آیا صوفیہ کے چرچ کو سلطان محمد فاتح نے کس پالیسی کے تحت خرید کر مسجد میں تبدیل کیا تھا ؟ تاریخی عمارت کی دوبارہ مسجد میں تبدیلی پر شور مچانے والوں کے کام کی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) مسیحی آرتھوڈوکس یا یونانی کٹر مسیحیوں کی علامت آیا صوفیہ یونانی بادشاہ جسٹینین اول نے تعمیرکرایاتھا۔ بت پرست یونانی بادشاہ قونسٹنٹین کے مسیحیت قبول کرنے پر پوری ریاست مسیحی ہوگئی تھی۔ یونانی آرتھوڈوکس بعض معاملات میں مسلمانوں کے طرح ہیں جیسا کہ سور نہیں کھاتے، ام الخبائث نہیں پیتے، یہ عقیدہ بھی نہیں رکھتے کہ

نامور کالم نگار محمد اسلم خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت عیسیؑ صلیب پر چڑھ کر سب کے گناہ بخشوا گئے ہیں، 25 دسمبر کو کرسمس نہیں مناتے۔اس چرچ سے متعلق یونانی آرتھوڈوکس مسیحیوں کا عقیدہ تھا کہ ان پر کوئی حملہ کرے گا تو آسمان سے فرشتے اتر کر ان کی حفاظت کریں گے اور ان کے دشمنوں کو تہس نہس کردیں گے۔ اکیس سالہ سلطان محمد فاتح نے بازنطینیوں کو شکست فاش دی اور وہ قسطنطنیہ (آج کا استنبول) میں داخل ہوا تو مسیحی اپنے عیقدے کے مطابق چرچ میں چلے گئے۔ سلطان محمد فاتح جب اس ستون سے آگے بڑھ آئے جس کے بارے میں ان کا تصور تھا کہ ان کے دشمن اسے عبور نہیں کرسکتے تو ان کو شدید جھٹکا لگا۔اس موقع پرسلطان محمد فاتح نے کہا تھا کہ ’’میں آج تمہارے ساتھ وہی سلوک کروں گا جو اللہ کے آخری رسول حضرت محمد نے فتح مکہ کے بعد وہاں کے لوگوں کے ساتھ کیا تھا۔‘‘ لہذا کسی کی جان نہیں لی گئی ۔ 99 فیصد مسیحی آبادی تھی جس کی اکثریت مسلمان ہوگئی اور باقی ماندہ ایک معاہدہ کے تحت یونان چلے گئے۔آیا صوفیہ کو مسجد بنانے کی وجہ عسکری حکمت عملی تھی۔ سلطان فاتح مسیحیوں کے عقیدے کے بارے میں جانتے تھے اور جب تک وہ ان کے عقیدے کو غلط ثابت نہ کرتے، بازنطینی فوج لڑتی رہتی۔ اسی لئے انہوں نے یہ عمارت خریدی اور ’وقف‘ قائم کیا۔ ورنہ فاتح ہوکر وہ اس پر قبضہ بھی کرسکتے تھے۔ لہذا اس کا صحیح تناظر ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ اس کی علامتی اہمیت کو بدلنا ضروری تھا۔سلطان محمد فاتح کے برعکس سپین کے بادشاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ایزابیلا نے تین ہزار مساجد گرجاگھروں میں تبدیل کردی تھیں۔ مسلمانوں کوزندگی سے محروم کرنے اور دیگر مظالم اس کے علاوہ تھے۔ اس کے ظلم کا یہ عالم تھا کہ ایک لاکھ 75 ہزار یہودیوں کو تین دن دئیے کہ مسیحی ہوجائو ورنہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھو گے ۔ ایک لاکھ یہودیوں کو خلافت عثمانیہ میں پناہ ملی۔ 75 ہزار باقی رہ جانے والے یہودیوں کے کنیسا کلیسا میں بدل دئیے گئے اور وہ ظاہراً مسیحی ہوگئے۔