پوری دنیا میں حسن کی علامت سمجھے جانے والے چہرے کے ڈِمپل ۔۔۔۔مگر یہ کیوں اور کیسے بنتے ہیں پڑھیے ایک معلوماتی خبر

لاہور (ویب ڈیسک ) کیا یہ کہنا غلط ہوگا کہ مسکراتے ہوئے چہرے پر پڑنے والے گڑھے یا ڈِمپل اچھے لگتے ہیں؟ لیکن ایسا کیوں ہے کہ آخر بہت ہی کم لوگوں کے چہروں پر یہ ڈِمپل مسکراہٹ کے دوران نظر آتے ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ تو اس کا

جواب یہ ہے کہ اس حوالے سے سائنس خود بھی کوئی واضح رائے نہیں رکھتی بلکہ منقسم ہے۔ویسے تصور کیا جاتا ہے کہ یہ ڈِمپل جینیاتی اثر کے باعث ہوتے ہیں، یعنی اگر والدین کے چہروں پر یہ ڈمپل ہوں تو بچے کی خوبصورتی بھی اس سے بڑھ جاتی ہے۔ تاہم کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ درحقیقت چہرے کے مسلز میں آنے والا نقص ہے، جسے zygomatic مسل کے سٹرکچر میں آنے والا نقص بھی کہا جاسکتا ہے۔یہ وہ بڑا مسل ہے جو چہرے کے سائیڈ میں ہوتا ہے، ڈِمپل کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ مسلز کو تقسیم کردیتے ہیں جو کہ عام طور پر ایک پیس میں ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کا فائدہ کیا ہوتا ہے ؟ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ چہرے کے یہ گڑھے ارتقائی مراحل سے گزرے ہیں اور اس سے انسانوں کو اپنے چہرے کے تاثرات سے دوسروں سے ابلاغ کا راستہ ملا ہے۔تحقیق کے مطابق چہرے پر پڑنے والے ڈِمپل سے لوگوں کو اپنی مسکراہٹ پر توجہ حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے اور خوشی کا اظہار بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اور ہاں یہ ڈِمپل قدرتی ہوتے ہیں اور انہیں کسی ٹیکنالوجی یا کسی اور طریقے سے چہرے پر نمودار نہیں کیا جاسکتا۔(ا،س)