کیا میڈیا میں خواتین کا بے پردگی کے ساتھ کروڑوں نظروں کے سامنے جانا گناہ ہے؟

بسمہ کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھی ہو، عائشہ نے بسمہ کو کالج کے گراؤنڈ میں اداس بیٹھے دیکھا تو پوچھا… کچھ نہیں بس یوں ہی… بتاؤ تو کیا ہوا ہے عائشہ نے پیار سے پوچھا میں نے رمضان ٹرانسمیشن کے لیے جو آڈیشن دیا تھا نہ اے آر وائی پر اس میں

سلیکٹ نہیں ہوئی بسمہ نے اداس لہجے میں بتایا، وجہ سن کر عائشہ کا دل چاہ اپنا سر پیٹ لے..(جیسے آپ لوگوں کا چاہ رہا ہے) بسمہ تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا صرف اتنی سی بات پر تم اداس ہو؟ اور میری نظر میں تو یہ رب کی مہربانی ہے جو تم پر ہوئی ہےبسمہ نے عائشہ کی طرف دیکھا اور بیزار لہجے میں کہا،،، مہربانی وہ کیسے؟ عائشہ اس کے پاس بیٹھی یہ بتاؤ کیا عورت یا لڑکی کا بلاوجہ گھر سے باہر جانا درست ہے؟ یا ہمارے اسلام میں پسند کیا گیا ہے؟ بسمہ نے نہ چاہتے ہوئے بھی نہ میں گردن ہلادی…بلکل ٹھیک تو جب پسندیدہ نہیں،، اسلام کی اجازت نہیں تو مردوں میں جاکر ، ان کے ساتھ کھڑے ہوکر، بے پردگی کے ساتھ ایک ایسی آنکھ کے سامنے جانا جو لاکھوں، کڑوڑوں نظروں تک پہنچائیے گی، اس سب گناہ سے تم بچ گئیں کیا یہ اس انعام سے بڑھ کر ہے جو تم جیت کر لاتی….. بتاؤ؟؟؟ دیکھو عائشہ اسلام کو مت لاؤ درمیان میں سب لڑکیاں جاتی ہیں اور میرا خیال ہے اس میں کچھ حرج بھی نہیںاچھا ااااااا……. تو میں اسلام کو درمیان میں نہ لاؤں؟ اسلام ہمارے ساتھ ساتھ ہے، اور تم، تم بھی تو نعت اور اسلامی کوئز کے نام پر آڈیشن دینے گئ تھی نہ… جب کیوں آیا اسلام درمیان میں اسلام کو درمیان میں تم لوگ لاتے ہو اسلام کے نام پر رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر اسلام کا بیوپار کرتے ہیں وہ لوگ اور تم جیسے لوگ اس

بیوپار میں ان کے ساتھ ساتھ ہوتے ہو ، مسلمانوں کے مقدس ماہ کو بیچنے میں صرف اور صرف چند ہزار یا چند سو کے انعام کے لیے یا پھر بس اسکرین پر نظر آجائیں اس کے عوض تم لوگ ہی بڑھ چڑھ کر مقدس ماہ کو بیچنے والو کا ساتھ دیتے ہو، شرم تو تم جیسے سب لوگوں کو آنی چاہیے جو اسلام کے نام پر بزنس کررہے ہیں جسے دیکھو کوئی پاس حاصل کرنے میں ذلیل و خوار ہورہا ہے یا کوئی آڈیشن دینے کی کوششوں میں سرگرداں ہے رمضان کو رمضان رہنے ہی نہیں دیا جارہا مگر اب صرف اور صرف کاروبار بنالیا گیا ہے پہلے بھی یہ ماہ آتا تھا… مگر عبادتیں ہوتی تھیں ایک ایک لمحہ بچایا جاتا تھا، پل پل انمول بنانے کی، مقدس بنانے کی کوشش کی جاتی تھی جو وقت کام. سے فراغت کے بعد ملتا کہ اس میں بھی قرآن کی تلاوت یا نوافل پڑھ لیں…. مگر آج گھنٹوں سیٹ پر رہا جاتا ہے، میک اپ کے ساتھ، ہاں کیوں نہیں بھئ اسکرین پر خوبصورت بھی تو نظر آنا،، پھر بھکاریوں کی طرح ایک ایک چیز مانگی جاتی ہے، یہ دے دو وہ..دے دو.. پلیز مجھے دے دو… بھائی ہو ،بہن ہو، بہت رحم دل ہو، گھر میں فریج نہیں، ٹی وی نہیں، اور رشتے داریاں گانٹھ کر فلاں بھائی میں فلاں بھائی میں میں میںضروریات کا اشتہار عمر و رتبے کے لحاظ کے بغیر سب کے سب ایک ہی صف میں فقیر بھکاری بن کر کھڑے ہوتے ہیں اور صرف یہی نہیں مزے

کی بات یہ ہے وہی ایکٹرز جو سالہ سال خود ذلیل ہورہے ہوتے ہیں جن کی پوری سال عزت نہیں کی جاتی… وہی مکمل میک اپ کے ساتھ سر پر دوپٹہ، اور مرد حضرات ڈیزائنر کرتا پہن کر نیک و متقی ہونے کا خوبصورت جبہ پہن کر ، ساتھ میں آپ کے گناہ بھی بخشوادیں گے کی تفسیر بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور آپ جیسے لوگ بھی ولیِ وقت سمجھ کر ہاں میں ہاں ملارہے ہوتے ہیں اور صرف ایکٹرز ہی کیوں وہ سب فی میل اسکالرز بھی مسئلہ ِ شرعی بتارہی ہوتی ہیں… جنھیں دل چاہتا ہے سورہ نور و سورہ النساء اور سورہ حجرات کھول کر دکھاؤں اور پوچھوں #بی_بی_اسلامک_اسکالر یہاں کس حکم کے تحت اتنا سج بن کر بیٹھی ہو عائشہ بلا تکان بسمہ کو حقائق کا آئینہ دکھارہی تھیبسمہ. حق دق سن رہی تھی اچھا بس اب چپ ہوجاؤ کونسا پورے سال ہوتا ہے، بس ایک ہی ماہ تو ہوتا ہے اور اللہ معاف کردیتا ہے اتنا تو میں بھی جانتی ہوں ہاں تمہاری باتیں بھی ٹھیک ہیں….چلو اب گھر چلیں شام میں جیو کے لیے بھی آڈیشن دینے جانا ہے تم دعا کرنا سلیکٹ ہوجاؤںیہ صرف بسمہ کا نہیں بہت سے گھروں میں بہت سے لوگو کا مسئلہ ہےاندھی دوڑ میں جس میں انعامات کا لالچ بھی ہو سب شامل ہوجاتے ہیں مسلمانوں کے مقدس ترین ماہ کا اس ماہ کا جس کا احترام غیر مسلم بھی کرتے ہیں آج خود مسلمان نہیں کر رہے ہیں بہتی گنگا میں تو ویسے ہی ہاتھ دھونے کو سب تیار ہوجاتے ہیں ہمارے سوچنے سے زیادہ ریاست کو عمل کی ضرورت ہے کاش بیدار ہوجائیں