خاتون کربلا حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ام المصائب کیوں کہا جاتا ہے ؟ ایمان تازہ کر دینے والی تحریر

خاتونِ کربلا حضرت سیدہ زینبؓ نے باب العلم حضرت علی المرتضیٰ کے گھر5 ہجری کوجنم لیا ۔آپؓ کانام آقائے دوجہاں جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیﷺنے زینب رکھا، آپؓ اپنی تمام صفات میں بے مثل تھیں اورسیدۃ النساء العالمین حضرت سیدہ فاطمہ الزہراؓ کی سیرت پاک کاعملی نمونہ تھیں، آقائے دوجہاںﷺ کوآپ سے بہت محبت تھی،

نامور صحافی سید علی جیلانی لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدہ زینبؓ کا نکاح اپنے چچا حضرت جعفرطیار کے صاحبزادے حضرت عبداللہ ابن جعفر سے ہوا ،آپ ؓنے زندگی میں بے شمارمصائب برداشت کئے، ابھی آپ کی عمر چھ سال کی بھی نہ تھی کہ آپؓ کے نانا حضورنبی کریم ﷺوصال فرما گئے پھر چند ماہ بعد ہی آپؓ کی والدہ ماجدہ سیدۃ النساء العالمین حضرت سیدہ فاطمہ الزہراؓ رحلت فرماگئیں جب آپ جوان ہوئیں تو والدمحترم امیرالمومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ناگہانی وفات اور پھر بھائی حضرت سیدنا امام حسن کا غم مل گیا ، سب مصائب کی وجہ سے آپ کو ام المصائب کی کنیت سے پکارا جانے لگا، آپؓ اپنی والدہ کی طرح صابروشاکر اور پردے کا نہایت خیال رکھتی تھیں ،آپ فہم وفراست ، عقل ودانش اور تدبر کی مالک تھیں۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کے عہد خلافت میں کوفہ میں درسِ قرآن دیا کرتی تھیں، آپؓ غریب پرور تھیں، آپؓ نے کبھی دنیاوی لذتوں کوفوقیت نہ دی اور دنیاوی عیش وآرام کی نسبت آخرت کی زندگی کوترجیح دی، آپؓ کی عبادت وریاضیت کایہ عالم تھا کہ ساری زندگی کبھی تہجدکی نماز نہ چھوڑی ،حضرت سیدنا امام زین العابدینؓ فرماتے ہیں کہ کربلا کے ہولناک واقعات اوراس کے بعدکے مصائب کے باوجود حضرت سیدہ زینب ؓنے نمازتہجد کبھی ترک نہ کی جس سے آپ کے زہدوتقویٰ کااندازہ بخوبی لگایاجاسکتا ہے، حضرت سیدنا امام حسینؓ آپ سے درخواست کرتے تھے کہ اے میری بہن میں تجھ سے دعاکی درخواست کرتا ہوں اور تم میرے لئے دعا کیا کرو واقعہ کربلا کے بعد آپ ؓاکثروبیشتر یہ دعا فرمایا کرتی تھیں کہ

الٰہی آلِ رسولﷺ کی اس قربانی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور ہماری اس قربانی کورائیگاں نہ جانے دے ،واقعہ کربلا کے بعد حضرت سیدہ زینب ؓکو یزید کے دربار میں پیش کیا گیا توآپ ؓنے وہاں نہایت فصیح وبلیغ خطبہ دیا جوتاریخ میں سنہری حروف میں رقم ہے، آپ ؓنے فرمایا تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جوسارے جہانوں کا پالنے والا ہے اور درودوسلام حضورنبی کریمﷺ اوران کے اہل بیت پر، اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ ان لوگوں کاانجام برا ہے جو برے کام کرتے ہیں اور اس کے احکامات کوجھٹلاتے اور ان کاتمسخر اڑاتے ہیں اے یزید! تونے ہم پر زمین تنگ کردی اور ہمیں قیدکیا اور توسمجھتا ہے کہ ہم ذلیل ہوئے اورتو برترہے تو یہ سب تیری اس سلطنت کی وجہ سے ہے اور تونے شاید اللہ پاک کا فرمان نہیں سنا کہ کفار یہ گمان نہ کریں کہ ہم نے ان کے ساتھ جونرم رویہ رکھا ہے وہ ان کے لئے بہتر ہے بلکہ صرف یہ مہلت ہے تاکہ وہ دل کھول کرگناہ کریں پھر ان کے لئے ایک دردناک عذاب ہے تونے آلِ رسولﷺ اور بنی عبدالمطلب کا ناحق لہو بہایا اور عنقریب تو بھی ایک دردناک انجام سے دوچار ہوگا میں اللہ پاک سے امیدرکھتی ہوں کہ وہ ہماراحق ہمیں دے گا اورہم پر ظلم کرنے والوں سے بدلہ لے گا اور ان پر اپنا قہرنازل فرمائے گا تو عنقریب اپنے گناہوں کے ساتھ حضورنبی کریمﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضرہوگا اورجواللہ کی راہ میں جان سے گئے ان کے بارے میں اللہ ہی کافرمان ہے کہ وہ زندہ ہیں انہیں رزق ملتا ہے اور جن لوگوں نے تمہارے لئے تمہارا راستہ آسان کیا وہ بھی عنقریب تیرے ساتھ برباد ہونے والے ہیں اے یزید اگرتوہماری ظاہری کمزوری کوخود کے لئے غنیمت سمجھتا ہے توکل بروزِ قیامت تو اپنا کیا ہوا پائے گا، اللہ اپنے بندوں پرظلم نہیں کرتا اور نہ ہی ہم اس سے کوئی شکوہ کرتے ہیں بلکہ ہم ہرحال میں صابر اور اس پر بھروسہ کرنے والے ہیں تو اپنے مکروفریب سے جو چاہے کرلے مگر تو ہرگز ہمارے ذکر کو مٹا نہیں سکے گا اور نہ ہی ہمارے مقام کی بلندی کو چھوسکے گا ،تیری یہ سلطنت عارضی ہے اور عنقریب منادی کرنے والا منادی کرے گا اور لعنت ہو ایسی قوم پر جس نے یہ ظلم وستم کیا، پس اللہ پاک کی حمدوثناء ہے جس نے ہمارے پہلوں کا ایمان کے ساتھ اور وقار کے ساتھ خاتمہ فرمایا اور وہ نہایت مہربان اور رحم والا ہے اور ہمارے لئے کافی ہے کیونکہ وہ بہترین کارساز ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ حسین ؓآج بھی زندہ ہیں ،زینبؓ اور اہل بیتؓ زندہ ہیں، کروڑوں دل آج بھی ذکر اہل بیتؓ سے منور ہوتے ہیں، نبی اکرم ﷺ اور اہل بیت کی محبت اور ان کا بتایا ہوا راستہ آج بھی ملت ِ اسلامیہ کے لیے زادِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے، مگر آج یزید کا کوئی نام لیوا نہیں ہے۔