اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو پھر تاقیامت ایک ساتھ نماز پڑھو گے نہ ایک ساتھ جہاد کرو گے ۔۔۔ امت مسلمہ کے چند منفی کرداروں کے مختصر تعارف کے ساتھ ایک سبق آموز تاریخی واقعہ ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) ملت اسلامیہ کے منفی کردار۔۔۔۔ یہ مرزا محمد اکرم صاحب کی تصنیف ہے، انہوں نے گوشہ گیر زندگی گزارتے گزارتے امت مسلمہ کی ایسی خدمت انجام دی ہے جس کے لئے باری تعالیٰ کے حضور انہیں رحمت سے نوازنے کی دعا دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہے۔یہ کتاب مرزا صاحب کا

نامور کالم نگار محمد سعید اظہر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ وہ صدقہ جاریہ ہے جس کا مطالعہ آپ کو امت مسلمہ کے قلب و جوارح پر لگے زخموں کی گہرائی اور گیرائی کی خندقوں کو جاننے اور پہچاننے کی راہوں پر لے جا سکتا ہے، اس امت میں ہونے والے واقعات آپ کو ششدر کر دیتے ہیں، آپ کی حیرت صدمے کی عمیق ترین وادی میں جا اترتی ہے۔مرزا محمد اکرم نے ان بدبخت کرداروں کو یکجا کر دیا جنہوں نے ملت اسلامیہ کے سینے میں اپنی نفسانی کیفیات کا زہریلا خنجر کسی شرمندگی، اضطراب، ہچکچاہٹ اور خوف کے بغیر اتار دیا اور کبھی غیر مطمئن نہ ہوئے تاآنکہ اپنی قبروں میں جا اترے۔ تفصیل میں جانے سے پہلے کتاب میں بیان کردہ ان چند کرداروں کو سامنے لاتے ہیں، پھر ایک دو واقعات کے بیان سے آپ کو ’’ان بدبخت کرداروں کی سنگینی کا اندازہ ہو سکے گا۔ یہ نام ہیں۔ –عبداللہ بن سبا ۔۔ –oمروان بن حکم ۔۔ –oعبدالملک بن مروان ۔۔ –oحجاج بن یوسف ثقفی ۔۔ –خالد بن عبداللہ التسری ابن النصرانیہ ۔۔ -ولید ثانی بن یزید بن عبدالملک ۔۔ –ابو جعفر عبداللہ ۔۔ –ابو مسلم خراسانی ۔۔ –باطنیت کا فتنہ ۔۔ –فتنہ تاتار ۔۔ –سقوط غرناطہ کے دو کردار، ابو عبداللہ زغل اور ابو احمد محمد ۔۔۔ –جلال الدین اکبر، شہنشاہ ہند ۔۔ –روشن اختر محمد شاہ رنگیلا ۔۔ تجزیاتی گفتگو بڑھانے سے پہلے ’’ملت اسلامیہ کے منفی کردار‘‘ کے نام سے لکھی جانے والی اس درد آسا کتاب سے دو واقعات پیش کئے جاتے ہیں۔

ان کا مطالعہ ایک مسلمان کی ساری دنیا ڈسٹرب کر دینے کے لئے کافی سے زیادہ ہے۔ (کتاب کا صفحہ 19-16-15) (1) ہم عبداللہ بن سبا کی داستان کو ختم کرنے سے پہلے حضرت عثمانؓ کی وہ تقریر نقل کرتے ہیں جو قیامت تک کے حالات کی پیش گوئی کرتی ہے۔ آپؓ 82سال کی عمر میں 12سالہ خلافت کے بعد شہید ہوئے۔ ابن سبا کا فتنہ خلافت کے نصف میں شروع ہوا اور آپؓ کی شہادت پہ کسی حد تک اختتام پذیر ہوا، آپ کی یہ تقریر جو زندگی کے آخری ایام میں کی گئی، بڑی اہم تقریر تھی۔ فرمایا:’’لوگو! میرے قتل کے کیوں درپے ہو؟ میں تمہارا والی اور مسلمان بھائی ہوں لیکن بہرحال میں انسان ہوں، اس لئے اصابت رائے کے ساتھ لغزشیں بھی ہوئیں۔ یاد رکھو اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو پھر تاقیامت ایک ساتھ نماز پڑھو گے نہ ایک ساتھ جہاد کرو گے‘‘۔ سوال:حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد سے لے کر آج تک عملاً کیا نقشہ ہے؟ البتہ مصنف کا کہنا ہے ’’کوشش بسیار کے باوجود ہمیں تاریخ کی کتابوں سے ابن سبا کی موت کا حال معلوم نہیں ہو سکا، لہٰذا اس کا ذکر نامانوس یہیں ختم کرتے ہیں لیکن اس کی لگائی آگ ملت اسلامیہ کے خرمن کو ہمیشہ جلاتی رہے گی۔ کیا آپ مصنف کی رائے سے اختلاف کا یارا رکھتے ہیں یا رکھ سکتے ہیں۔(2) دوسرا وقوعہ: یہ کتاب کے صفحہ 28-27پر درج ہے۔ ’’ایک اور واقعہ جو یزید کی بدکرداری، مسلم دشمنی، اسلام دشمنی اور بہیمیت کا کھلا ثبوت ہے۔ وہ حُرہ کا واقعہ ہے۔ حُرہ کا علاقہ اب بھی موجود ہے۔

