You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > متفرق واقعات > نجم سیٹھی بمقابلہ سنی لیون

نجم سیٹھی بمقابلہ سنی لیون

جو شخص اپنی بساط اور ہمت سے بڑھ کر بڑا بول بولے تو پنجابی میں اسے کہا جاتا ہے کہ ‘بوہتا شوخا نہ ہو’۔ پڑوسی ملک کا ایک ٹی وی اشتہار ہے تمباکو نوشی کے خلاف، جس میں ایک بستر مرگ پر پڑے شخص کو دکھایا جاتا ہے۔ اس کی جان لبوں پر ہوتی ہے۔ اس سے آخری خواہش پوچھی جاتی ہے تو وہ اداکارہ سنی لیون سے بیاہ رچانے

کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ جیسے تیسے تمام تر تدابیر کر کے بالآخر سنی لیون اس کی دلہن بن جاتی ہے۔ ڈرپ لگے دلہا کے پاس جونہی دلہن آتی ہے تو اسکی روح پرواز کر جاتی ہے۔ اور تمام تر بندوبست کے باوجود اس کی آخری خواہش بس ‘رسمی’ سی ہی پوری ہو پاتی ہے۔ 2008 میں سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا تو پاکستان پر عالمی کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے۔ پی سی بی کی جانب سے اعلانات کیے گئے کہ بند دروازے کھلیں گے۔ جیسے تیسے سات سال گزرے۔ 2015 میں زمبابوے نے دورہ پاکستان کیا۔ پھر 2017 میں پی ایس ایل فائنل لاہور میں ہوا۔ اور اب ورلڈ الیون دورہ لاہور پر ہے۔ بطور پاکستانی، راقم کو بھی خوشی ہے کہ عالمی کھلاڑی ہمارے میدانوں کی رونقیں دوبالا کر رہے ہیں۔ لیکن کچھ سوالات ہیں جو بلاوجہ ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ مجھے بچپن سے ہی کھیلوں میں بہت دلچسپی رہی ہے۔ مقامی اور سکول کالجز کی سطح پر کرکٹ ٹیم کا کپتان بھی رہا۔ بطور فاسٹ باؤلر بہت تیز رفتار تھا۔ جنون تھا۔ مئی جون کی گرمی میں دوپہر کو کرکٹ چل رہی ہوتی تھی۔ زمانہ طالب علمی میں قذافی سٹیڈیم میں درجنوں میچ دیکھے۔ اور کئی مرتبہ ‘مفت ‘ میں بھی میچ دیکھا۔

دس بارہ دوست موٹر سائیکلوں پر سوار ہوتے کبھی لوکل ٹرانسپورٹ کے ذریعے گانے گاتے شور مچاتے سٹیڈیم پہنچ جاتے۔ ٹکٹ دکھا کر سٹیڈیم داخل ہوتے اور میچ انجوائے کرتے۔ جب ٹکٹ حاصل نہ کر پاتے تو گیٹ پر کھڑے سنتری بادشاہ کی منتیں کرتے کہ چچا پیسے نہیں لیٹ ہو گئے ٹکٹ بھی نہیں۔ مہربانی سٹیڈیم میں جانے دو۔ ڈھیٹ بن کر کھڑے رہتے اور بالآخر سٹیڈیم میں داخل ہو ہی جاتے اور خوب نعرے لگاتے۔ میچ ختم ہوتا تو اسی طرح ہلہ گلہ کرتے واپس گھروں کو پہنچ جاتے۔ جس روز میچ ہوتا، لاہور میں میلے کا سا سماں ہوتا۔ ٹریفک رواں دواں ہوتی۔ سٹیڈیم کے گرد کھانے پینے کے ٹھیلے سجے ہوتے۔ اس روز لاہور میں عام دنوں سے زیادہ کاروبار ہوتا۔ اپنے اس ذاتی تجربے کو بتانے کا مقصد موجودہ ہونے والے میچز ہیں۔ پہلے زمبابوے آئی، پھر پی ایس ایل فائنل ہوا، اور اب ورلڈ الیون کے خلاف سیریز۔ اس قدر سکیورٹی کہ تفریح بھی اذیت بن گئی۔ لاہور کی آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے۔ یہاں آبادی کا اتنا رش ہے کہ سڑکیں 24 گھنٹے بھی ٹریفک سے بھری رہتی ہیں۔ 5 منٹ کے لیے ٹریفک جام ہو جائے تو کئی کلومیٹر لائن لگ جاتی ہے۔

