پاکستان کا وہ علاقہ جہاں پورے ایک سو سال بعد اذان دی گئی؟ پڑھیئے ایک شاندار تحریر

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف سکالر مولانا طارق جمیل نے ایک تقریب کے دوران انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کا ایک ایسا علاقہ بھی ہے جہاں 100 سال بعد پہلی مرتبہ اذان دی گئی اور جب ایسا ہوا تو مجھے خط بھی آگیا۔ مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ رائیونڈ میں

ایک جماعت نے بلوچستان سے خط لکھا کہ جب انہوں نے اذان دی تو بستی کے لوگوں نے کہا کہ آج یہاں کوئی 100سال کے بعد اذان دی گئی ۔یہ بات یورپ کی نہیں، پاکستان ہے ۔بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے،ساتھ پاک لگا ہے، لیکن ناپاکیاں ہورہی ہیں۔ نام غلام رسول رکھنے سے کوئی غلام رسول نہیں بنتا۔ غلامی سے غلامِ رسول بنتا ہے۔ ۔ اس طرح غلام محمد سے غلام نہیں بنتا، وجود کو غلامی میں ڈالنے سے غلام محمد بنتا ہے‘۔ ہمیں چاہیے کہ کسی کا دل نہ دکھائیں، اپنے آپ کو اخروی زندگی کیلئے وقف کردیں، اللہ تعالیٰ خود ہی ہم سب کیلئے بند دروازے کھول دے گا۔ دسری جانب معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ جنوری کا مہینہ بھی اللہ کا ہے اور محرم بھی اللہ کا ہے، یہ تعصب کی بات ہے کہ جنوری کافروں کا اور محرم ہمارا مسلمانوں کا، جنوری کا تعلق سورج کے ساتھ ہے اور محرم کا تعلق چاند کے ساتھ ہے، دونوں اللہ تعالیٰ کے ہیں، ایک کلینڈر کو اللہ تعالیٰ نے سورج کے ساتھ جوڑ دیا اور ایک کلینڈر کو اللہ تعالیٰ نے چاند کے ساتھ جوڑ دیا۔ ہمیں چاند والا کلینڈر دیا اور باقی دنیا کو سورج والا کلینڈر دیا، اس کی حکمت مجھے اس وقت سمجھ میں آئی جب میں آج سے پانچ سال پہلے ناروے ، دنیا کے آخری کنارے پر پہنچا، جسے End of the World کہتے ہیں، شمال میں زمین پر وہ دنیا کا آخری کنارا ہے، اس کے اوپر جا کر پھر نارتھ کیپ بن جاتا ہے، جب میں وہاں پہنچا تو اس علاقے میں سورج کا کلینڈر نکل جاتا ہے اور دو مہینے سورج نہیں نکلتا، اور دو مہینے تک سورج ڈوبتا بھی نہیں، مولانا طارق جمیل نے کہا کہ ناروے سے دو گھنٹے کی فلائیٹ پر جا کر سورج کا کلینڈر فیل ہوجاتا ہے، اوٹوا اس کا آخری شہر ہے اور وہاں سے چھ گھنٹے کا سفر ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے پہنچایا، پھر میں نے دنیا کا آخری کنارا دیکھا، اللہ کی بہت مخلوق دیکھی ، لیکن جو مخلوقات میں نے دیکھی اسے دیکھ کر مجھ پر اللہ کے خالق ہونے کی ایسی ہیبت طاری ہوئی جو میں کبھی بھلا نہیں سکتا، ایسی مخلووق میں پہلے کبھی نہیں دیکھی، شاید اللہ کی ہیبت کا اندازہ میں لاکھوں کتابیں پڑھ کر بھی نہ کر سکتا، مولانا طارق جمیل نے کہا کہ میں نے ایک ہمالیہ پہاڑ کو دیکھا جس کی چوٹی ننگی تھی، وہ سال میں پندرہ سے 20 دن کیلئے کھلا ہوتا ہے وگرنہ وہ سارا سال بادل میں ڈھکا ہوا ہوتا ہے۔