یارسول اللہﷺ !میرے حُسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے “؟ تو آپﷺ نے کیا جواب دیا؟ ماں کی عظمت پر مبنی ایمان کو جھنجوڑ دینے والا واقعہ

ماں کی عظمت پر کچھ لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ ماں شفقت ، خلوص ، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے ۔ ماں دُنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی ایک محبت ، ٹھنڈک ، پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے ۔ اس

کا سایہ ہمارے لئے ٹھنڈی چھاو¿ں کی مانند ہے ۔ چلچلاتی دھوپ میں اس کا دستِ شفقت شجرِسایہ دار کی طرح سائبان بن کر اولاد کو سکون کا احساس دلاتا ہے ۔ اس کی گرم گود سردی کااحساس نہیں ہونے دیتی ۔ خود بے شک کانٹوں پر چلتی رہے ، مگر اولاد کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی ہے اور دُنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتی ہے اِس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دُنیا میں پیدا نہیں ہوئی ،آندھی چلے یا طوفان آئے، اُس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی ۔ وہ نہ ہی کبھی احسان جتاتی ہے اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتی ہے بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبت اولاد پر نچھاورکرتی رہتی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ماں کی محبت ایک بحر بیکراں کی طرح ہے ۔ ماں کی بے پایاں محبت کو لفظوں میں نہیں پُرویا جا سکتا ۔خلوص و ایثار کے اس سمندر کی حدود کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ، ہر مذہب اور ہر تہذیب نے ماں کو عظیم اور مقدس قرار دیا ہے ۔ ماں ایک دُعا ہے جو ہر وقت ربّ رحیم کے آگے دامن پھیلائے رکھتی ہے اور قدم قدم پر اُن کی حفاظت کرتی ہے ۔ خُدا نے اس کے عظیم تر ہونے کی پہچان اس طرح کرائی کہ اس عظیم ہستی کے قدموں تلے جنت رکھ دی ۔ اب جس کا جی چاہے وہ اِس جنت کو حاصل کر سکتا ہے ۔اِس کی خدمت کرکے ،

اُس سے محبت کرکے اوراُسے عزت و احترام دے کر ۔۔ہر رشتے میں خود غرضی شامل ہو سکتی ہے مگر ماں کے رشتے میں کوئی خود غرضی شامل نہیں ہوتی ۔ ماں ایک ایسا رشتہ ہے جو دُنیا میں سب سے زیادہ پُر خلوص ہے اُس کی زندگی کا محور صرف اور صرف اُس کی اولاد ہوتی ہے ۔ دُنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں اُس کی دُعائیں سائے کی طرح پیچھا کرتی ہیں اور اُس کی دعاؤں ںسے بڑی سے بڑی مصیبت ٹل جاتی ہے ، وہ بے قرار ہوتو عرش کو ہلا دیتی ہے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا ”یارسول اللہﷺ !میرے حُسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے “؟۔فرمایا ”تیری ماں “ پوچھا ”پھرکون“ فرمایا۔۔” تیری ماں “ اُس نے عرض کیا ۔۔”پھر کون “ ۔فرمایا ۔۔”تیری ماں“ تین دفعہ آپ نے یہی جواب دیا ۔چوتھی دفعہ پوچھنے پر ارشاد ہوا ۔”تیرا باپ “۔ دینِ اسلام میں ماں کی نافرمانی کو بہت بڑا گناہ قرار دیاگیا ہے کیونکہ ماں وہ ہستی ہے جس نے بچوں کو اپنا دودھ پلا پلا کر پالا پوسا ، اُن کی پرورش میں اپنی ہر راحت قربان کی ، اپنا ہر آرام ترک اور اپنی ہر خواہش نثار کردی ۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال ؒ نے ماں کی تعریف کرتے ہوئے کچھ یوں کہا کہ میری ماں کا چہرہ بھی اتنا حسین ہے تسبیح کے دانوں کی طرح اقبال میں پیار سے دیکھتا گیا اور عبادت ہوتی

