17رمضان 40 ہجری۔۔!!

حضرت علی مسجدَ کوفہ میں خطبہ دے رہے تھے، مسجد میں ابنِ ملجم کو دیکھتے ہی امیر المومنینؑ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے، آپکی آنکھوں سے آنسو نکلنے کی دیر تھی کہ دائیں جانب سے صعصہ بن صوحان اور بائیں جانب سے ابراہیم بن مالک بن اُشتر کھڑے ہوگئے، دونوں صحابہ نے اپنی تلواریں نیام سے باہر نکالیں اور حضر علی کے قدموں میں رکھ دیں،

صعصعہ نے عرض کی کہ یا علیؑ میں پچھلے کئی دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ آپ کی نظر جیسے ہی ابنَ ملجعم پر پڑتی ہے آ پکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں، گھر میں دیکھتے ہیں تو روتے ہیں، گھر سے باہر دیکھیں تو روتے ہیں، ببازار میں دیکھیں تو بھی روتے ہیں، میدان میں دیکھیں تو روتے ہیں، مسجد میں دیکھیں تو روتے ہیں،‌ آخر آپ اسے دیکھ کر روتے کیوں ہیں؟ صعصعہ بن صوحان کی بات سُن کر امیر المومنین نے فرمایا کہ” میں اسے زندگی دینا چاہتا ہوں جبکہ یہ میری موت چاہتا ہے”. سنتے ہی ابراہیم بن مالک بن اشتر آپ کے پاس بیٹھ گئے ، اور کہنے لگے ، یا علی آپ موت کے خوف کے ڈر سے رو رہے ہیں؟ یہ سنتے ہی امیر المومنین نے فرمایا کہ “مالک آپکا بھی یہی خیال ہے کہ میں موت سےت ڈرتا ہوں؟ مالک نے کہا اگر آپ ڈرتے نہیں تو پھر روتے کیوں ہیں؟ آپ نے مالک کی بات سُن کر فرمایا کہ میں روتا اس لیے ہوں کہ عید آنے والی ہے اور میری بیٹیاں پردیس میں ہیں، ابھی یہ جملہ کہا ہی تھا کہپ آپ رکے اور پھر اہلیانِ کوفہ کی جانب دیکھ کر علیؑ نے کہا کہ میں جب سے یہاں آیا ہوں آج تک آپ سے کچھ نہیں مانگا، ” زندگی کا پہلا سوال ہے، آج مغرب کی نماز کے بعد اپنی مستورات کو میرے گھر بھیجنا میں میں کچھ کام کرنا چاہتا ہوں، یہ جملہ کہہ کر آپ گھر کی جانب روانہ ہوگئے، اہلیان کوفہ نے افطار کے بعد امیر المومنین کی بات پر عمل کرتے ہوئے اپنی مستورات کو حضرت علی کے گھر بھیج دیا ، جبکہ کوفہ کی خواتینن حضرت علی کے گھر میں جمع ہوگئیں امیر المومنین نے حضرت فضہ سے فرمایا کہ ذرا میری بیٹی زینب کو بلائیے، اور گھر میں جتنے بھی چراغ ہیں سب کو روشن کر دیں، بی بی زینب تشریف لے آئیں، گھر میں موجد سارے چراغ بھی روشن ہوگئے تو امیر المومنین نے مستوراتِ کوفہ کی جانب آنکھیں بند کر کے اپپنا منہ گھمایا اور کہا کہ ساری مستورات میری اس بیٹی کو دیکھ لیں، یہ میری بیٹی زینب ہے ، ایک وقت آئے گا جب یہی زینب ایک بار پھر اس کوفہ میں آئے گی جب یہ آئے تو اس سے اچھا سلوک کرنا، اگر یہ آپ لوگوں سے چادر کا سوال کرے تو اس چادر دے دینا۔