رمضان مبارک : پہلی نماز تراویح کا اردو ترجمہ ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک)قرآن کریم کی سب سے پہلی سورئہ مبارکہ ’’سورۃ الفاتحہ‘‘ ہے جس کے معنی ہی افتتاح کرنے والی اور آغاز کرنے والی سورت کے ہیں۔ یہ سورئہ مبارکہ مکہ میں نازل ہوئی۔ جامعیت کے لحاظ سے یہ پورے قرآن مجید کا دیباچہ اور خلاصہ ہے، ابتدائی تین آیات میں انسان کو اللہ تعالیٰ کا تعارف

کرایا گیا کہ وہ رب العالمین ہونے کی حیثیت سے اپنی ہر ہر مخلوق کی حاجات اور ضرورتوں کو پورا فرماتا ہے، بار بار رحم کرتے ہوئے درگزر فرماتا ہے، روز جزا کا مالک ہے۔ اگلی آیات میں بندوں کو دعا مانگنے کا طریقہ ہی نہیں بتایا بلکہ الفاظ دعا بھی خود متعین فرما دیئے، مدد کرنے اور معبود ہونے کے وہی لائق ہے۔ دعا میں زندگی گزارنے کے لئے اس راستے کی فریاد کرنا سکھایا جا رہا ہے، اسی راستے پر اللہ کے انعام یافتہ اور محبوب بندوں کو چلنا نصیب ہوا۔ اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کے راستے، انداز و اطوار سے پرہیز کی تلقین ہے جن پر ایسے بدنصیب چلتے رہے جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے دور کر دیئے گئے اور نہ ایسے لوگوں کے راستے پر چلنا ہے جو خود ہی ہدایت کا راستہ گم کر چکے ہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم کی سب سے بڑی سورت ’’البقرہ‘‘ شروع ہوتی ہے جو ڈھائی پاروں پر محیط ہے۔ یہ سورئہ مبارکہ مدنی ہے اور چالیس طویل رکوعوں پر مشتمل ہے۔ آغاز میں ہی قرآن پاک کو کتاب ہدایت فرما کر ہدایت کے طالب کے لئے شکوک و شبہات سے پاک رہنے اور پرہیزگار بننے کی

شرط عائد کی گئی اور ان کی علامات میں سرفہرست غیب پر ایمان، نمازوں کا قائم کرنا، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، وحی پر ایمان اور اسی طرح اس بات پر بھی ایمان لانا ضروری ہے کہ گزشتہ رسولوں پر بھی وحی نازل ہوئی، تمام آسمانی کتب پر ایمان کے ساتھ آخرت کے دن پر بھی یقین شامل ہے۔ متقین‘‘ کے اس اجمالی ذکر کے بعد منافقین اور ان کی علامات کا ذکر ہے۔ ان کے دلوں سے قبول حق کی استعداد ختم ہو چکی ہے اس لئے نہ انہیں حق بات نظر آتی ہے اور نہ یہ اسے سن سکنے کے قابل رہے ہیں۔ اگرچہ یہ خود دھوکے کا شکار ہیں لیکن اپنے تئیں سمجھتے ہیں کہ ہم معاذاللہ، اللہ تعالیٰ اور مومنوں کو دھوکہ دے رہے ہیں پھر ان کے دلوں کے روگ، نفاق کا ذکر کرتے ہوئے بتایا جا رہا ہے کہ اس نفسیات کے باعث فتنہ و فساد پھیلانے کے باوجود یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اصلاح کرنے والے لوگ ہیں۔ تیسرے اور چوتھے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے مرھ کی مثال دیتے ہوئے ہدایت قبول کرنے اور ہدایت سے محروم لوگوں کی نفسیات بیان کی ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں خیر اور بھلائی ہوتی ہے،

