اسلام کے پہلے مؤذن سیدنا بلال حبشیؓ کے حالات زندگی پر ایک ایمان افروز تحریر ملاحظہ کیجیے

لاہور(ویب ڈیسک)کالی رنگت، بے تکا لمبا قد، زخموں سے چور چور داغدار بدن، جسم سے رستا ہوا خون، کمزور و ناتواں، زبان توتلی، ابوبکرؓ اگر غلام ہی خریدنا تھا تو کوئی ڈھنگ کا خریدا ہوتا یہ الفاظ تھے قبیلہ بنو تیم کے بزرگ اور حضرت ابوبکرؓ کے والد محترم ابوقحافہ کے۔

شوکت وِرک کی تحریر کے مطابق اپنے والد کی گفتگو سن کر ابوبکرؓ نے جواب دیا کہ میں نے تو چند ٹھیکریاں دی ہیں ان کے عوض ساری دنیا کے خزانے مل کر بھی بلالؓ کے ایمان کی قیمت نہیں چکا سکتے۔ اجمال اس تفصل کی یوں ہے کہ سیدنا بلال ؓ امیہ کے غلام تھے اور اس وقت ایک معاشرتی جبر جو پورے عالم عرب میں عروج پر تھا کہ غلام صرف غلام ہوتا ہے نہ اس کی کوئی سوچ ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی خواہش وہ صرف ایک ہی لفظ کا مفہوم سمجھتا تھا اور وہ تھا آقا کا حکم ! اور غلام نے ہر حال میں اس حکم کی تعمیل کرنی ہے چاہے اس کی جان ہی کیوں نے چلی جائے۔اس کے علاوہ اس دور کے استحصالی معاشرے میں زرخرید غلام کر بھی کیا سکتے تھے۔ معاشرتی استحصال کا یہ عالم تھا کہ آقا کے سامنے غلام بیٹھنے کی جرا¿ت بھی نہیں کر سکتا تھاغلام کو اس جرا¿ت پر کوڑے مارے جاتے تھے وہ ایک واقعہ جس نے غلام ابن غلام بلالؓ کو غلام سے جلیل مرتبت صحابی کے درجے تک پہنچایا وہ کچھ یوں ہے ”کہ نبی کریم نے جب مکہ میں اللہ کی وحدانیت ،

رسالت اور مساوات کا اعلان کیا تو پورے مکہ کی فضا ہی بدل گئی۔ ایک طوفان کی آمد آمد تھی طوفان تو شاید ابھی دور تھا مگر اس کی گھن گرج ہر ایک کوسنائی دے رہی تھی۔ گفتگو کے موضوع بدل گئے تھے مکہ کا سارا شہر سوچ میں ڈوب گیا تھا۔ مختلف سطحوں پر مختلف رد عمل تھے۔ کچھ لوگوں نے اسے اپنی ذات کے لیے خطرہ سمجھا، کچھ نے اسے اجتماعی سانحہ گردانا، کچھ نے جزوقتی حادثہ سمجھ کر ٹالنے کی کوشش کی، کچھ خوش فہموں نے اسے کسی اہمیت کے قابل ہی نہ سمجھا، کچھ اتنے متذبذب تھے کہ نہ اسے اچھا کہہ سکے نہ ہی برا ، مگر فکر مند سبھی تھے ۔ جہاں دو آدمی اکٹھے ہوتے یہی ذکر چھڑ جاتا کہ محمدﷺ نے رسالت کا دعویٰ کیا ہے ۔ وہ اللہ کی وحدانیت کا درس دیتے ہیں، انسانی مساوات کی بات کرتے ہیں، مکہ کے سب شہری محمدﷺکو جانتے تھے کوئی کم اور کچھ زیادہ مگر مکہ میں ان کی نیکی، ذہانت ، امانت، درد مندی اور ان کے اخلاق کا شہرہ تھا مگر یہ وحدانیت، رسالت، وحی ، غار حرا میں فرشتے سے بات چیت معبود واحد کا تصور، مساوات کا سیق ، غریبوں

