You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > متفرق واقعات > بابا گرو نانک کون تھے؟

بابا گرو نانک کون تھے؟

26 نومبر 2015 کو ننکانہ صاحب میں گرو نانک کا 546واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔ یہ تقریبات اس ہستی کی یاد میں منعقد کی جاتی ہیں جو بلا امتیازِ مذہب و رنگ و نسل ہر کسی کے لیے پیار کا پیغام لے کر آئی تھی اور ہر مذہب کے لوگ اس سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ وہ انسان جس کا فلسفہء خدا کسی بھی ایک مذہب کی مقرر کردہ حدوں میں سمانے سے انکار کرتا تھا۔ انہوں نےپنجاب کے لوگوں کو “ست شری اکال” [یعنی خدائے واحد ہی سچ ہے] کا نعرہ دے کر ہندوستان کے ان حصوں تک بھی توحید کا پیغام پہنچایا، جہاں ابھی دوسرے صوفیاء اور بھگتوں کی آواز ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال، نے بانگِ درا کی ایک نظم میں انہیں یوں خراجِ تحسین پیش کیا ہے؛

پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے

ہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے

گرو نانک دیو جی 15 اپریل 1469کو شیخوپورہ سے 65 کلو میٹر دور واقع تلونڈی نام کے ایک گاوں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مہتا کالیاعلاقے کے پٹواری تھے۔ گرو نانک ایک روایتی ہندو گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے بچپن کے دوستوں میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے۔ ان کا سب سے قریبی دوست ایک مسلمان میراثی تھا جس کا نام’ مردانہ ‘تھا۔چھ سال کی عمر میں گرو نانک کو مقامی استاد کے پاس ہندی اور ریاضی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ انہوں نے وہاں فارسی اور عربی بھی سیکھی۔ بعض روایات کے مطابق بابانانک نے فارسی اور اسلامیات کی تعلیم ایک بزرگ سید حسین سے حاصل کی تھی اور ان کی بابا نانک پر خصوصی نظر تھی‘ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بابا گرونانک متعدد مسلمان درویشوں اور فقیروں کی صحبت میں رہے‘ ان میں پیر جلال‘ میاں مٹھا‘ شاہ شرف الدین‘ پیر عبد الرحمٰن اور پاک پتن کے حضرت بابا فرید ثانی کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ گرو نانک غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے اور بہت جلدی سیکھتے تھے۔ وہ اپنی ذہانت سے اکثر اپنے استادوں کو حیران کر دیا کرتے تھے۔ 12 سال کی عمر میں انہیں ان کے والد نے کچھ روپے دیے اور کہا کہ ان سے مجھے بہترین سودا کر کے دکھاو۔

والد کا مقصد انہیں تجارت کے گُر سکھانا تھا۔گرو نانک نے ان روپوں سے کھانا خریدا اور محتاج لوگوں میں بانٹ دیا۔گھر پہنچے تو والد کے دریافت کرنے پر کہا کہ میں ان پیسوں کا سچا سودا کر آیا ہوں کہ میں نے اس کے ساتھ تجارت کی ہے جو مجھے اس کے بدلے کئی گنا زیادہ دے گا۔ جس مقام پر یہ واقع پیش آیا اب وہاں ایک گردوارہ ہے جس کا نام سچا سودا ہے۔ ان کی بڑی بہن بی بی نانکی کی شادی ہوئی تو وہ خاندانی رواج کے مطابق ان کے ساتھ سلطان پور آ گئے ۔ گرو نانک بچپن سے ہی زندگی کی حقیقت کے بارے میں متجسس رہتے تھے۔ وہ مویشی چرانے جنگل میں جاتے تو جوگیوں اور درویشوں کے ساتھ گھنٹوں باتیں کرتے رہتے۔گھر والوں نے سوچا کہ اگر گرو نانک کی شادی کر دی جائے تو شائد وہ دنیا داری کی طرف مائل ہو سکیں اس لیے 16سال کی عمر میں ان کی شادی بی بی سولکھنی سے کروا دی گئی۔گرو نانک نے شادی پر کوئی اعتراض نہ کیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ شادی روحانی زندگی کو متاثر نہیں کرتی۔ انہیں اپنی بیوی سے بہت پیار تھا۔ ان کے ہاں دو بیٹوں نے جنم لیا، جن کے نام شری چند اور لکشمی چند رکھے گئے۔ اس وقت ہندوستان پر لودھی خاندان کی حکومت تھی اور لاہور کا حکمران دولت خان لودھی تھا۔

