’’میں بابری مسجد کی چھت پر چڑھا تو اس کے ساتھ ہی بے چینی اور ۔ ۔ ۔ ‘‘مسجد شہید کرنیوالے بلبیر سنگھ پر کیا بیتی کہ وہ مشرف بہ اسلام ہوگئے اور دیگر لوگ اب کس حال میں ہیں؟ ایسی کہانی کہ آپ کا ایمان بھی تازہ ہوجائے گا

نئی دہلی (ویب ڈیسک) گزشتہ کئی دنوں سے بابری مسجد کی شہادت کے اہم کردار ہندوانتہاء پسند بلبیرسنگھ خبروں میں ہیں جنہوں نے بعدازاں اسلام قبول کرلیا تھا اور صرف بھارت میں 91مساجد تعمیر کراچکے ہیں، بنگلہ دیش میں ان سے ہی منصوب بابری مسجد کے نام سے مسجد کی بنیاد رکھی گئی ۔
جیونیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ماضی کے بلبیر اور آج کے مسلمان محمد عامر نے بتایاکہ بابری مسجد شہید کرنے چھت پر چڑھا تو بے چینی اور کپکپاہٹ شروع ہوگئی تھی،اسلام قبول کرنے میں مجھے کم و بیش چھ مہینے لگ گئے تھے، میرے والدین اور دونوں بھائی بھی مسلمان ہو گئے ہیں، میری اہلیہ نے میرے قبول اسلام کے چار مہینے بعد اسلام قبول کیا، بابری مسجد شہید کرنے والے 28لوگوں نے مولانا کلیم صدیقی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اورباقی بزرگانِ دین کے ذریعہ بھی بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا، بابری مسجد شہید کرنے والی تنظیموں کے سرداروں کی بیٹیاں اور خاندان والے سب سے زیادہ اسلام قبول کررہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں محمد عامر نے بتایاکہ اللہ تعالیٰ کس کو کب ہدایت دیدے یہ اس کا معاملہ ہے، بابر ی مسجد شہید کرنے کے بعد واپس آیا تو ذہن پر کافی بوجھ تھا، ہر آہٹ پر ایسا لگتا تھا کہ مسلمان مجھے مارنے آگئے، بے چینی اس قدر بڑھی کہ اس کا کوئی علاج نہیں ہورہا تھا، اپنی بے چینی کے علاج کیلئے مولانا کے پاس گیا کہ شاید یہ کوئی تعویذ دیدیں اور چونکہ یہ مسلمانوں کے بڑے ہیں ان سے معافی مانگ لوں گا تو شاید مسلمان مجھے معاف کردیں، مولانا کے پاس گیا تو میرا نظریہ اسلام قبول کرنے کا نہیں تھا۔ انہوں نے بتایاکہ بابری مسجد کی شہادت کے وقت بے چینی اور کپکپاہٹ پر ایسا لگا کہ بہت زیادہ لوگوں کے سامنے ہوں اس لئے بے چینی ہے لیکن وقت کے ساتھ گھبراہٹ مسلسل بڑھتی چلی گئی اور بالآخر مشرف بہ اسلام ہوکر ہی چین نصیب ہوا۔