You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > متفرق واقعات > غیرت مند مردوں کے لیے ایک سبق آموز تحریر

غیرت مند مردوں کے لیے ایک سبق آموز تحریر

ملک کے دیہی علاقوں میں خواتین کو غیر ت کے نام پر قتل کرنے کے لاتعداد اور شرم ناک واقعات کی وجہ سے حکومت پر کافی برسوں سے تنقید جاری تھی ۔ دو ہزار پندرہ میں غیرت کے نام پر قتل کو ناقابل راضی نامہ جرم بنانے کے لیے کوڈ آف کرمنل پروسیجر (سی آر پی سی) میں ترمیم کی گئی اور پچھلے سال اکتوبر میں پاکستان کی پارلیمنٹ میں غیرت کے نام پر قتل کے سلسلے میں جو بل پیش کیا گیااسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

ملک کے مختلف علاقوں میں رہنے والے افراد اب بھی یہ سمجھ کر خواتین پر مختلف الزام عائد کرنے کے بعد انہیں قتل کرتے ہوئے دیر نہیں لگاتے ۔شاید وہ اس قانون سے بھی ناواقف ہیں اور اس غلط فہمی میں بھی مبتلا ہیں کہ غیرت کا بہانہ بنا کر ماضی کی طرح وہ ایسے قتل کی سزا سے صاف بچ جائیں گے۔ غیرت کے نام پر قتل کے بے شمار واقعات کی طرح کچھ ماہ پہلے پنڈی بھٹیاں کے گاؤں رام پور تارڑ میں بھی ایک انتہائی دکھ بھرا واقعہ پیش آیا جہاں کی رہائشی سمیرا کو اس کے شوہر نے اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا، مگر اس کے رشتے داروں اور آس پاس کے لوگوں کو یہ بتایا کہ اس کی موت ہیضے کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ اصل حقائق سامنے آنے کے بعد جب اس کے شوہر کو گرفتار کیا گیا تو اس نے الزام لگایا کہ سمیرا کا چال چلن ٹھیک نہیں تھا اس لیے میں نے اپنے ماں باپ کے ساتھ مل کر اسے قتل کر دیا۔ رام پور تارڑ تو ایک دور افتادہ گاؤں ہے لیکن کراچی کا شمار ملک کے جدید شہروں میں ہوتا ہے اس کے باوجود کچھ دن قبل اس شہر میں رہنے والے نوجوان جوڑے عبدالغنی اور بخت بجا کے ساتھ غیرت کا جو خوف ناک کھیل کھیلا گیا اس نے کراچی کو رام پور تارڑ سے بھی سو سال پہلے کے زمانے میں دھکیل دیا۔

اس نوجوان جوڑے کا بس اتنا قصور تھا کہ دونوں ایک دوسرے سے شادی کر نا چاہتے تھے۔ جب گھر والوں کو اس بات کی اطلاع ملی تو دونوں خاندانوں نے نہ صرف لڑکی بلکہ لڑکے پر بھی غیرت کا وار کرتے ہوئے خاندان کی سطح پر ایک جرگے کا بندوبست کیا اور دونوں کو سزائے موت سنانے کے بعد اپنےاپنےگھروں میں بجلی کا کرنٹ لگا کر ہلاک کر دیا گیا۔غیرت کے نام پر قتل کی ایسی خوف ناک وارداتیں تو اب روز کا معمول ہے اور اس معمول سے ہٹ کر بہت کم خبریں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ اس کے باوجود دو دن قبل جڑانوالہ میں ایک خاتون نے اپنے شوہر کو قتل کر کے یہ بات ثابت کر دی کہ غیرت صرف مردوں کو نہیں بلکہ عورتوں کو بھی آ سکتی ہے۔ پینتیس سالہ خاتون رقیہ بی بی نے کسی شک کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی آنکھوں سے جب یہ دیکھا کہ اس کے گھر میں اس کے شوہر کے ساتھ کوئی غیر خاتون موجود ہے تو غیرت میں آ کر اس نے کلہاڑی اٹھائی اور دونوں پر پے در پے وار شروع کر دیے جس سے اس کا شوہر تو موقع پرہی ہلاک ہو گیامگر خاتون صرف زخمی ہوئی ۔ خاتون کے ہاتھوں غیر ت کے نام پر ہونے والا یہ قتل شاید پہلا قتل ہے، مگر ان مردوں کے لیے ایک انتباہ بھی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ غیرت صرف مردوں کو ہی آتی ہے۔

Top