یزید کے وقت یہ علاقہ مدینہ سے ہوتا ہوا شمال مشرقی جانب پھیلا ہوا تھا، اسی جگہ سے حرم مدینہ کا آغاز ہوتا ہے۔ اسے حُرہ واقم بھی کہتے ہیں۔ یزید نے مسلم بن عقبہ کو حکم دیا کہ اہل مدینہ کو تین دن تک اطاعت قبول کرنے کی دعوت دیتے رہو۔ پھر وہ نہ مانیں تو ان سے جنگ کرنا اور جب فتح پا لو تو تین دن کے لئے مدینہ کو فوج کے لئے مباح کر دینا۔ اسی ہدایت پر فوج گئی، جنگ ہوئی، مدینہ فتح ہوا اور اس کے بعد یزید کے حکم کے مطابق فوج کو اجازت دے دی گئی کہ شہر میں جو کچھ چاہے کر لے۔ تین دنوں تک شہر میں ہر طرف لوٹ مار کی گئی۔ شہر کے باشندوں کا قتل عام کیا گیا۔ امام زہری کی روایت کے مطابق سات سو معززین اور دس ہزار عوام مارے گئے اور ظلم بالائے ظلم یہ کہ وحشی فوجیوں نے گھروں میں گھس کر پاکدامن خواتین کی بے حرمتی کی۔اور پھر لشکر یزید کے ایک کمانڈر ’’حصین بن نمیر‘‘ نے مکہ کو محاصرے میں تو پہلے ہی لے رکھا تھا، اب اس نے کوہ ابو قبیس پر منجنیق نصب کر کے خانہ کعبہ پر سنگباری شروع کر دی جس سے خانہ کعبہ کی دیواروں اور چھت کو نقصان پہنچا، تین دن بعد شامیوں نے رائی، گندھک اور رال کے آتشیں گولے خانہ کعبہ پر پھینکے جس سے خانہ کعبہ کا غلاف جل گیا اور بچی کھچی دیواریں سیاہ ہو گئیں، کئی منجنیقیں دن رات گولہ باری آتش باری میں مصروف تھیں۔’’ملت اسلامیہ کے منفی کردار‘‘ کے نام سے مرزا محمد اکرم صاحب نے ہمارے لئے کتاب نہیں ایک عبرت نامہ تشکیل دیا ہے، ایسا عبرت نامہ جس کا بالاستیعاب مطالعہ آپ کو ابن خلدون کے ’’مقدمہ تاریخ‘‘ کے تمام فارموں سے شاید برأت کے اعلان پر مجبور کر دے، خاکسار نے اس کتاب پر جو بھی وقت صرف کیا اس میں صرف اور صرف دلِ ناچیز کے لئے کرب، حسرت، افسوس اور صدمے کی فصلیں ہی کاشت کیں، پھر یاد آیا یہ تو صدیوں سے یونہی کاشت ہو رہی ہیں، مذہبی خوف سوال نہیں اٹھانے دیتا اور ان فصلوں کی بڑھوتری حد و حساب سے باہر ہو چکی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ہاں! مصنف نے اپنے ابتدایئے میں ملت اسلامیہ کی تاریخ اس نتیجے سے مشروط کر دی ہے کہ ’’اسلامی معاشرے کی نشاندہی کے لئے انگلی اس لکیر پر رکھی جا سکتی ہے جہاں خلافت ختم ہو گئی اور ملوکیت نے غلبہ حاصل کر لیا، اس لکیر کے زوال کی طرف حضرت عمرؒ بن عبدالعزیز کو استثنا حاصل ہے۔ (ش س م)