی باپ اپنی بیٹی کو بھیج بھی دے تو اسے رشتے داروں کی باتیں سننا پڑتی ہیں جس کے بعد یا تو وہ اپنی بیٹی کو تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس بلوا لیتا ہے یا اس کی واپسی کے بعد دوسری بیٹی کو باہر نہیں بھیجتا۔ کئی گھرانے ایسے بھی ہیں جہاں بیٹے تو ڈاکٹر، انجینئیر، صحافی اور دیگر اہم شعبہ جات کی ڈگری لیے ہوتے ہیں جبکہ بیٹیاں سادہ بی اے یا ایف اے کر کے گھر بٹھا لی جاتی ہیں۔ایسے ملک میں پچیس سال گزارنے کے بعد جب میں نے اُس کی باتیں سنیں تو میرا حیران ہونا تو بنتا ہی تھا۔ آج بھی اکثر میں اسے یاد کرتے ہوئے سوچتی ہوں کہ وہ کیسا مرد تھا؟(تحریم عظیم)(م،ش)