گئی ۔”ماں “وہ عظیم نام ہے ، جس کے لئے دُنیا کی مختلف زبانوں اور عالمی تہذیبی ورثے اور زبان و ادب میں جو الفاظ تخلیق کئے گئے ، وہ اس کے بلند مقام کا استعارہ اور ماں سے عقیدت و محبت کا حسین اظہار ہیں جبکہ دینِ فطرت اور دین ِ رحمت نے ”ماں“ کی عظمت ، خدمت اور اس کی اطاعت و فرمانبرادی کا جو درس دیا ہے وہ سب سے منفرد اور بے مثال ہے ۔ یہ ماں کی شفقت اور ما ں کی عظمت اور محبت کا اظہار ہی تھا کہ مُحسن ِ انسانیت ، نبی ِ رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”اگر ننھے اور معصوم بچوں کو ماں کا دودھ نہ پلایا جا رہا ہوتا ، بوڑھے اور عمر رسیدہ افراد اپنے ربّ کے حضور عبادت میں جُھکے نہ ہوتے اور معصوم جانور میدان میں چرنہ رہے ہوتے تو یقیناً تُم پر سخت عذاب ہوتا “ ۔ماں کائنات کی سب سے قیمتی متاع اور سب سے عظیم سرمایہ ہے ۔ اس کی شفقت و محبت اور خلوص و وفا کسی تعارف کا محتاج نہیں۔شاعر ِمشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ ”اسرارِ خودی “ میں اسلام میں ماں کی عظمت کے حوالے سے اپنی مشہور فارسی نظم ”درمعنی ایں کہ بقائے نوع از امومت است و حفظ و احترام امومت اسلام است “ میں لکھتے ہیں کہ ماں کے منصب اور اُس کے حفظ و احترام کا ضامن اسلام ہے ۔ اقبال ؒ کی اس نظم کا ترجمہ کچھ یوں ہے

کہ ”اگر ٹھیک طور پر دیکھو تو ماں کا وجود رحمت ہے ، اس کی بناءپر کہ اسے نبوت سے نسبت ہے “اس کی شفقت، پیغمبرانہ شفقت جیسی ہے ،جس سے قوموں کی سیرت سازی ہوتی ہے ۔ماں کے جذبہ ءمحبت کی بدولت ہماری تعمیر پختہ تر اور پیشانی کی سلوٹوں میں ہماری تقدیر پنہاں ہوتی ہے ۔ اگر تُم الفاظ کے معنی تک رسائی رکھتے ہو تو لفظ اُمت پر غور کرو ۔ اِس میں بڑے بڑے نکات ہیں۔ مقصود ِ کائنات ﷺ نے فرمایا ”ماں کے قدموں تلے جنت ہے “ ملتِ رحمی رستے کی تکریم پر قائم ہے ۔ اگر یہ نہیں تو زندگی کا ہر کام خام رہ جاتا ہے ۔ ”مامتا“سے زندگی سرگرم ہے ۔”مامتا“ سے ہی زندگی کے اسراربے نقاب ہوتے ہیں، ہماری ملت کی ندی میں ہر پیچ و تاب ”ماں “ سے ہے ۔اس ندی میں موج ، گرداب اور بُلبلے اسی وجود کے باعث ہیں۔ ملت کو ماں کی آغوش سے اگر ایک مُسلمان حاصل ہوجائے ، جو غیرت مند اور حق پرست ہو تو ہمارا وجود اِ ن پریشانیوں سے محفوظ ہو جائے ،اس شام کی بدولت ہماری صبحِ دُنیا کو روشن کر دے ۔”ماں “ کی عظمت اور اُس کے خلوص و وفا کے متعلق کسی نے کیا خُوب کہا ہے کہ ماں ، خلوص و مہر کا پیکر ، محبت کا ضمیرماں خُدا کارحم ، وہ دُنیا میں جنت کی سفیرماں نشانِ منزل ِ آدم ، تقدس کا پیام ماں کے قدموں میں ہے جنت ، ماں کے قدموں کو سلام ماں اللہ تعالیٰ کی نعمتِ عظیم ، عقل و شعور کی پہلی درسگاہ ، خلوص کا سرچشمہ، خُدا تعالیٰ کا عکس اور ایساباغ ہے جہاںہر وقت اولاد کےلئے پھولوں کی پتیوں کی طرح نرمی ہی نرمی ہے ۔ مختصر یہ کہ ماں جنت کا وہ پھول ہے کہ جس کے بغیر زندگی بے معنی ہے ۔ ماں کی قدر و قیمت اُن لوگوں سے پوچھیں جن کی مائیں بچپن میں اس جہاں فانی سے کوچ کر جاتی ہیں۔ماں کے بغیر انسان اُس شاخ کی مانند ہے جو زمانے کی تیز ہواو¿ں اور دھوپ کی تپش کے بغیر کسی سائبان کے سامنا کرتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ تما م ماؤں کو سلامت رکھے اور اُن کا سایہ اُن کی اولادپر قائم و دائم رکھے۔اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دُعا ہے کہ اولاد کو بھی ربّ کائنات اپنی اپنی ماؤں کی عزت و تکریم اور خدمت کرنے کا موقع عطا فرمائے کہ اِس خدمت کے وسیلے سے وہ حج ِ اکبر کی سعادت حاصل کرنے کے اہل ٹھہریں ۔بیشک ! میری تمام تر کامیابیاں میری والدہ محترمہ کی تربیت اور اُن کی دعاؤں اور میرے والد بزرگوار کی شفقت پدری کی مرہون منت ہےں۔آخر میں میری دُعا ہے کہ وہ اس دنیا سے کوچ کر جانے والی تمام ماؤں اور میری والدہ محترمہ کو بھی اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے ۔آمین ۔ بقول شاعر آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے ۔