جب گھڑیاں نہیں تھی تب اوقاتِ نماز کا اندازہ کیسے لگایا جاتا تھا؟ تعلیمات نبویﷺ سے حضرت بلال کی اذان سے جڑا ایک ایمان افروز واقعہ

عہد رسول میں جب حضرت بلال کو اذان کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی تو اس کی وجہ ان کی آواز کی بلند آہنگی اور لہجہ کی وجد آفرینی تھی۔ بعد کے دنوں میں بالخصوص دور دراز کے بلاد و امصار میں موذن کے تقرر کے لئے یہ بھی دیکھا جانے

لگا کہ وہ اوقاتِ نماز کا صحیح فہم رکھتا ہو، اسے گردشِ قمر کے مختلف منازل کا علم ہو تا کہ وہ رات کی تاریکی میں بھی وقت کا صحیح اندازہ لگا سکے۔ رفتہ رفتہ یہ مئوذن اپنے کارِ منصبی میں اس حد تک ترقی کر گئے کہ انہوں نے اوقات کے تعین کے لئے فلکیاتی آلات ایجاد کر ڈالے۔ علم التقویم پر کتابیں تصنیف کیں اور مختلف شہروں کے لئے الگ الگ اوقاتِ صلٰوۃ کی جدولیں تیار کر ڈالیں۔ سمت قبلہ کے تعین اور تحدید اوقات صلٰوۃ کی ضرورتوں نے علم المیقات کے نام سے ایک نئی فلکیاتی سائنس کو جنم دیا۔ آج ہماری مسجدوں میں اوقاتِ صلٰوۃ کا جو چارٹ ماضی کی علامت کے طور پر لٹکا دکھائی دیتا ہے اس کی جڑیں اسی علم المیقات میں پائی جاتی ہیں۔ تب ایٹومک گھڑیوں کا رواج نہ تھا اور تحدید وقت انتہائی پیچیدہ علم تھا جس میں ذرا سی بےاحتیاطی حساب کتاب کے سارے گوشوارے الٹ کر رکھ دیتی تھی۔ اگر فلکیات بنیادی دینی ضرورت نہ ہوتی اور مسلمان اس کام کو فرض عین کی حیثیت سے انجام نہ دیتے تو شاید جدید دنیا جیسی کہ وہ آج ہے وجود میں نہ آتی۔جبکہ ایک دوسرے واقعہ کے مطابق سیدہ کائنات حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کی رفعت و عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کے والد گرامی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبع نور ہدایت ہیں۔ آپ کے شوہر نامدار باب العلم ہیں۔ آپ کے بیٹے سرداران جنت ہیں، آپ کے انوار

میں نور مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلوہ گر ہے۔ آپ کے رگ و ریشہ میں خون مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجزن ہے۔ آپ کی پوری زندگی تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عملی تصویر پیش کرتی ہے۔کتب سیرت میں سیدہ کائنات حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بہت سے اسمائے گرامی بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند کا تذکرہ اس مضمون میں کیا جائے گا جس سے قارئین کے دلوں میں سیدہ کائنات کے ساتھ والہانہ عقیدت و محبت میں نہ صرف اضافہ ہوگا بلکہ سیدہ کائنات رضی اللہ تعالی عنہا کی عظمت و مقام مرتبہ سے بھی شناسائی ہوگی۔ ذیل میں سیدہ کائنات کے اسمائے گرامی ان کی وجہ تسمیہ اور پس منظر بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسوہ بتول رضی اللہ تعالی عنہپر احادیث کی روشنی میں تبصرہ بھی کیا گیا ہے۔فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہالفظ فاطمہ باب فاعلہ سے ہے جس کا معنی بالکل علیحدہ کردیا جانا ہے۔ لسان العرب کے مطابق اگر لکڑی کے ایک حصے کو کاٹ کر الگ کردیا جائے تو اسے تغطیم کہتے ہیں۔ بزار، طبرانی اور ابونعیم نے روایت کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ! جانتی ہو میں نے آپ کا نام فاطمہ کیوں رکھا؟ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ فرمادیجئے کہ ان کا نام فاطمہ کیوں رکھا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فاطمہ اور ان کی اولاد کو نار جہنم سے بالکل الگ کررکھا ہے‘‘۔ (الاستیعاب، ج 2، ص 752)اس معانی میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سم بامسمی ہیں۔ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور آپ کی اولاد کو دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھنا اس امر کی طرف نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کا عزوشرف اللہ کی بارگاہ میں بہت زیادہ ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ رضی اللہ تعالی عنہا کو پیار سے فاطم کہہ کر پکارتے تھے۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی آپ کو فاطم کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔بتول رضی اللہ تعالی عنہاسیدہ کائنات حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بتول کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے۔ معانی کے لحاظ سے یہ لفظ بتل سے نکلا ہے جس کا معنی سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو رہنا۔