گرو نانک کو ان کے بہنوئی نے دولت خان لودھی کے ہاں ملازم رکھوا دیا۔ وہ اس کے گوداموں کی دیکھ بھال کا کام کرتے تھے جس میں مدد کے لئے ان کا بچپن کا دوست مرادنہ بھی بھیج دیا گیا۔ دن بھر وہ کام کرتے لیکن صبح اور شام کے وقت وہ مراقبہ کرتے یا وہ اور مردانہ اکثر بیٹھ کر رباب بجاتے اور روحانی گیت گاتے۔ گرو نانک ہندوستان کی عوام کی مذہبی دقیانوسیت کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ انسان کا رشتہ براہ راست خدا سے ہوتا ہے تو پھر انسان اس بحث میں کیوں اپنا وقت برباد کرتا ہے کہ گنگا کا پانی اس کے پاپ دھوئے گا یا نہیں اور کس طرح کا لباس خدا کو زیادہ پسند ہے۔ وہ کہتے تھے کہ سب سے پہلے اپنا باطن خدا کی مرضی کے مطابق ڈھالو ۔لباس، رسوم اورظاہری وضع ثانوی بحث ہے۔سکھ مذہب کی روایات کے مطابق گرو نانک کو 30 سال کی عمر میں خدا نے اپنا پیغام دنیا میں پھیلانے پر فائز کیا۔اس وقت تک وہ صرف نانک تھے، ‘گرو’ نہیں تھے۔اس دن انہیں گرو یعنی ‘اتالیق’ بنایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ1499کی ایک صبح وہ مردانہ کے ساتھ دریا پر نہانے گئے تو دریا میں اترنے کے بعد تین دن تک نہ ابھرے۔

دولت خان نے اپنے سپاہیوں کی مدد سے دریا کو چھان مارا مگر ان کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔ تین دن بعد وہ اسی مقام سے باہر نکلے جہاں دریا میں اترے تھے۔ وہ باہر نکلے تو بالکل بدلے ہوئے انسان تھے۔ وہ کچھ دن تک مکمل طور پر خاموش رہے۔ جب انہوں نے زبان کھولی تو یہ الفاظ ادا کیے: ‘اِک اَونکار سَتّ نام، کرتا پرکھ، نِر بَھو، نِر وَیر[خدائے واحد ہی سچ ہے ، وہ خالق ہے، اسے کسی کا ڈر نہیں، اس کی کسی سے دشمنی نہیں] اکال، مورت اجونی، سے بھنگ، گُر پرساد[وہ اکیلا ہے، اس کی کوئی صورت نہیں، وہ زندگی اور موت کے چکر سے آزاد ہے، اس کا حصول ہی اصل نعمت ہے]’ گرو نانک کے انہی الفاظ سے گرو گرنتھ صاحب جو کہ سکھ مذہب کی مقدس کتاب کا آغاز ہوتا ہے ۔ دولت خان نے انہیں اپنے دربار میں طلب کیا اور ان کے الفاظ کا مطلب دریافت کیا جس پر گرو نانک نے کہا، ‘نہ کوئی ہندو ہے نہ کوئی مسلمان’۔ اس پر دولت خان نے کہا کہ شاید ہندو نہ رہےہوں مگر مسلمان اپنے ایمان پر قائم ہیں۔ گرو نانک نے اس کے جواب میں کہا کہ خدا کی رحمت کی مسجد ہو اور بندگی کی جائے نماز ہو۔

اچھا اخلاق تمہارا قرآن ہو اور سادگی اور رحمدلی تمہارا روزہ ہو۔تمہیں اگر مسلمان ہونا ہے تو ایسے مسلمان بنو۔ نیک اعمال کو اپنا کعبہ بناوّ اور سچ کو اپنا رہبر۔ اگر ایسا کرو گے تو وہ خدا جو واحد ہے اور اس کا نام حق ہے،تمہیں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے گا۔ ‘ گرو نانک خدا کی وحدانیت کے قائل تھے اور بت پرستی کے خلاف تھے،انہوں نے تثلیث کی نفی کی اور اس بات کو بھی رد کیا کہ خدا انسانی روپ میں پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ملازمت چھوڑ دی اور اپنا مال و اسباب غریبوں میں بانٹ کر مردانہ کے ساتھ سفر پر نکل پڑے۔ ان کا مقصد معاشرے سے نسلی اور مذہبی امتیاز کو ختم کرنا تھا۔ وہ فرسودہ رسم و رواج کے سخت مخالف تھے۔ وہ خدا کا پیغام گیتوں کی شکل میں لوگوں تک پہنچاتے تھے۔ جس علاقے میں بھی جاتے اس کی مقامی زبان میں لوگوں سے بات چیت کرتے تھے۔ ان کے یہ اطوار اس زمانے کے لوگوں کے لیے انتہائی حیران کن تھے کیونکہ اس وقت ہندو اور مسلمان دونوں ہی ذات پات کے چکروں میں بری طرح الجھے ہوئے تھے اس لئے وہ جہاں بھی جاتے وہاں کے غریب لوگوں کے ہاں قیام کرتے اور امراء کی طرف سے دی جانے والی ضیافتیں ٹھکرا دیا کرتے۔ لوگ انہیں تحائف دیتے تو وہ غریبوں میں بانٹ دیتے۔ گرو نانک نے برصغیر کے طول و عرض میں کئی سال سفر کرتے ہوئے اپنی تعلیمات کا پرچار کیا۔ انہوں نے بر صغیر کے علاوہ مکہ، مدینہ، مصر، تاشقند، تبت،اسرائیل، اردن، شام اور بغداد سمیت دیگر کئی ممالک کا بھی سفر کیا۔ ان کا نظریہ خدا بہت آفاقی اور لامحدود تھا۔ بغداد میں مسلمان علماء کے سامنے ایک فارسی نظم پڑھی جس میں انہوں نے کہا کہ تم کیوں زمینوں اور آسمانوں کی تعداد گن رہے ہو؟ کائنات تو لامحدود ہے۔اور انسان کی زندگی ختم ہو جائے گی مگر وہ خدا کی خدائی کی انتہا کو نہ پا سکے گا۔