کے حقوق کا ذکر ، ومافیہا کی باتیں پورا مکہ فکر مند تھا کہ یہ طوفان کہاں جا کر ٹھہرے گا۔ جو جتنا زیادہ با اختیار تھا اتنا ہی زیادہ فکر مند کہ اگر محمدﷺ کا پیغام کامیابی سے ہم کنار ہوگیا تو ان کی دولت اور اختیارات دونوں میں خسارا لازم ہوگا مگر مکہ میں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو محمد ﷺکے پیغام سے فکر مند نہیں تھا اور وہ تھا غلاموں کا طبقہ۔ جس میں بلال ؓ بھی شامل تھے۔ بلالؓ کے والدین رباح اور حمامہ بحیرہ احمر پار کرکے حبشہ سے مکہ آئے تھے وہ کوئی پیدائشی غلام نہیں تھے مگر گزر بسر کے لیے انہیں یہ کرنا پڑا۔بلالؓ جب امیہ کے غلام تھے تو انہوںنے حضور اکرمﷺ کو دیکھا تو کئی بار مگر ان سے ہم کلام ہونے کا شرف انہیں حاصل نہ ہوسکاتھا کہ بلالؓ امیہ کے غلام تھے جنہیں عرب سردار نچلے درجے کا شہری سمجھتے تھے۔ جس کے خلاف رسالت مآبﷺ نے آواز بلند کی تھی اور حضورﷺ کی یہ عادت تھی کہ ان کا سامنا جب بھی بلالؓ سے ہوا تو انہو ں نے ایک دلنواز مسکراہٹ کے ساتھ بلالؓ کو دیکھا اور اس سرراہ تبسم آمیز ملاقات سے بلالؓ کا رسول اکرمﷺ سے

ایک لطیف سا تعلق قائم ہوگیا۔ حضور ﷺ کی مسکراہٹ ایک سچے انسان کی مسکراہٹ تھی اور بلالؓ کے لیے یہی احساس ان کی ہر بات کی صداقت اور صحت کا امین تھا کہ بلال کے دل و دماغ میں یہ بات جا گزیں ہوگئی کہ اگر محمدﷺ کہتے ہیں کہ وہ فرشتے سے ہم کلام ہوئے ہیں تو پھر ضرور ہوئے ہوں گے مگر یہ ساری سوچ بلال ؓ کے لاشعور میں تھی جس کا ادراک انہیں اس وقت ہوا جب بلالؓ کے اس وقت کے آقا امیہ نے غلام خانے میں آکر بلالؓ سے براہ راست سوال کیا”سچ سچ بتا تیرا معبود کون ہے؟“ بلالؓ نے بلا تامل جواب دیا ”محمدﷺ کا معبود میرا معبود ہے“۔ بلالؓ کے جواب سے امیہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی شاید وہ اس جواب کے لیے تیار نہ تھا اس نے فورا جواب دیا اس کا مطلب ہے کہ تو ہمارے خداﺅں سے انکار کر تا ہے۔ بلال ؓ کا جواب تھا محمدﷺ صادق اور امین ہیں۔ انہیں ایک فرشتے نے بتایا ہے کہ اللہ ایک ہے۔قبل ازیں ہونے والا ایک واقع بلالؓ کے لیے ناقابل فراموش تھا اور اس واقعے نہ بلال ؓ کی زندگی بدل دی اور جہالت کی

تاریکیوں سے اسلام کی منور شعاﺅں سے روشناس ہوئے ۔قریش کے ایک سردار ابو لہب کے ایک غلام عمار پر ظلم ڈھانے کے لیے میدان میں لایا گیا اس کا قصور یہ ٹھہرا کہ اس نے عرب سرداروں کے سامنے یہ کہہ دیا کہ محمدﷺ یہ سکھاتے ہیںکہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو وہ بتاتے ہیں کہ اللہ کی نظر میں سب انسان برابر ہیں۔ عمار کے اس ایک فقرے نے استحصالی معاشرے کی بنیادیں ہلا دیں ۔ اس موقع پر ابو سفیان نے کہا کہ ہم 360خداﺅں کو ماننے والے اگر ایک خدا کو ماننے لگیں جو دکھائی بھی نہیں دیتا اور ہر جگہ ہر گھر میں موجود ہے تو ہمارا اور ہمارے خداﺅں کا کیا بنے گا ۔ ہمارے خداﺅں کو دیکھنے کون آئے گا؟ یہ ہمارے خدا بھی ہیں اور ہمار ا ذریعہ معاش بھی۔ اس پر امیہ نے بلالؓکو یہ حکم دیا کہ عمار کے چہرے پر اتنے کوڑے برساﺅ کہ یہ مسخ ہوجائے۔ بلالؓ نے عمارکے چہرے کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے پر ایک عزم ،پاکیزگی، بے خوفی اور بے پناہ سکون نظر آیا۔ بلالؓ نے کوڑا بلند کیا اور اسے نیچے پھینک دیا اس کے باوجود کہ عمار نے خود بلالؓسے کہا