وہ حق کو اپنے رب کی طرف سے ہونے کی وجہ سے قبول کرتے ہیں جب کہ کفر و عصیان میں مبتلا دوسرا گروہ غور کرنے اور ماننے کے بجائے اس پر اعتراض شروع کر دیتا ہے۔ رشتوں اور ناتوں کو اللہ تعالیٰ کا حکم اور انہیں توڑنے والوں کو زمین میں فساد پھیلانے اور خسارہ پانے والا قرار دیا گیا ہے۔ ابوالانبیاء سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق اور خلیفۃ الارض بنانے کے موقع پر ملائکہ کے مکالمے کو بیان کیا گیا ہے پھر علم کے ذریعے آدم علیہ السلام کی ملائکہ پر برتری اور مسجود ملائکہ بنائے جانے کا ذکر ہے، اسی موقع پر انکار اور نافرمانی اور تکبر کی کوکھ سے جنم لینے والے شیطان کا کردار سامنے آتا ہے جو اپنی ازلی عداوت کے باعث سیدنا آدمؑ اور اماں حواؑ کو جنت میں رہنے نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ و حواؑ کی ندامت کے باعث اپنی رحمتوں کو متوجہ کرانے کے لئے دعائیہ کلمات بھی سکھا دیئے۔ پانچویں رکوع میں بنی اسرائیل پر کی گئی نعمتوں کی یاددہانی ہے، ان کا کیا ہوا ایفائے عہد کا وعدہ یاد دلایا جا رہا ہے، جسے انہوں نے بار بار توڑا، حق و باطل کو خلط ملط کرنے، حق کو چھپانے، دوسروں کے لئے اچھی اور نیکی کے کاموں کی

تلقین اور اپنی باری پر خود فراموشی کا تذکرہ ہے۔ چھٹے رکوع سے پارے کے آخر تک بنی اسرائیل پر گزرے حالات، ان کے رویوں اور اللہ تعالیٰ کی بار بار معافیوں کا ذکر ہے۔ بنی اسرائیل برسہا برس سے فرعونوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے تھے، کئی نسلیں نجات دہندہ کے انتظار میں مشق ستم سہتے گزر چکی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے بحر قلزم سے انہیں اس شان سے پار کرایا کہ پیچھا کرتا فرعون اور اس کا لشکر غرق آب ہو گئے۔ اب جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر گئے کہ اللہ تعالیٰ سے احکامات حاصل کریں، پیچھے قوم نے سونے اور چاندی کو پگھلا کر اپنی پوجا پاٹ کے لئے بچھڑا بنا ڈالا۔ اس کے بعد بادلوں کے سائے، من و سلویٰ کی نعمتوں کا ذکر ہے۔اگلی آیات میں یہود سے لئے گئے وعدے و میثاق کا ذکر کیا گیا کہ جب یہود نے کہا کہ ان احکامات پر جو، تورات میں دیئے گئے ہیں، ہم سے عمل نہ ہو سکے گا تو اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ کو ان پر سائبان کی طرح معلق کر دیا جس سے ڈر کر انہوں نے عمل کرنے کا وعدہ کیا۔

اس کے بعد ہفتہ کے دن یہودیوں کو مچھلی کے شکار بلکہ کسی بھی دنیاوی کام سے منع کرنے کا ذکر ہے لیکن اس میں بھی انہوں نے حیلہ سازی کر کے اللہ تعالیٰ کے غضب کو آواز دی۔ اس کے بعد گائے کو ذبح کرنے کے واقعہ کا ذکر ہے اور اسی وجہ سے سورۃ کا نام ’’البقرہ‘‘ ہے۔ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ گائے ذبح کرو، اب وہ کسی بھی گائے کو ذبح کر دیتے، اللہ کا حکم پورا ہو جاتا لیکن انہوں نے بجائے حکم بجا لانے کے عجیب عجیب سوال کرنا شروع کر دیئے جس نے ایک آسان کام ان کے لئے مشکل ترین امر بنا دیا۔ اگلے رکوعات میں یہود کے اس دعوے اور خوش فہمی کی تردید ہے کہ وہ کہتے ہیں ہمیں صرف چند دن جہنم میں آگ کا سامنا کرنا پڑے گا اور پھر ہم جنت کے عیش میں رہیں گے اسی طرح یہودی اور عیسائی دونوں کے دعوئوں کا ذکر ہے کہ یہود اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں اور عیسائی اپنے آپ کو، پھر مسلمانوں سے بھی کہتے ہیں کہ یا تو یہودی ہو جائو یا نصرانی۔ قرآن کریم ان کے دعوئوں اور خوش فہمی کا رد کرتا ہے اور باور کراتا ہے کہ ملت ابراہیمی جو اسلام کا راستہ ہے، جب تک کہ تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو۔ پارے کے آخر میں صبغۃ اللہ یعنی اللہ کے رنگ کی خوبی بیان ہوئی ہے جو اللہ کے رنگ میں رنگ جائے، دنیا کا ہر رنگ اسے پھیکا لگتا ہے۔(ف،م)