جب نبی پاک ﷺ کے قدم مبارک بیت المقدس کی زمین پر پڑے ،پڑھیے نبی پاک ﷺ کے معجزے کی صداقت پر قیصر روم کی تحقیق کا حیران کن واقعہ

سفرِمعراج کی قدم قدم پر اغیار کے حوالے سے تصدیق بھی ہو رہی تھی اور توثیق بھی، لیکن جن دلوں پر کفر کے تالے پڑے تھے انہیں سورج کی روشنی کیا نظر آتی! وہ معجزاتِ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کا لیبل لگا کر اپنے کفر کو تسکین دے لیتے۔ آج صدیاں گزر جانے کے بعد جب سائنسی ارتقاء اپنی معراج کو چھو رہا ہے،

کائنات کی بیکراں وسعتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقوشِ کفِ پا کی تصدیق کر رہی ہیں۔کتبِ حدیث اور کتبِ تفسیر میں ایک یہودی عالم کا واقعہ بھی درج ہے۔ خاص طور پر امام ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر اور امام ابو نعیم اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے دلائل النبوۃ میں بیان کیا ہے کہ محمد بن کعب الکربی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابی دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو قیصرِ روم کی طرف اسلام کا پیغام دے کر بھیجا۔ آپ نے اس عیسائی بادشاہ کو دعوتِ اسلام پہنچائی اور آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل اور مناقب بیان کئے تو اس نے کہا کہ میں عرب کے کچھ تاجروں سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں۔ان سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات بیان کرنے کو کہا گیا۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ کسی طرح بادشاہ کی نظروں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا درجہ گر جائے اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماننے سے انکار کر دے لیکن محتاط بھی رہا کہ کسی جھوٹ پر پکڑا نہ جاؤں۔

ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے قیصرِ روم! میں تمہیں اس نبی کی ایک ایسی بات بتاتا ہوں جسے سن کر تجھے (معاذاللہ) اس کے جھوٹے ہونے کا یقین آ جائے گا۔ یہ کہہ کر واقعۂ معراج بیان کیا۔ جب وہ اس مقام پر پہنچا کہ اس نبی نے کہا کہ میں برّاق پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچا جہاں بابِ محمد میرے لئے کھلا تھا۔ وہاں پتھر سے برّاق کو باندھا گیا تھا تو قیصرِروم کے دربار میں موجود دنیائے عیسائیت کے سب سے بڑے پادری نے کہا کہ ہاں اس رات کا مجھے علم ہے۔ قیصرِ روم نے کہا تجھے اس رات کی کیا خبر ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ میرا معمول تھا کہ میں ہر رات مسجدِاَقصیٰ کے دروازے اپنے ہاتھوں سے بند کر کے اور تالے لگا کر سویا کرتا تھا۔اس رات جب میں اس دروازے پر پہنچا تو وہ بند نہ ہوا۔ میں نے اپنے کئی ساتھیوں کو بلایا جنہوں نے مل کر زور لگایا مگر پھر بھی دروازہ بندہ نہ ہوا حتیٰ کہ مستریوں کی سب کوششیں بھی بے کار گئیں لہٰذا فیصلہ یہ ہوا کہ اب تو اسے کھلا چھوڑ کر سو جائیں۔ صبح اٹھ کر اسے بند کر دیں گے۔ پادری کہتا ہے کہ خدا کی قسم! اس رات میں دروازہ کھلا چھوڑ کر سو گیا لیکن ساری رات سوچتا رہا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ جب علی الصبح میں نے دروازہ بند کرنا چاہا تو وہی دروازہ جو رات کو بند نہ ہوا تھا اس وقت آرام سے بند ہو گیا۔ میں بھی حیران ہو رہا تھا کہ میری نظر دروازے کے باہر پتھر پر پڑی

تو اس پر سواری کے باندھنے کا نشان تھا۔ اس پتھر کے بارے میں تاجدارِ کائنات حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا :لما انتهينا إلی بيت المقدس قال جبرئيل بإصبعه، فخرق به الحجر و شدّ بها البُرّاق.جب ہم بیت المقدس پہنچے تو جبرئیل نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا تو اس پتھر میں سوراخ ہو گیا۔ پھر جبرئیل نے اس کے ساتھ براق باندھا۔1. جامع الترمذی، 2 : 141، کتاب التفسير، رقم : 3132 2. المستدرک للحاکم، 2 : 360، رقم : 3370 3. مشکوة المصابيح، 3 : 306، رقم : 5921 وہ یہودی عالم کہتا ہے کہ میں نے اس کیفیت کو دیکھا تو مجھے پرانی الہامی کتابوں میں پڑھا ہوا یہ واقعہ یاد آ گیا جو ہم انبیاء کی زبانی سنتے آئے ہیں کہ جب نبئ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ آئے گا تو انہیں سفرِمعراج پر بلایا جائے گا اور وہ اس رات بیت المقدس آ کر انبیاء کی امامت کرائیں گے اور اس پتھر پر ان کی سواری باندھی جائے گی۔ میں سمجھ گیا کہ آج نبئ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معراج کی رات ہے اور ابوسفیان رضی اللہ عنہ اپنے بیان میں سچا ہے۔ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ سنا تو میرے قدموں کے نیچے سے زمین نکل گئی کہ یہ تو ایسی حقیقت ہے کہ عالمِ عیسائیت کا بڑا پادری بھی اپنی مخالفت کے باوجود جسے تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ امام ابو نعیم اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ تو یہاں تک بیان کرتے ہیں کہ وہ پتھر ان کے زمانے تک موجود رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم! لوگ آج بھی سواری باندھے جانے والی جگہ پر ہاتھ لگا کر برکتیں حاصل کرتے ہیں۔ (دلائل النبوة : 288)