اسی طرح جب وہ مکہ پہنچے تو صحن کعبہ میں سو گئے۔ ان کے پاوں کعبہ کی طرف دیکھ کر پہرہ دار نے ان کو جگایا اور کہا کہ شرم نہیں آتی تم خدا کے گھر کی طرف پاوں کیےسو رہے ہو، اس پر انہوں نے کہا کہ تم مجھے وہ سمت دکھا دو جہاں خدا نہ ہو تو میں اس طرف پاوں کر لوں گا۔ گرو نانک اپنی زندگی کا بڑا حصہ سفر میں بسر کرنے کے بعد واپس پنجاب پہنچے اور راوی کے کنارے واقع ایک گاوں کرتارپور میں اپنے بیٹوں اور بیوی کے ساتھ باقی کی زندگی بسر کی۔ وہ کھیتی باڑی کرتے تھے اور لوگ دور دور سے ان کی زیارت کو آتے تھے۔ بالآخر انہوں نے اپنا جانشین گرو انگد دیو جی کو چنا اور اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کی وفات کے بارے میں مشہور ہے کہ جب ان کا آخری وقت قریب آیا تو ہندووں نے مطالبہ کیا کہ آپ چونکہ ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے تھے سو آپ کی میت کو جلایا جائے، جبکہ مسلمانوں کا کہنا تھا کہ آپ کی تعلیمات اسلام کے بہت قریب ہیں لہٰذا آپ کو دفنایا جانا چاہیے۔ گرو نانک نے کہا کہ جب میں وصال کر جاوں تو ہندو میری میت کے داہنی طرف پھول رکھ دیں اور مسلمان بائیں طرف اور اگلے دن تک جس طرف کے پھول تازہ رہے، اسی طرف کے لوگ میری میت کے وارث ہوں گے۔ ایسا کیا گیا اور اگلے دن جب میت سے چادر ہٹائی گئی تو وہاں دونوں طرف کے پھول تروتازہ تھے اور میت غائب تھی۔

مسلمانوں نے اپنے حصے کے پھولوں کے دفنا دیا جبکہ ہندووں نے جلا دیا معروف تاریخ دان ڈاکٹر ایچ آر گپتا لکھتے ہیں کہ’ گرو نانک کا مذہب،خدا سے، انسانوں سے اور انسانیت سے پیار کا مذہب تھا۔ ان کا مذہب ذات پات، نسل اور ملک کی قید سے آزاد تھا۔ وہ ہندووں، مسلمانوں، ہندوستانیوں اور غیر ملکیوں سے یکساں محبت کرتے تھے۔ ان کا مذہب ایک عوامی تحریک تھی جس کی بنیاد سیکولر ازم اور سوشل ازم کے جدید تصورات پر مبنی تھی، تمام انسانوں کی برابری کی تحریک۔ نانک کی ساری تعلیمات پنجابی زبان میں تھی اور ان کا کلام گانے والوں میں زیادہ تر غریب محنت کش ہوتے تھے۔ نانک کا خواب ذات پات سے آزاد معاشرے کا قیام تھا۔ ان کے مذہب میں عقائد اور تصورات کے بجائے عملی تعلیمات پر زور تھا، جبکہ اس دور کے طاقتور مذاہب یعنی اسلام اور ہندو مت میں تعلیمات کے ساتھ ساتھ مذہبی تصورات اور عقائد کی بھی بہت اہمیت تھی لیکن گرو نانک کا ماننا تھا کہ عقائد انسانوں کو الجھا دیتے ہیں اور ان میں تفریق پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جبکہ تعلیمات انسان کو ہر گزرتے دن کے ساتھ نکھارتی ہیں۔ ‘حضرت بابا نانک کو سکھ مذہب میں پہلا گُرو، ہندو مذہب میں بھگت اور مسلمانوں کے ہاں ولی اللہ مانا جاتا ہے۔ جبکہ آپ کی زندگی سے ان تینوں حیثیتوں کی تائید بھی ملتی ہے، تاہم آپ نے مذہب کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کو بہت ہی ناروا قرار دیا۔ آپ خدا کو ہر ذی روح میں جاری و ساری قرار دیتے تھے اورگفتار و کردار میں نیکی اور عفو کی تعلیم دیتے رہے۔آپ کے نزدیک خدا انسان کے باطن میں موجود ایک وحدت کا نام ہے جبکہ ذات پات، مذہب و مسلک اور رنگ و نسل کے بُت اس باطنی وحدت کو کمزور کر دیتے ہیں اور انسان کو ٹکڑوں اور گروہوں میں بانٹ کر بکھیر دیتے ہیں۔

Top