You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > اسلامی واقعات > فرعون کی زندگی اور موسیٰ علیہ السلام ۔۔۔پاکستانی معاشرے کی عکاسی کرتی تحریر ملاحظہ کیجیے

فرعون کی زندگی اور موسیٰ علیہ السلام ۔۔۔پاکستانی معاشرے کی عکاسی کرتی تحریر ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) بحیثیت مسلمان ہمارے کردار کی جو مجموعی حالت ہے اس حوالے سے اکثر اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں، یہ کہا جاتا ہے کہ رمضان کے مہینے میں بھی ہر دوسرا شخص بے ایمانی کرتا نظر آتا ہے، پھل فروش سے لے کر بڑے کاروبار کرنے والے شخص تک کوئی بھی عوام کو لوٹنے میں پیچھے نہیں رہتا۔

اسی طرح سوال یہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں رمضان کے مہینے میں مساجد نمازیوں سے بھری ہوتی ہیں، لاکھوں لوگ تبلیغی اجتماع میں جارہے ہوتے ہیں، گھروں میں دینی محفلیں ہورہی ہوتی ہیں،حضورﷺ کی پیدائش کا دن ہو یا کربلا کے واقعہ کا، ہر گلی کوچہ کا یہ منظرہوتا ہے کہ ہم سے بڑا کوئی مسلمان نہیں،نمازیں، روزے اور لمبی لمبی داڑھیاں، رات، رات بھر ٹی وی پر اسلامی پروگرام دیکھ کر آنسو بہانے والے بھی صبح اٹھ کر معاشرے میں عملاً کچھ اور ہی کررہے ہوتے ہیں۔عدالتوں میں اپنے ہی سگے رشتہ داروں کے خلاف قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹ بولا جاتا ہے، سگے بہن بھائی آپس میں ایک دوسرے کی مدد تو کیا کریں چھوٹے چھوٹے اختلافات کے سبب ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔ آج کے دور میں یہ بات بڑے غور و فکر کی ہے کہ درس، تبلیغ اور نماز، روزہ کے اہتمام کے باوجود بحیثیت مسلمان ہمارے کردار میں تبدیلی کیوں نہیں آرہی ہے؟ راقم کے خیال میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ہم جینے کے لیے تو غیر اسلامی زندگی چاہتے ہیں، جس میں ہم زیادہ سے زیادہ مال کما سکیں، عیش و عیشرت کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور اس سب کے لیے ہم کسی بھی حد سے گزر جانا پسند کرتے ہیں،۔


Top