حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کا حیر ت انگیز قبول اسلام،پڑھیے ایسا واقعہ جوآپ کے ایمان کو ترو تازہ کر دے گا

حضرت ثمامہ بن اثال کا واقعہ بھی ایسا ہی تعجب انگیز اور حیرت افزا ہے۔ وہ ایک مجبور و بے بس قیدی کی حیثیت سے لائے گئے اور زنجیروں میں باندھ کر رکھے گئے لیکن اسلام لاکر سعادت و ارجمندی کے اوج کمال تک پہنچ گئے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں۔ ایک کافر مسلمانوں کے ہتھے چڑھ گیا

وہ عمرہ کرنے کی نیت سے مکہ مکرمہ جارہا تھا مگر راستے میں گرفتار ہوگیا، مسلمان فوجی دستے نے اسے مسجد میں ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ کچھ دیر تک تو اسے وحشت محسوس ہوئی لیکن تھوڑی ہی دیر بعد اس کی وحشت کافورہوگئی اور تجسس و مشاہدہ اور بغور مطالعہ کرنے کا جذبہ غالب آگیا، اس نے محسوس کیا کہ ایک بے بس قیدی کی حیثیت سے کسی نے اس کا مذاق اڑانے، لاچار سمجھ کر طعنے دینےطعنے دینے اور فقرے چست کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، نہ اسے حقارت آمیز نظروں سے دیکھا ہے اور نہ اس کی عزتِ نفس مجروح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے برعکس ان کی شفقت بھری نظروں میں پیار کے ڈورے ہیں، باتوں میں لوچ اور مٹھاس ہے، ہمدردی اور پیار کے امرت رس میں گندھی ہوئی باتیں روح کے لئے پیغام حیات ہیں جو کانوں میں رس گھولتی ہوئی دل میں اترتی چلی جا ئےجیسے اس سادہ مسجد کے کچے صحن میں آسمان سے قدسی مخلوق اتر آئی ہے جو انسانی پیکروں میں تاباں انوار اور ملکوتی اطوار و عادات کے ساتھ چل پھر رہی ہےان میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جو کھردری اور دل کو چبھنے والی ہو، کوئی ایسی حرکت دکھائی نہیں دیتی جو قابل گرفت

اور تہذیب و شائستگی سے گری ہوئی ہو، ہر فرد اعلیٰ اخلاق اور سچی تعلیمات کا عمدہ اور کامل نمونہ ہے جس کی حرکات و سکنات، رفتار و گفتار اور اعمال و اطوار سے انسانیت کا درس لیا جاسکتا ہے، وہ یہ رنگ ڈھنگ دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نو وارد قیدی کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : کیسے خیالات ہیں؟ وہ بولا : میں قبیلہ بنی حذیفہ کا ایک قابل ذکر فرد ہوں مجھے ثمامہ بن اثال کہتے ہیں، اگر آپ مجھے قتل کردیں گے تو یاد رکھیں، میرا قبیلہ پورا پورا انتقام لے گا، میں بے حیثیت اور معمولی آدمی نہیں ہوں، اسی طرح میں احسان فراموش بھی نہیں، اگر آپ مجھے چھوڑ دیں گے تو زندگی بھر احسان مند رہوں گا، میں دولت مند بھی ہوں، اگر آپ رقم لینا چاہتے ہیں تو بات کریں، میں اس کا بھی انتظام کئے دیتا ہوں۔ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تینوں باتوں کا کوئی جواب نہ دیا اور تشریف لے گئے۔ثمامہ نے دوسرے دن تک مسلمانوں کے افعال و احوال کا گہری نظر سے جائزہ لیا، جہاندیدہ تجربہ کار آدمی تھا بہت کچھ سمجھ گیا۔ دوسرے دن پھر حضور کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا :

ثمامہ! کیسے حالات و خیالات ہیں؟ اس نے پھر وہی جواب دیا : اِنْ تَقْتُلْنِيْ تَقْتُلْ ذَادَمٍ، وَاِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلٰی شَاکِرٍ. وَاِنْ کُنْتَ تُرِيْدُ الْمَالَ فَسَلْ مِنْهُ مَاشِئْتَ. اگر آپ قتل کریں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا اور اگر احسان کریں گے تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال و دولت چاہتے ہیں تو جتنا چاہیں مانگ لیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے دن بھی کوئی جواب نہ دیا اور تشریف لے گئے۔ ثمامہ کے مطالعہ و مشاہدہ میں اور گہرائی پیدا ہوگئی، اس کی تجربہ کار اور پیاسی نگاہوں نے احوال و واقعات کو نئے زاویئے سے دیکھنا اور کھنگالنا شروع کردیا۔ جب تیسری صبح کا آفتاب طلوع ہوا تو اس کے قوائے کفرو شرک نے مزید مزاحمت جاری رکھنے اور ہدایت کی چندھیا دینے والی زبردست شعاعوں کا مقابلہ کرنے سے انکار کردیا۔ تین دن سے اس کے اندر جو قیامت خیز کشمکش جاری تھی وہ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی وہ ایک خاص نتیجے پر پہنچ گیا اور سوچ لیا کہ اسی پر عمل کرے گا۔ تیسرے دن سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر اس کے پاس تشریف لائے، وہی سوال کیا۔ ادھر سے بھی وہی جواب ملا

