سلام یا حسین ؑ: اپنے وصال سے پہلے حضرت محمد ؐ نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو ایک امانت دی تھی ، یہ امانت کیا تھی جس میں حضرت امام حسین اور انکے جگر گوشوں کی شہادت کی خبر پوشیدہ تھی ؟

حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وصال سے پہلے جو امانت جناب ام المومنین ام سلمہ کو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دی وہ کربلا کی مٹی تھی، حضور ؐ کے وصال کے پچاس سال بعد وہ مٹی خون میں بدل گئی یہ اللّٰہ تعالیٰ کا معجزہ تھا کہ سب وصال فرما چکے تھے ۔

حضرت فاطمتہ الزہرہ دیگر سب امہات المومنین میں سے بھی کوئی اس وقت زندہ نہ تھا اور صرف امانت کی حفاظت کی خاطر اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیشینگوئی کی سچائی کی خاطر آللہ تعالیٰ نے جناب ام المومنین ام سلمہ کو زندہ رکھا جب دس محرم کو جناب امام عالی مقامؑ کو کربلا میں شہید کردیا گیا تو یہ دن کے پچھلے پہر دو تین بجے کا وقت تھا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود وہ مٹی جو کہ ایک شیشی میں بند تھی خون میں بدل گئی تو جناب ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میری چیخ نکل گئی اور میں سمجھ گئی کہ نواسہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔سلام یا حسین علیہ السلام ۔ حضرت ام سلمہ ، قریش کے خاندان مخزوم سے تھیں ۔ نسب مبارک یہ ہے : ہند بنت ابی مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم ۔ والدہ کا نام عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ تھا ، خاندان قریش سے تھیں ، آپ کے والد کا نام بعض مورخین کے نزدیک “سہیل” ہے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اصل نام ہند بنت ابو امیہ ہے اور ام سلمہ کنیت ہے آپ کی پیدائش ایک امیر گھرانے میں ہوئی تھی ۔ آپ کے والد کا نام سہیل اور والدہ کا نام عاتکہ تھا ۔ آپ کے والد قبیلہ مخزوم کے ایک بڑے سردار اور انتہائی سخی شخص تھے ۔ قافلے جب بھی ان کےساتھ سفر کرتے تو اپنے ساتھ زادِ راہ لے کر نہ جاتے۔کیونکہ پورے قافلے کے اخراجات یہ خود اٹھا تے تھے۔(الاصابہ ۔ ۸ ، ۴۰۴) (انتخاب : شیر سلطان ملک )