You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > متفرق واقعات > نواز نہیں تو شہباز، کیا فرق پڑتا ہے

نواز نہیں تو شہباز، کیا فرق پڑتا ہے

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے عام انتخابات میں وزیراعظم کے امیدوار موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ہونگے۔ اس فیصلے سے کیا فرق پڑتا ہے؟۔ کونسا نواز لیگ یہ فیصلہ خوشی سے کر رہی ہے۔ نواز لیگ کی مجبوری ہے کہ وہ سابق وزیراعظم کے نااہل ہوجانے کے بعد

کسی نا کسی کو اگلے عام انتخابات کیلئے وزارت عظمی کا امیدوار منتخب کرے۔ پھر نواز شریف نا سہی، شہباز شریف ہی سہی۔ ہیں تو شریف ہی نا۔ اب نواز لیگ میں اتنی جمہوریت تو ہے نہیں کہ وہ شریف خاندان کے باہر سے امیدوار منتخب کرے۔ چنانچہ ایسے حالات میں بہترین چوائس شہباز شریف ہی بنتے ہیں۔ حالانکہ دخترِ نااہل وزیراعظم مریم نواز کی انتھک محنت اور کوششوں کے باوجود نواز لیگ کے رہنماؤں نے انھیں اس قابل نہیں سمجھاکہ شہباز شریف پر فوقیت دیتے ہوئے مریم نواز کو وزیراعظم کا امیدوار منتخب کرتے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ فیصلہ نواز لیگ کیلئے بہتر ہوگا اور اس کی وجہ یہ کہ صرف پنجاب کا وزیراعلی ہونے کے باوجود شہباز شریف اپنی گورننس اور طرزِ حکمرانی کی وجہ سے پورے پاکستان میں مشہور ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ووٹ کسی سیاسی جماعت، نظرئیے یا منشور کی بجائے شخصیت کوملتا ہے اور نواز لیگ کی 2013 کے عام انتخابات جیتنے کی وجہ شیر کو پڑنے والے ووٹ نہیں بلکہ نواز شریف کے نام پر پڑنے وال ووٹ تھے۔ شیر کو ووٹ اس لئے پڑے کیونکہ نواز شریف کا انتخابی نشان شیر تھا۔ ناکہ نواز لیگ کا۔ پاناما لیکس کیس

کا فیصلہ آنے کے بعد چونکہ سابق وزیراعظم نااہل ہوچکے ہیں۔ لہذا ایسی صورتحال میں شہباز شریف ہی وزیراعظم کیلئے بہترین متوقع امیدوار ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ شہباز شریف نے اپنے حالیہ دو ادوار میں صوبہ پنجاب کی شکل بدل کر رکھ دی ہے جس کی مثالیں دوسرے صوبوں کی عوام بھی دیتی ہے۔ بلکہ دوسرے صوبوں میں تو یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اگر ان کا وزیراعلی بھی شہباز شریف ہوتا تو ان کے صوبے کے وہ حالات نہیں ہوتے، جو آج ہیں۔ سابق وزیراعظم کی نااہلی کے بعد یہ خبریں بھی آئیں تھیں کہ بقیہ مدت کیلئے شاہد خاقان عباسی سے پہلے شہباز شریف کو منتخب کیاگیا تھا۔ مگر پنجاب میں زیر تکمیل پروجیکٹس اور اگلے عام انتخابات میں پنجاب میں مطلوبہ نتائج کے حصول کیلئے شہباز شریف کو وزیراعظم نا بنانے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر شہباز شریف وزیراعظم بنتے ہیں تو پنجاب کو اس کا نقصان ہوگا۔ لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ جو کارکردگی شہباز شریف نے اپنے ادوار میں پنجاب میں دکھائی ہے۔ اگر ویسی ہی کارکردگی وہ وفاق میں دکھاتے ہیں تو پورا ملک پنجاب کی طرح ترقی کرسکتا ہے۔

نااہل وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد پنجاب میں یقینی طور پر پاکستان تحریک انصاف کیلئے عام انتخابات میں مقابلہ 2013 کے انتخابات کے مقابلے میں آسان ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ عمران خان کی خوش فہمی ہوگی۔ اس کی وجہ یہ کہ دیگر صوبوں کی جوعوام شہباز شریف کو آئیڈیل مانتی ہے۔ وہ شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کیلئے نواز لیگ کے امیدوار کوووٹ دیں گے۔ حتٰی کہ وہ ووٹرز بھی جنھوں نے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو صوبائی حکومت کیلئے منتخب کیا تھا۔ وہ بھی پنجاب کی قدرے بہتر صورتحال کودیکھتے ہوئے شہباز شریف کو ووٹ دیں گے۔ جس کا نقصان یقنینی طور پر تحریک انصاف کو ہوگا۔ جہاں تک بات ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی تو ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی جماعت پنجاب میں آٹے میں نمک کے برابر ہی رہ گئی ہے۔ شہباز شریف کے وزیراعظم کے امیدوار ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کے علاوہ پیپلز پارٹی بھی ممکنہ طور پر نواز لیگ کے اس فیصلے سے متاثر ہوگی۔ کیونکہ نواز لیگ اپنی قدرے بہتر کارکردگی اور شہباز شریف کی وجہ سے پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔ جوکہ وفاق میں حکومت حاصل کرنے کیلئے نواز لیگ کا اصل ہدف ہوتا ہے۔

Top