خانہ کعبہ میں لگے ہوئے مقدس پتھر حجر اسودکی اصلی پہچان کیا ہے؟ جب ایک بادشاہ حجر اسود اتار کر لے گیا اور واپسی کے موقع پر مسلمانوںکو نقلی پتھر دینے کی کوشش کی تو مسلمانوں نے اصلی حجر اسود کو کیسے پہچانا؟

مکہ(مانیٹرنگ ڈیسک) مسجد الحرام کے مرکز میں کعبتہ اللہ کے مشرقی کنارے پر وہ مقدس پتھر نصب ہے جسے دنیا بھر کے مسلمان حجر اسود کے نام سے جانتے ہیں۔ حجر اسود کے متعلق اکثر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ یہ پتھر کا ایک بڑا ٹکڑا ہے لیکن درحقیقت یہ چند چھوٹے ٹکڑوں کا مجموعہ ہے۔حجر اسودسے متعلق سعودی گزٹ نے معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ صرف ایک پتھر نہیںبلکہ یہ پتھر آٹھ چھوٹے ٹکڑوں سے مل کر بنا ہے جن میں سے سب سے بڑے کی جسامت ایک کھجور کے برابر ہے۔حجر اسود سے متعلق سعودی

گزٹ کی معلومات تو آپ جان ہی چکے ہیں تاہم آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ حجر اسود نہ تو پانی میں ڈوبتا ہے اور نہ ہی اس پر آگ کا کچھ اثر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے تاریخ میں ایک واقعہ درج ہے کہ 7 ذی الحجہ 317ھ کو بحرین کے حاکم ابو طاہر سلیمان قرامطی نے مکہ معظمہ پر قبضہ کر لیا خوف و ہراس کا یہ عالم تھا کہ اس سال 317ھ کو حج بیت اللہ شریف نہ ہو سکا کوئی بھی شخص عرفات نہ جا سکا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یہ اسلام میں پہلا موقع تھا کہ حج بیت اللہ موقوف ہو گیا۔۔۔ اسی ابو طاہر قرامطی نے حجر اسودکو خانہ کعبہ سے نکالا اور اپنے ساتھ بحرین لے گیا۔ پھر بنو عباس کے خلیفہ مقتدر باللہ نے ابو طاہر قرامطی کے ساتھ فیصلہ کیا اور تیس ہزار دینار دے دیے۔تب حجر اسود خانہ کعبہ کو واپس کیا گیا۔ یہ واپسی 339ھ کو ہوئی، گویا کہ 22 سال تک خانہ کعبہ حجر اسود سے خالی رہا۔ جب فیصلہ ہوا کہ حجر اسود کو واپس کیا جائے گا تو اس سلسلے میں خلیفہ وقت نے ایک بڑے عالم محدث شیخ عبداللہ کو حجر اسود کی وصولی کے لیے ایک وفد کے ساتھ بحرین بھجوایا۔۔ یہ واقعہ علامہ سیوطی کی روایت سے اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ جب شیخ عبداللہ بحرین پہنچ گئے تو بحرین کے حاکم نے ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میںحجر اسود کو ان کے حوالہ کیا گیا تو ان کے لیے ایک پتھر خوشبودار۔۔ خوبصورت غلاف میں سے نکالا گیا کہ یہ حجر اسود ہے اسے لے جائیں۔ محدث عبداللہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ حجر اسود میں دو نشانیاں ہیں اگر یہ پتھر اس معیار پر پورا اترا تو یہ حجر اسود ہوگا اور ہم لے جائیں گے۔ پہلی نشانی یہ کہ پانی میں ڈوبتا نہیں ہے دوسری یہ کہ آگ سے گرم بھی نہیں ہوتا۔ اب اس پتھر کو جب پانی میں ڈالا گیا تو وہ ڈوب گیا پھر آگ میں اسے ڈالا تو سخت گرم ہو گیا۔۔ فرمایا ہم اصل حجر اسود کو لیں گے پھر اصل حجر اسود لایا گیا اور آگ میں ڈالا گیا تو ٹھنڈا نکلا پھر پانی میں ڈالا گیا وہ پھول کی طرح پانی کے اوپر تیرنے لگا تو محدث عبداللہ نے فرمایا یہی ہمارا حجر اسود ہے اور یہی خانہ کعبہ کی زینت ہے اور یہی جنت والا پتھر ہے۔(م،ش)