قوم لوط پر اللہ کا عذاب کیسے نازل ہوا ؟ اور یہ قوم دنیا کے لیے کیسے نشان عبرت بن گئی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) حضرت لوط علیہ السلام اللّٰہ کے نبیوں میں ایک بلند مقام رکھتے تھے ـ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے برادر زادہ تھے یعنی انبیاء کے خانوادے سے آپ کا تعلق بہت پرانا تھا ـ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حکم پر مصر چھوڑ کر اردن کے علاقے مسدوم میں قیام پذیر

ہوے اور دین حق کی تبلیغ میں مصروف ہو گئے ـ حضرت لوط علیہ السلام نے مسدوم میں آ کر دیکھا کہ یہاں کے باشندے فواحش اور اخلاقی برائیوں میں اس قدر ملوث ہیں کہ خدا کی پناہ ـ ان میں بہت سی برائیاں تھیں. مگر ایک برائی تمام اقوام سے علیحدہ اور بڑھ کر تھی اور وہ یہ کہ وہ مرد اپنی خواہشات نفسانی عورتوں کی بجاے مردوں سے پوری کر لیتے تھے ـ اس پر یہ کہ اپنی اس حرکت کا وہ کھلے عام فخر سے تذکرہ کرتے تھے اور اس بات پر خوش ہوتے اور مزید شہوت پاتے تھے ـ نبی حضرت لوط علیہ السلام نے انکو بہت منع کیا اور بتایا کہ یہ برائی ہے اور یہ بھی بتایا کہ ان سے پچھلی اقوام کیسے عذاب الٰہی سے دو چار ہوئیں ـ وہ اللّہ کے حکم سے سرکشی برتنے پر ہی سزاوار ہوئیں ـ مگر اس قوم پر اس بات کا کوئی اثر تک نہ ہوا ـ بلکہ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ لوط علیہ السلام کو وہ شہر ہی چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ وہ اور انکا خاندان نیک اور پاک ہے ـ مزید یہ بھی کہا کہ اگر اپ سچے ہیں تو خدا کا عذاب لا کر دکھائیں ـ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فرشتوں سے ملاقات: اسی وقت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللّٰہ کے بھیجے ہوے تین آدمی ملے ـ اپ نے انکی خوب خاطر تواضع کی ـ جب انکو گھر لے گئے تو انہوں نے بتایا کہ ہم اللّٰہ کے بھیجے ہوے فرشتے ہیں اور قوم لوط کو تباہ کرنے کے واسطے مسدوم جا رہے ہیں ـ جب وہ مسدوم پہنچے تو حضرت لوط علیہ السلام کے پاس گئے ـ چونکہ وہ بہت حسین و جمیل لڑکوں کی صورت میں تھے اسلیے لوط علیہ السلام انکو دیکھ کر گھبرا گئے کہ قوم.انکے ساتھ نہ جانے کیا سلوک کرے ـ انیوں نےلوط علیہ السلام کو تسلی دی کہ آپ فکر نہ کریں ہم اللّٰہ کے فرشتے ہیں اور قوم.ہمارا کچھ نہی بگاڑ سکتی ـ اسی اثناء میں قوم کو خبر ہو گئی کہ حسین وجمیل لڑکے آے ہیں انکے منہ میں پانی آیا اور وہ انکے گھر پہنچے اور کہا کہ یہ لڑکے ہر صورت ہمارے حوالے کرو ـ انہوں نے بہت منع کیا مگر وہ نہ مانے اور لگے دھمکیاں دینے ـ آخر کار انکی ہٹ دھرمی کی وجہ سے عذاب آ پہنچا ـ رات ہوئی تو حضرت لوط علیہ السلام اپنے خاندان سمیت گھر بار چھوڑ کر نکل گئے اور تھوڑی دیر کے بعد ایک خوفناک اونچی چیخ نے پوری بستی کو تباہ کر دیا ـ پتھروں کی ایک خوفناک بارش نے انکا نام و نشان ختم کر دیا ـ اگلے دن اس جگہ اس آبادی کا نشان تک نہ تھا ـ امریکہ کے محققین نے انتھک محنت سے تقریباً 10 سال کے عرصے میں ایک 3500 سال پرانا شہر دریافت کیا ہے. مسلسل تحقیق کے بعد امریکن محقین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ شہر اللہ کے عذاب سے تباہ ہوا تھا. اور ان لوگوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ، یہ شہر حضرت لوط کی قوم کا تھا.