نبی پاک ﷺ کے وصال کے بعد حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا کیا حال رہا ؟ انہوں نے اپنے باقی زندگی کہا ں گزاری ؟ پڑھیے عشق رسول ﷺ کی ایسی داستان جو قیامت تک لازوال رہے گی

حضرت بلال حبشی کا عشق نبی ﷺ بھی بے مثال ہے انہوں نے رہتی دنیا تک ہر عاشق رسول ﷺ میں ایسی لازوال محبت ڈال دی کہ ہر کوئی حیران رہ جاتا ہے ۔سیدنا بلال حبشیؓ کے لیے وہم تک نہ تھا کہ آپؓ مدینہ طیبہ چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں چلے جائیں گے، لیکن خمیر کا تقاضا یونہی تھا کہ آپؓ کا قیام دمشق میں ہو۔

چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے وصال شریف کے بعد سیدنا بلال حبشیؓ بہت افسردہ اور غمگین رہنے لگے۔ایک دن خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ سے جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کی تو حضرت ابوبکر صدیقؓ خاموش رہے۔ایک روایت کے مطابق:’’حضرت ابوبکر صدیقؓ جمعۃ المبارک کے روز منبر پر جلوہ افروز تھے کہ سیدنا بلال حبشیؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا:’’یاابوبکر صدیقؓ! کیا آپؓ نے مجھے امیہ کی غلامی سے اس لیے رہائی دلائی تھی کہ جہاد سے روک رکھیں۔ جہاد افضل ترین عمل ہے، مجھے شرکت کی اجازت دے دی جائے۔‘‘اس پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا:’’اےآواز میں کہا:’’اے بلالؓ! یہ بات نہیں بلکہ میری زندگی کی شام ہو چکی۔ بڑھاپے کے آثار نمودار ہو چکے اور میری اجل کے دن قریب آ گئے۔ تجھے اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کا واسطہ مجھے چھوڑ کر کہیں نہ جا۔ مجھ سے تیری جدائی برداشت نہ ہو گی۔‘‘حضرت ابوبکر صدیقؓ کے اس محبت بھرے فرمان کے بعد سیدنا بلال حبشیؓ نے مزید اصرار نہ کیا۔۱۳ھ میں حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں سیدنا بلال حبشیؓ اسلام لشکر کے ساتھ شامی کی سمت روانہ ہو گئے۔ چار سال جہاد کے بعد ۱۶ھ میں شام فتح ہو چکا

تو سیدنا بلال حبشیؓ نے حضرت عمر فاروقؓ کے نام پیغام بھیجا: ’’مجھے یہیں مستقل سکونت کی اجازت دے دی جائے اور میرے اسلامی بھائی حضرت ابو رویحہؓ کو بھی مدینہ منورہ سے میرے پاس بھیج دیا جائے۔‘‘حضرت عمر فاروقؓ نے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے حضرت ابو رویحہؓ کو بھی دمشق جانے کی اجازت مرحمت فرما دی۔سیدنا بلال حبشیؓ اسلام لشکر سے رخصت ہوئے اور دمشق کے قصبہ خولان میں جا کر مستقل سکونت اختیار کر لی۔ یہیں انہیں کچھ زرعی زمین بھی مل گئی اور دونوں بھائی کھیتی باڑی میں دلچسپی لینے لگے۔ پانچ ہزار درہم سالانہ وظیفہ بھی انہیں مسلسل ملتا رہا۔بیت المقدس کی فتح کے موقعہ پر سیدنا بلال حبشیؓ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے اور جابیہ کے مقام پر ملاقات ہوئی۔ پھر آپؓ بیت المقدس تک ان کے ساتھ رہے۔اس قافلے میں سیدنا بلالؓ کی موجودگی سے سب کے دلوں میں خواہش پیدا ہوئی مگر وہ جانتے تھے کہ سیدنا بلال حبشیؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد اذان نہیں دی۔ اگر اس عاشق زار کو اذان کے لیے کہا گیا تو مزید تڑپیں گے۔ آخرکار حضرت عمر فاروقؓ نے سیدنا بلال حبشیؓ سے اذان سنانے کی فرمائش کر دی۔