کہ جو یہ ظالم کہتے ہیں بلالؓ وہی کرو یعنی مجھے مارو وگرنہ یہ تمہیں مار ڈالیں گے مگر بلالؓ جس کے اندر اللہ رب العزت نے کوئی ایسی قوت پیدا کر دی جس کے سامنے اسے عرب سردار ہیچ نظر آئے۔ اور بلالؓ نے عمار پر کوڑے برسانے کا عرب سرداروں کا حکم مسترد کر دیا یہ ایک بغاوت تھی۔ جھوٹے خداﺅں اور استحصالی معاشرے کے خلاف اور یہ وہ لمحہ تھا جہاں سے بلالؓ کو ایک نئی زندگی ملی۔ بلالؓ کی حکم عدولی پر ان سرداروں نے اس پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیے ۔آگ سے زیادہ تپش زدہ ریت پر بلالؓ کو اندھے منہ لٹا کر اس کے جسم پر دھکتے ہوئے بھاری بھرکم پتھر رکھ دئیے جاتے مگر اس کے منہ سے ایک ہی لفظ نکلتا ”الاحد، الاحد کہ اللہ ایک ہے ۔ بلالؓ پر مظالم کی انتہاکر دی گئی مگر وہ اللہ ایک ہے اللہ ایک ہے، کہتے رہے ۔ ان مظالم کی خبر ابوبکر صدیقؓ تک پہنچی تو وہ امیہ کے پاس بلالؓ کو خریدنے کے لیے آئے۔ بلالؓ خود پر بے انتہا تشدد کے باعث قریب المرگ نظر آرہے تھے ۔ ابوبکر صدیقؓ نے بلالؓ کی قیمت دریافت کی تو امیہ نے یہ سمجھ

کرکہ بلالؓ جلد ہی مر جائے گا۔ بلالؓ کی قیمت ایک سو درہم لگائی اور ساتھ ہی وہ بلالؓ کے قریب پہنچا تو اس نے سنا کہ بلالؓ ہلکی آواز میں ”الاحد الاحد “کہہ رہے ہیں جب اس نے دیکھا کہ بلالؓ میں زندگی کے آثار باقی ہیں تو اس لالچی سردار نے حضرت ابوبکر ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب میں بلالؓ کے دوسو درہم لوں گا اور یوں یہ سودا طے ہوا۔ اس طرح 28برس تک غلاموں کی حقارت انگیز زندگی گزارنے کے بعد بلال ؓ رحمة العالمینﷺ کے زیر سایہ آنے کے بعد بلالؓ کی زندگی کا وہ دور شروع ہوا جو اسلام کے اولین دور سے اب تک مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی کئی وجوہ کی بنا پر پر کشش رہا ہے۔دین کی راہ میں بلالؓ کی عظیم المثال قربانیاں ، سابقوں الاولون میں شمار کا شرف، اسلام کے اولین موذن کی حیثیت سے ان کا منفرد اور تاریخی مقام ، رسالت مآبﷺ اور ان کے اہل بیت سے ان کا رشتہ خلوص وفا ، خادم نبی ﷺ کی حیثیت سے اللہ کے رسولﷺ کا ہمہ وقت قرب۔ پہاڑوں کی سی عظمت اور استقامت رکھنے والے اسلام کے اس

مسلم لیگ (ن) یا تحریک انصاف ۔۔۔۔؟ کیپٹن صفدر کے حلقہ این اے 14 سے جیت کس کا مقدر بنے گی؟ الیکشن سے عوام نے فیصلہ سنا دیا
بطل جلیل کا ذرہ خاک جیسا انکسار اہل اسلام کے دلوں پر نقش جاوداں کی طرح ثبت ہے۔سیدنا بلالؓ کو صرف یہی شرف حاصل نہیں کہ وہ دنیائے اسلام کی پہلی مسجد کے پہلے موذن تھے جن کی پہلی اذان کے مکمل ہونے پر رسول اللہﷺ نے فرمایا ”بلالؓ تم نے میری مسجد مکمل کر دی“ بلکہ انہیں یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ انہوں نے بیت اللہ کی چھت پر بھی دو مرتبہ اذان دی ۔ایک بار صلح حدیبیہ کے ایک سال بعد عمرة القضاءکے موقعہ پر حضورپاکﷺ کے ارشاد کے مطابق بلالؓ نے خانہ کعبہ پر کھڑے ہوکر اذان دی اور دوسری مرتبہ فتح مکہ کے موقع پر جد الانبیاءحضرت ابراہیم ؑ کے بنائے ہوئے اس مرکز توحید کی بلندیوں سے اللہ وحدہ لاشریک کی کبریائی اور سید الکونین حضرت محمدمصطفی احمد مجتبیﷺ کی رسالت کی شہادت دی ۔ بلال ؓکی اس تکبیر الٰہی کو رسول کریم ﷺنے کل بنی نوع انسان کے لیے تطہیر کعبہ سے تعبیر کیا جو بلال حبشیؓ کی معراج تھی کے اس موقع پر جب بلالؓ خانہ کعبہ کی چھت پر اذان دے رہے تھے تو بیت اللہ میں موجود تمام بت خاکستر ہوچکے تھے۔(ذ،ک)