کیا غیر مردوں کے ہاتھوں سے چوڑیاں پہننا جائز ہے؟ شریعت اس کے بارے میں کیا کہتی ہے؟ جانیے

نئی دہلی (ویب ڈیسک) درسگاہ دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ جاری کر کے کہا ہے کہ مسلم عورتوں کے گھر کے باہر غیرمردو ں کے ہاتھوں سے چوڑیاں پہننا شریعت کے خلاف ہے۔تفصیلات کے مطابق دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ سیکشن کے صدر مفتی حبیب الرحمن خیر آبادی نے بتایا کہ ایک شخص

یہ بھی پڑھیں:بڑی خبر :ڈاکٹر عامر لیاقت سپریم کورٹ میں پیش ،اُنہیں کِس کیس میں طلب کیا گیا؟ جانیے
نے ادارہ کے دارالافتا سے تحریری سوال کیا تھا کہ عورتوں کو چوڑیاں پہننے کے لئے اپنے ہاتھ غیر مردوں کے ہاتھ میں دینے پڑتے ہیں، کیا یہ مناسب ہے؟جواب میں دارالعلوم دارالافتا نے کہا کہ غیر مردوں کے ہاتھوں سے چوڑیاں پہننا سخت گناہ ہے، اس سے ہر مسلمان عورت کو بچنا چاہیے۔ یاد رہے کہ دارالعلوم دیوبند اس سے پہلے عورتوں کے بال کٹوانے، بھوئیں بنوانے، منی سکرٹ اور جینز پہننے اور غیر مردوں کے ساتھ روزگار کرنے سے متعلق خواتین پر بندشیں لگانے کا فتویٰ بھی جاری کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کو الیکشن سے پہلے نا اہل کروانے کا پلان کامیاب ہونے کے قریب، (ن) لیگ اب کونسا کارڈ کھیلنے والی ہے ؟حامد میر کی ایسی پیش گوئی جس پر وقت نے سچائی کی مہر ثبت کر دی

یہ بھی پڑھیں:بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ : ننھی اسماء کا قاتل گرفتار ہو تے ہی رانا ثناء اللہ بھی میدان میں آگئے ،ایسا مطالبہ کر دیا کہ ملک میں نئی بحث چھڑ گئی

یہ بھی پڑھیں:الحمد للہ ۔۔۔ہم نکالتے رہیں گے ۔۔۔ہمیں کوئی نہیں نکال سکتا ۔۔۔جسٹس ثاقب نثار کا دبنگ بیان