سیدنا بلال حبشیؓ بوجھل دل کے ساتھ اٹھے اور اذان کہنا شروع کی یہ مغرب کا وقت تھا، ڈوبتے سورج کی آخری کرنیں نظر آ رہی تھیں کہ سیدنا بلال حبشیؓ کی صدائے توحید فضاء میں بلند ہوئی۔جوں جوں اذان آگے بڑھتی گئی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اور دیگر مسلمان جو وہاں اس وقت موجود تھے، نورانی کیف کی آغوش میں جذب ہوتے چلے گئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے تمام سامعین زار و قطار رونے لگے۔سب کو اذانِ بلال حبشیؓ نے عہد رسالت ﷺ یاد دلا دیا۔ سیدنا بلال حبشیؓ اپنے عظیم ساتھیوں سے ملاقات کے بعد دمشق تشریف لے گئے اور یاد مصطفیٰ ﷺ میں دن گزارنے لگے۔ایک عرصے کے بعد سیدنا بلال حبشیؓ نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’اے بلالؓ تم نے ہم سے ملنا کیوں چھوڑ دیا؟‘سیدنا بلالؓ یہ خواب دیکھ کر ’’لبیک یاسیدی‘‘ کہتے ہوئے اٹھے اور اس وقت رات ہی کو اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ طیبہ کو چل پڑے۔مدینہ طیبہ میں داخل ہو کر سیدھے مسجد نبوی ﷺ پہنچے اور رسول اللہ ﷺ کو نہ دیکھا تو حجروں میں تلاش کیا۔ جب وہاں بھی نہ ملے تو مزار پُرانوار پر حاضر ہوئے اور رو رو کر عرض کیا:’’یارسول اللہ ﷺ ! حلب سے غلام کو یہ فرما کر بلایا کہ ہم سے مل جاؤ اور جب بلالؓ زیارت کے لیے حاضر ہوا تو آپ ﷺ پردہ میں چھپ گئے۔‘‘یہ کہہ کر آپؓ بے خود ہو کر قبر انور کے پاس گر گئے۔

کافی دیر بعد جب طبیعت کچھ سنبھلی تو لوگ آپؓ کو باہر اٹھا لائے۔ اس دوران سیدنا بلال حبشیؓ کی مدینہ طیبہ میں آمد کی خبر پھیل گئی۔ بے شمار لوگ اکٹھے ہو گئے اور مؤذن رسول ﷺ سے اذان سنانے کی درخواست کرنے لگے۔سیدنا بلال حبشیؓ کہنے لگے:’’دوستو! یہ بات میری طاقت سے باہر ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی ظاہری زندگی میں اذان دیتا تھا تو جس وقت اشہد ان محمداً رسول اللہ کہتا تھا تو رسول اللہ ﷺ کو سامنے آنکھوں سے دیکھ لیتا تھا۔ اب بتاؤ کہ کیسے دیکھوں گا، مجھے اس خدمت سے معاف رکھو۔‘‘اب صحابہ کرامؓ نے حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کو بلوایا۔ دونوں شہزادگان نے سیدنا بلال حبشیؓ کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا:’’آج ہمیں بھی وہی اذان سنا دو جو نبی پاک ﷺ کو سنایا کرتے تھے۔‘‘سیدنا بلال حبشیؓ نے حضرت امام حسینؓ کو گود میں اٹھا کر فرمایا:’’تم میرے محبوب ﷺ کے نواسے ہو، لے چلو، جہاں کہو گے اذان کہہ دوں گا۔‘‘سیدنا بلال حبشیؓ نے اذان کہنا شروع کی۔ مدینہ طیبہ میں یہ وقت بڑا غم اور صدمہ کا وقت تھا۔ جب اشہد ان محمداً رسول اللہ منہ سے نکالا اور رسول اللہ ﷺ کو آنکھوں سے نہ دیکھا تورسول اللہ ﷺ کے غم ہجر میں بے ہوش ہو کر گر گئے۔ بہت دیر کے بعد ہوش میں آ کر اٹھے اور روتے ہوئے شام واپس چلے گئے۔ (مدارج النبوۃ) جب آپؓ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپؓ کی زوجہ محترمہ قریب بیٹھی تھیں اور زار و قطار رو رہی تھیں اور جب انہوں نے کہا:’’ہائے کیسا غم ہے۔‘‘آپؓ نے جواب میں فرمایا:’’کتنی خوشی کی بات ہے۔ کل میں اپنے محبوب ﷺ اور اصحاب النبی سے ملوں گا۔‘‘اور دوسرے ہی روز آپؓ کا وصال ہو گیا اور دمشق کے مشہور قبرستان باب الصغیر میں آسودۂ خاک ہوئے۔حضرت عمر فاروقؓ نے سنا تو فرمایا:’’آج ہمارا سردار فوت ہو گیا۔‘