مگر آج اس جواب میں وہ طنطنہ نہیں تھا، اس کے برعکس اس میں احساس شکست نمایاں تھا، وہ تندی اور تیزی نہیں تھی جو انانیت کی پیداوار ہوتی ہے۔سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، صرف اپنے ساتھیوں سے فرمایا : ثمامہ کو کھول دو۔ اب ثمامہ آزاد تھا، کوئی آنکھ اسے تاڑنے یا تعاقب کرنے والی نہ تھی، وہ جہاں چاہے جاسکتا تھا، مگر نہیں، پہلے اسے زنجیروں نے جکڑا تھا، اب اخلاق عالیہ نے جکڑ لیا تھا۔ وہ نزدیک ترین نخلستان میں گیا اور غسل کرکے مسجد نبوی میں واپس آگیا اور بلند آواز سے پڑھا : اَشْهَدُاَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ. صحابہ کرام مسرت سے کھل اٹھے اور اپنے نومسلم بھائی کو سینے سے لگالیا۔ ثمامہ نے عرض کی یارسول اللہ! وَاللّٰهِ مَاکَانَ عَلَی الْاَرْضِ وَجْهٌ اَبْغَضَ اِلَيَ مِنْ وَجْهِکَ فَقَدْ اَصْبَحَ وَجْهُکَ اَحَبَّ الْوُجُوْهَ اِلَيَ. خدا کی قسم! ساری دنیا میں آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی اور چہرہ مجھے ناپسند نہیں تھا اب وہی چہرہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے وَاللّٰهِ مَاکَانَ مِنْ دِيْنٍ اَبْغَضَ اِلَيَ مِنْ دِيْنِکَ فَاَصْبَحَ دِيْنُکَ اَحَبَّ الدِّيْنِ اِلَيَ. خدا کی قسم! آپ کے دین سے زیادہ کوئی اور دین ناپسند نہیں تھا اب مجھے وہی دین سب سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے وَاللّٰهِ مَاکَانَ مِنْ بَلَدٍ اَبْغَضَ اِلَيَ مِنْ بَلَدِکِ فَاَصْبَحُ بَلَدُکَ اَحَبَّ الْبِلَادِ اِلَيَ. خدا کی قسم! میرے نزدیک آپ کے شہر سے زیادہ بھیانک اور برا کوئی شہر نہیں تھا

اب وہی شہر مجھے تمام شہروں سے زیادہ پیارا لگنے لگ گیا ہے ثمامہ نے اپنے خیالات اور تاثرات کا اظہار کرنے کے بعد کہا۔میرے آقا! میں عمرہ کرنے کے لئے جارہا تھا آپ کے فوجی مجھے پکڑ لائے ہیں اب میرے لئے کیا حکم ہے؟ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم خوش ہوجاؤ کہ رحمت رب کریم نے تجھے دین حق قبول کرنے کی توفیق ارزانی فرمائی ہے، اس سے تمہارے سابقہ گناہ بھی مٹ گئے اور نیکیاں جمع کرنے کے لئے راستہ بھی کھل گیا، اب جاؤ عمرہ کرو اور رحمت رب سے جھولیاں بھرو۔ اہل عرب ایک دین سے نکل کر دوسرا دین اختیار کرنے والے کو صابی کہا کرتے تھے جب حضرت ثمامہ بن اثال اسلام قبول کرکے اور شرف صحابیت سے بہرہ یاب ہوکر اپنے قبیلے میں پہنچے تو لوگوں نے عادت کے موافق کہا : صَبَوْتَ؟ کیا تم نے اپنا دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرلیا ہے اور تم صابی بن گئے ہو؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ میں حضور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آیا ہوں۔ یہ اس طرف اشارہ تھا کہ تمہارا سرے سے کوئی دین ہی نہیں ہے، اس لئے ایک دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا البتہ میں ایک برحق دین میں داخل ہوگیا ہوں جو واقعتاً دین ہے اور میں نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی اور اطاعت قبول کرلی ہے جو سچے پیغمبر اور خدا تعالیٰ کے عالی مرتبت رسول ہیں، اس لئے میں صابی یا بے دین نہیں ہوا بلکہ ایک کامل اور سچے دین کا پیروکار بن گیا ہوں