آپ ﷺ کے معراج شریف جاتے ہوئے جس بیری کے درخت کا ذکر ہے وہ کیسے کائنات سے جنت الماویٰ کی طرف جانے کا راستہ ہے؟ پڑھیے مغربی سائنسدانوں کے دنگ کر ڈالنے والے موقف

سائنسدان پہلی بار کائنات کے ایک بڑے راز بلیک ہول کی پہلی تصویر لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو ایک دور دراز واقع کہکشاں میں موجود تھا۔ اس حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں سائنسدانوں نے بلیک ہولز اور معراج مصطفیٰ بارے تحقیق کی، اس تحقیق میں

سورہ النجم کی آیات کا حوالہ بھی دیا گیا، رپورٹ میں کہا گیا کہ آسٹروفزیسٹ جب کہتے تھے کہ ستارے ٹوٹ کر بلیک ہول میں جاتے ہیں تو وہ بلیک ہول ستاروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں، اسے ایک مذاق سمجھا جاتا تھا، 2011ء میں سائنسدان ستاروں کے بلیک ہول میں جانے بارے دعوے کو ثابت نہیں کر سکے تھے لیکن اب وہ اس میں کامیاب ہو گئے ہیں، اس رپورٹ کے مطابق جس تحقیق پر سائنسدان پہنچے ہیں، اس بارے سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ قرآن پاک کی سورہ النجم میں بلیک ہولز اور آپؐ کے معراج پر جانے کا ذکر ہے، سائنسدان بلیک ہولز بارے تحقیق سے نبی اکرمؐ کی معراج پر جانے کی تصدیق کرتے ہیں، سائنسدان اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ آیت میں جس بیری کے درخت کاذکر ہے وہ دراصل بلیک ہول کیسے ہے اور کیسے وہ اس کائنات سے جنت الماویٰ کی جانب جانے کا راستہ ہے، واضح رہے کہ اس رپورٹ میں سورہ النجم کی آیات کا باقاعدہ ذکر کیا گیا۔ سورہ النجم کی پہلی اٹھارہ آیات کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے، ستارے کی قسم ہے جب وہ ڈوبنے لگے۔ تمہارا رفیق نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا ہے۔ اور نہ وہ اپنی خواہش سے کچھ کہتا ہے۔ یہ تو وحی ہے جو اس پر آتی ہے۔ بڑے طاقتور (جبرائیل) نے اسے سکھایا ہے۔ جو بڑا زور آور ہے پس وہ قائم ہوا (اصلی صورت میں)۔ اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے پر تھا۔ پھر نزدیک ہوا پھر اور بھی

قریب ہوا۔ پھر فاصلہ دو کمان کے برابر تھا یا اس سے بھی کم۔ پھر اس نے اللہ کے بندے کے دل میں القا کیا جو کچھ القا کیا دل نے۔ جھوٹ نہیں کہا تھا جو دیکھا تھا۔ پھر جو کچھ اس نے دیکھا تم اس میں جھگڑتے ہو۔ اور اس نے اس کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہٰی کے پاس۔ جس کے پاس جنت الماوٰی ہے۔ جب کہ اس سدرۃ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا (یعنی نور)۔ نہ تو نظر بہکی نہ حد سے بڑھی۔ بے شک اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ واضح رہے کہ سائنسدان پہلی بار کائنات کے ایک بڑے راز بلیک ہول کی پہلی تصویر لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو ایک دور دراز واقع کہکشاں میں موجود تھا۔یہ بلیک ہول 40 ارب کلومیٹر کے حجم کا تھا یعنی زمین سے تین گنا بڑا جبکہ سائنسدانوں نے اسے عفریت قرار دیا ہے۔یہ بلیک ہول زمین سے 500 ملین ٹریلین کلومیٹر دور واقع تھا اور اس کی تصویر دنیا بھر سے ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ (ای ایچ ٹی) نامی 8 ریڈیو دوربینوں کے ایک نیٹ ورک نے لی جس کے لیے 200 سے زائد سائنسدانوں نے مل کر کام کیا۔یہ پہلی بار ہے کہ سائنسدان کسی بلیک ہول کی تصویر لینے میں کامیاب ہوسکے جس سے کائنات کے اس راز کو سمجھنے میں مدد مل سکے گی۔اس تصویر میں مادے کا ایک ہالا دکھائی دے رہا ہے جو بلیک ہول کے گرد دائرے کی شکل میں ہے. جبکہ ہالے کے درمیان سیاہ چیز بلیک ہول ہے۔ بلیک ہول اپنی شدید کشش ثقل کی وجہ سے جب ستاروں کو نگلتا ہے تو ستاروں کے ان ٹکڑوں میں رگڑ کی وجہ سے شدید دباؤ پیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے ریڈیو لہریں نکلتی ہے. اور یہی لہریں ای ایچ ٹی نے ڈٹیکٹ کیں.ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ کے ڈائریکٹر اور ہارورڈ یونیورسٹی کے محقق نے اس بارے میں بتایا کہ بلیک ہول ہماری کائنات کے چند پراسرار ترین چیزوں میں سے ایک ہیں، اور ہم وہ دیکھ رہے ہیں جس کے بارے میں ہمارا خیال تھا کہ اسے دیکھنا ممکن نہیں، ہم نے بلیک ہول کی ایک تصویر لے لی ہے۔ نیدرلینڈ کی راڈبوڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ہینو فلیکی نے بتایا کہ یہ بلیک ہول ایک کہکشاں ایم 87 میں واقع ہے اور ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ ہمارے پورے نظام شمسی کے حجم سے بھی بڑا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے خیال میں اس وقت کائنات میں موجود چند سب سے بھاری بلیک ہولز میں سے ایک ہے جو کسی عفریت سے کم نہیں یا یوں کہہ لیں کائنات کے بلیک ہول کا ہیوی ویٹ چیمپئن ہے۔