You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > متفرق واقعات > نواز شریف بمقابلہ شاہد خاقان عباسی

نواز شریف بمقابلہ شاہد خاقان عباسی

سابق وزیراعظم نواز شریف اور موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دور حکومت کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف پارلیمنٹ کو اتنی اہمیت نہیں دیتے تھے جتنا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی دے رہے ہیں، حالانکہ شاہد خاقان حادثاتی طور پر وزیراعظم بنے ہیں لیکن انہوں نے ڈلیور بھی کیا ہے اور پارلیمنٹ کو اہمیت بھی دی ہے، شاہد خاقان عباسی کی کوشش ہے کہ کوئی بھی فیصلہ پارلیمانی رہنماؤں کی

مشاورت کے بغیر نہ کیا جائے، نواز شریف بھی پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت ضرور کرتے تھے لیکن پارلیمان میں ان کی حاضری نہایت کم تھی۔ ایک رپورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے دور حکومت کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا، رپورٹ کے مطابق موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے 90 دن سابق نواز شریف کے 900 دنوں پر بھاری ہوگئے، پارلیمنٹ میں حاضری کابینہ کے اجلاس اور انٹرویوز کی تعداد نواز شریف سے کہیں زیادہ ہے، شاہد خاقان عباسی کے 90 دن نے ساری کایہ ہی پلٹ دی، نواز شریف کے حالیہ وزارت عظمیٰ کے 900 دنوں میں کابینہ کے محض 10 اجلاس ہوئے جبکہ موجودہ وزیراعظم کے دور میں اب تک 12 اجلاس ہوچکے ہیں، اس طرح پہلے 4 ماہ میں ایک اجلاس ہوتا تھا اب مہینے میں 4 اجلاس ہورہے ہیں۔ نواز شریف کے 900 دنوں میں قومی سلامتی کے 13 جبکہ شاہد خاقان عباسی کے 90 دنوں میں 14 اجلاس ہوئے، شاہد خاقان عباسی کی حاضری بھی پارلیمنٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے دگنی ہے، نواز کی حاضری 13 فیصد تھی جبکہ اب 26 فیصد ہے، نواز شریف ہفتہ میں چھٹی کے 2 دن لاہور کا سفر کرتے تھے جبکہ موجودہ وزیراعظم اسلام آباد میں ہی ہوتے ہیں، نواز شریف نے 900 دنوں میں صرف ایک انٹرویو دیا جبکہ شاہد خاقان اب تک ملکی و غیر ملکی میڈیا کو 10 انٹرویوز دے چکے ہیں، نواز شریف کے مقابلے میں شاہد خاقان عباسی کا پروٹوکول بھی نہ ہونے کے برابر ہے،

دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سینیٹ اجلاسوں میں بھی باقاعدگی سے شریک ہوتے ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ سابق وزیراعظم نواز شریف بڑے لیڈر ہیں، ان کی کارکردگی بہترین رہی، ان کے دور حکومت میں ہی ملک سے دہشتگردی ختم ہوئی، لوڈ شیڈنگ کم ہوئی اور پاکستان کو سی پیک جیسے خوشحالی کے منصوبے ملے، وہ اب بھی لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں لیکن اگر وہ اپنے دور حکومت میں پارلیمنٹ کو اہمیت دیتے تو آج ان کا ساتھ دینے والے بہت سے سیاسی رہنماء ان کے ساتھ ہوتے، پیپلز پارٹی کے رہنماء بارہا یہ کہتے ہوئے دیکھے گئے ہیں کہ نواز شریف پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتے، نواز شریف اگر پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیکر فیصلے کرتے تو آج ان کی سیاسی صورتحال مختلف ہوتی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اچھی روش ڈالی ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور سینیٹ کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شریک ہورہے ہیں اور تمام فیصلے مشاورت سے کرتے ہیں، ان کی کارکردگی بھی اچھی ہے، شاہد خاقان عباسی کی دیکھا دیکھی ممکن ہے کہ پاکستان کے آئندہ آنیوالے وزیراعظم بھی پارلیمنٹ کو اہمیت دینے لگیں، ہر سیاستدان کہتا ہے کہ دوسرے اداروں کی طرح پارلیمنٹ کی بھی عزت کی جائے لیکن پارلیمنٹ کی عزت تب ہی ہوگی جب سیاستدان خود پارلیمنٹ کو عزت دیں گے اور پارلیمنٹ میں آکر کام کریں گے۔

Top