حضورؐ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو وہاں کے عمومی ماحول میں کونسی پانچ تبدیلیاں ہر صورت میں اور ہر بار آتی تھیں ؟ ایک معلوماتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) حضورؐ پر مختلف طریقوں سے وحی نازل ہوتی تھی۔ صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حارثؓ بن ہشامؓ نے آنحضور سے پوچھا کہ آپؐ پر وحی کس طریقے سے آتی ہے تو آنحضورؐ نے فرمایا:”کہ کبھی تو مجھے گھنٹی کی آواز سنائی دیتی ہے

محمد علیم نظامی لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ اور وحی کی صورت میرے لئے سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ ختم ہوتا ہے تو جو کچھ اُس آواز نے کہا ہوتا ہے مجھے یاد ہو چکا ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ میرے سامنے ایک مرد کی صورت میں آ جاتا ہے۔ اس حدیث میں آپؐ نے وحی کی آواز کو گھنٹیوں کی آواز سے جو تشبیہ دی ہے۔ شیخ محی الدین ابن عربی ؓ نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ایک تو وحی کی آواز گھنٹی کی طرح مسلسل ہوتی ہے اور بیچ میں ٹوٹتی نہیں۔ دوسرے گھنٹی جب تک مسلسل بجتی ہے تو عموماً سننے والے کو اُس کی آواز کی سمت متعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ اس کی آواز ہر جگہ سے آتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور کلامِ الٰہی بھی یہ خصوصیت رکھتا ہے کہ اس کی کوئی ایک سمت نہیں ہوتی، ہر جگہ سے آواز سنائی دیتی ہے۔ جب اس طریقے سے آپؐ پر وحی نازل ہوتی تو آپؐ پر بہت زیادہ بوجھ پڑتا تھا۔ حضرت عائشہؓ اس حدیث کے آخر میں فرماتی ہیں کہ مَیں نے سخت جاڑوں کے دِنوں میں آپؐ پر وحی نازل ہوتی دیکھی ہے۔ ایسی سردی میں جب وحی کا سلسلہ ختم ہوتا تو آپؐ کی مبارک پیشانی پسینے سے شرابور ہو چکی ہوتی تھی۔ ایک اور روایت میں حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان فرماتی ہیں کہ جب آپؐ پر وحی نازل ہوتی تو آپؐ کا سانس رُکنے لگتا، چہرہ انور کھجور کی شاخ کی طرح زرد پڑ جاتا، سامنے کے دانت ساری رات سردی سے کپکپانے لگتے اور آپ کو اتنا پسینہ آتا کہ اس کے قطرے موتیوں کی طرح ڈھلکنے لگتے تھے۔

وحی کی اس کیفیت میں بعض اوقات اتنی شدت پیدا ہوتی کہ آپؐ جس جانور پر اُس وقت سوار ہوتے وہ آپؐ کے بوجھ سے دَب کر بیٹھ جاتا اور ایک مرتبہ آپؐ نے اپنا سر اقدس حضرت زید بن ثابت ؓ کے زانو پر رکھا ہُوا تھا۔ ایسی حالت میں وحی نازل ہونی شروع ہو گئی۔ اس سے حضرت زیدؓ کی ران پر اتنا بوجھ پڑا کہ جیسے ٹوٹنے لگی۔ بعض اوقات اس وحی کی ہلکی ہلکی آواز دوسروں کو بھی محسوس ہوتی تھی۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب آپؐ پر وحی نازل ہوتی تو آپؐ کے چہرہ انور کے قریب(شہد) کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آواز سنائی دیتی تھی۔ وحی کی دوسری صورت یہ تھی کہ فرشتہ کسی انسانی شکل میں آپؐ کے پاس آ کر اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ ایسے موقع پر عموماً حضرت جبرائیل علیہ السلام مشہور صحابی حضرت وجیہ کلبیؓ کی صورت میں تشریف لایا کرتے تھے البتہ بعض اوقات کسی دوسری صورت میں بھی تشریف لاتے تھے۔ بہرکیف جب حضرت جبرائیل علیہ السلام انسانی شکل میں وحی لے کر آتے تو نزول وحی کی یہ صورت آنحضورؐ کے لئے سب سے آسان ہوتی تھی۔وحی کی تیسری صورت یہ تھی کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کسی انسان کی شکل اختیار کئے بغیر اپنی اصل صورت میں دکھائی دیتے تھے، لیکن ایسا آپؐ کی عمر میں صرف تین مرتبہ ہوا ہے۔ ایک مرتبہ اُس وقت جب آپؐ نے خود حضرت جبرائیل علیہ السلام کی اصل شکل میں دیکھنے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی۔ وحی کی پانچویں صورت یہ تھی کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی اس صورت میں سامنے آئے بغیر آپؐ کے قلب مبارک میں کوئی بات القا سے فرماتے تھے اسے اصطلاح میں نفث فی الروع کہتے ہیں۔