مجھے ایک ضروری کام تھا، داتا دربار جانا پڑا۔ واپسی ڈیفنس کے قریب ہونا تھی۔ روٹ بند، ٹریفک جام، شہری اذیت سے دو چار۔ زمانہ طالب علمی کی آوارہ گردی کام آئی اور پتہ نہیں شہر کے کن کن علاقوں کی کون کون سی گلیوں اور چھوٹے راستوں سے ہوتا ہوا 4 گھنٹے میں منزل پر پہنچا۔ والدین کی فلائیٹ تھی۔ ان کو لینے کیلئے دوبارہ گھر سے نکلنا پڑا۔ ائیرپورٹ میرے گھر سے 10 منٹ کی ڈرائیو پر ہے۔ لیکن مجھے وہاں پہنچنے میں تقریباً 50 منٹ لگے۔ اس تمام دن میرا جتنا بھی سفر رہا، داتا دربار سے ڈیفنس کیلئے ملتان روڈ، اقبال ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن، مسلم ٹاؤن سے سمیت بہت سے علاقوں سے گزر کر جانا پڑا۔ راستے میں ہزاروں پیدل لوگ دیکھے، سینکڑوں ضعیف پیدل چلتے افراد دیکھے جو اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر گھروں کو جا رہے تھے۔ میٹرو بس سروس بند کر دی گئی۔ عام ٹریفک کا حال برا تھا۔ کئی ایمبولینسز پھنسی ہوئی تھیں۔ اس سب صورتحال کو دیکھ کر صرف اور صرف نجم سیٹھی کا خیال آیا۔ اور ساتھ ہی ایک محاورہ ‘گناہ بے لذت’ بھی سمجھ میں آیا۔ ایک ایسی تفریح جس کیلئے ڈیڑھ کروڑ آبادی کو مشکل میں ڈال دیا گیا۔

نجم سیٹھی کہتے نہیں تھکتے کہ وہ عالمی کرکٹ پاکستان لے آئے ہیں۔ اگر اتنی ہی سکیورٹی دینی ہے اور شہریوں کو اذیت میں مبتلا کرنا ہے تو میں بھی کھلا چیلنج کرتا ہوں کہ میں دنیا کی کسی بھی ٹیم کو پاکستان لا سکتا ہوں۔ یہ کونسی بڑی بات ہے؟ ایک مخصوص علاقے کو سیل کر کے دنیا کو پیغام دے رہے ہو کہ دیکھو ہم کتنے پرامن ہیں۔ سب اچھا ہی اچھا ہے۔ اتنی زیادہ سکیورٹی تو خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں حالات خراب ہیں۔ دس سال سے باہر کھیل رہے ہو ٹی 20 چیمپئن بنے، ٹیسٹ ورلڈ نمبر ایک بنے، چیمپئنز ٹرافی کے چیمپئن بنے۔ سب باہر ہی کھیل کر حاصل کیا تو ایسی کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ اتنے غیر معمولی حالات میں مہمانوں کو پاکستان بلایا جائے؟ اگر بلا ہی لیا ہے تو کم از کم لاہور میں تعطیل کا اعلان ہی کر دیتے۔ سکول، کالج، بازار دفاتر بند ہوتے تو سڑکوں کی آدھی سے زائد ٹریفک کم ہو جاتی۔ پتہ نہیں کتنی ایمبولینسز میں کتنے مریضوں نے دم توڑا ہوگا، کون سا بوڑھا پانچ سے چھ گھنٹے پیدل چل کر گھر پہنچا ہوگا تو اگلے روز اس میں دیہاڑی کی ہمت ہوگی بھی یا نہیں۔ اللہ کرے پوری سیریز خیر و عافیت سے مکمل ہو۔

لیکن خدا نہ کرے اگر کوئی دہشتگردی کا واقعہ ہو جائے تو رہی سہی عزت بھی خاک میں مل جائے گی۔ جب ہم کو پتہ ہے کہ ہمارے حالات ٹھیک نہیں، ہماری فورسز دہشتگردوں کو انجام تک پہنچا رہی ہیں، اب تو گنتی کے دہشتگرد رہ گئے ہیں تو کیوں نہ ان کے بھی خاتمے کا انتظار کر لیا جائے؟ کیوں نہ ایک بار پھر وہی ہو کہ جس روز میچ ہو ایسے ہی طالب علم موٹرسائیکلوں اور لوکل ٹرانسپورٹ میں سوار ہو کر سٹیڈیم پہنچیں۔ ویسے ہی سٹیڈیم کے باہر ٹھیلوں سے چیزیں کھائیں۔ ویسے ہی اسٹیڈیم میں بلا خوف و خطر نعرے بازی کریں۔ اور سب سے بڑھ کر جب قذافی سٹیڈیم کے اندر میچ کھیلا جا رہا ہو تو کچھ قدم دور مین روڈ پر ویسے ہی ٹریفک رواں دواں ہو۔ شہریوں کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ نجم سیٹھی کو ایک سیریز کے لیے ملک کے ہر ادارے نے ہر سہولت دی۔ مگر اس کے باوجود وہ کریڈٹ اکیلے لیتے ہیں۔ اتنی سہولیات دو تو گلی کی نکڑ میں کھڑا نکما شخص بھی عالمی کرکٹ پاکستان میں بحال کرا سکتا ہے۔ نجم سیٹھی کو اتنی سہولیات ملیں مگرمقصد پھر بھی پورا نہ ہو سکا۔ تفریح اتنے حصاروں اور قیود میں نہیں ہوتی۔ اتنی سہولیات کے باوجود عین ٹائم پر داغ مفارقت۔ میرے ذہن میں اداکارہ سنی لیون کا اشتہار گھوم رہا ہے اور ساتھ ساتھ نجم سیٹھی کی تصویر بھی۔ خوشی تو ہے کہ میدان پھر سے آباد ہیں۔ لیکن سوالات بھی اپنی جگہ۔

Top