کیا قرآنی واقعات اور اسلامی تعلیمات پر فلمیں‌ بنانا جائز ہے؟ دیکھنے والوں کے لیے ارشاد باری تعالیٰ پر مبنی ایک عبرت ناک تحریر

اسلامی تہذیب و تمدن اور تعلیمات پر فلمیں بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ موجودہ ڈیجیٹل دور اہلِ اسلام سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ نئی نسل تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے منبر و محراب کی اہمیت اور حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید خطوط پر کام کریں۔ ہمارے

دانست میں اسلامی تاریخ، شخصیات اور معاشرت کو فلمانے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کی وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے: کیا انبیاء کرام کی حیات پر فلمیں بنانا اور دیکھنا جائز ہے؟آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:آپ کا بچوں کو اسلامی فلمیں دیکھانا درست عمل ہے۔ایسی فلمیں اور ڈرامے جو واقعتاً اسلامی تاریخ، اسلامی تہذیب اور تعلیمات کی عکاس ہوں ان کا دیکھنا جائز ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ کو فلمانے میں کوئی حرج نہیں، تاہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شبیہ بنائی جائے گی اور نہ ہی اسے پردہ سکرین پر لایا جائے گا، بلکہ باقی کرداروں کی مدد سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ حسنہ اور تعلمیات کو ناظرین تک پہنچایا جائے گا۔ ضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات،صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین اوردیگربلندپایہ بزرگ ہستیوں کی حیات ِ طیبہ کے حالات وواقعات کی تصویری فلم بنانا اورپھرمیڈیاکے ذریعے ٹی وی اورانٹرنیٹ وغیرہ پرپیش کرنانام نہادمتفکرین ومتجددین اوردشمنانِ اسلام کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کابدترین مذاق اڑانے کے مترادف ہے، ایسی فلمیں بنانا، دیکھنااوردکھانا ناجائزاورحرام ہے،بلکہ ایمان کاسلامت رہنابھی دشوارہے۔اس عمل کے ناجائزہونے کی بے شما روجوہات ہیں،جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں: …انبیاء کرام علیہم السلام کے نفوسِ قدسیہ اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ذواتِ مطہرہ جس تکریم اورعظمت وجلال کی حامل ہیں،اس کاتقاضایہ ہے کہ ان مبارک شخصیات کی زندگی کے حالات کوپورے ادب واحترام کے ساتھ پڑھا،سنااورعملی طورپراپنایاجائے،اس کے برعکس ان فلموں میں پیشہ ورعام گنہگار انسانوں اور

بہروپیوں کو ان مقدس شخصیات کی شکل میں پیش کرکے ان سے مصنوعی نقالی کرائی جاتی ہے،حالانکہ انبیاء کرام کی نقالی کفر جبکہ صحابہ کرام کی نقالی فسق ہے، پھران مقدس شخصیات کا روپ دھارنے والے بہروپیوں کوعامیانہ لہجے میں پکارا جاتا ہے،ان کے مخالفین کا کرداراداکرنے والے ایکٹروں کی طرف سے ان پردشنام طرازی کی جاتی ہے،انہیں مجنون،شاعر،ساحر،کاہن اورقصہ گو وغیرہ کے الفاظ سے مخاطب کیا جاتا ہے،فلمی ایکٹرز کی شکل وصورت بھی توہین آمیز ہوتی ہے مثلاً:خشخشی داڑھی اورکلین شیو وغیرہ،تو یہ تمام تر امور ان مقدس شخصیات کی تنقیص وتوہین کے ساتھ ساتھ ان کی پیغمبرانہ،صحابیانہ اور بزرگانہ قدروقیمت کے منافی امور ہیں،غیرت اور حمیتِ ایمانی کے خلاف ہے،کفر کی ترجمانی ہے اوربالآخرنتیجہ کفر ہی نکلتا ہے۔حافظ ابنِ کثیررحمة اللہ علیہ آیت:﴿إن الذین یوٴذون اللّٰہ ورسولہ․․․․․․․إلخ﴾کے تحت فرماتے ہیں:”یقول تعالی متھدداً ومتوعداًمن آذاہ بمخالفة أوامرہ، وإرتکاب زواجرہ،وإصرارہ علی ذلک،وإیذاء رسولہ بعیب أوبنقص عیاذاًباللّٰہ من ذلک قال عکرمة فيقولہ تعالی:﴿إن الذین یوٴذون اللّٰہ ورسولہ﴾ نزلت في المصورین…والظاھرأن الآیة عامة فی کل من آذاہ بشيء،ومن آذاہ فقد آذی اللّٰہ…الخ ․(تفسیرابن کثیر،سورة الأحزاب:رقم الآیة:57،3/683، ط: دارالسلام) (وھکذافي روح المعاني، سورةالأحزاب،رقم الآیة:57،22/87،ط:دارإحیاء التراث)اس کے بعد والی آیت ﴿والذین یوٴذون الموٴمنین والموٴمنات …إلخ﴾کے تحت علامہ آلوسی بغدادی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: (والذین یوٴذون الموٴمنین والموٴمنات…إلخ)یفعلون بھم ما یتأذون بہ من قول أو فعل…والظاھرعموم الآیة لکل ما ذکرولکل ماسیأتي من أراجیف المرجفین،وفیھامن الدلالة علی حرمہ الموٴمنین والموٴمنات مافیھا،وأخرج ابن أبي حاتم عن مجاھد في ھذہ الآیة قال: ”یلقي الجرب علی أھل النارفیحکون حتی یبدوالعظام، فیقولون: ربنا! بماذا أصابنا ھذا، فیقال: بأذاکم المسلمین“، وأخرج غیرواحد عن قتادة قال: ”إیاکم وأذي الموٴمن،فإن اللّٰہ تعالی یحوطہ ویغضب لہ“…إلخ․(روح المعاني،سورة الأحزاب:58،22/88،ط:دارإحیاء التراث)فتاوی عالمگیری میں ہے:”سئل عمن ینسب إلی الأنبیاء الفواحش کعزمھم علی الزناونحوہ الذي یقولہ الحشویة في یوسف علیہ السلام،قال:یکفر؛لأنہ شتم لھم واستخفاف بھم․․․․․․․․․․․․قال أبوحفص الکبیر:کل من أراد بقلبہ بغض نبي یکفر…وکذلک لوقال:”أنارسول اللّٰہ“،أوقال بالفارسیة:”من پیغمبرم“یریدبہ”من پیغام می برم“یکفر…ولوقال لشعرالنبي: ”شعیر“ یکفر عند بعضھم، وعندالآخرین لا، إلا اذاقال بطریق الإستھانة… ولوقال: ”محمددرویشک بود“ أوقال: ”قدکان طویل الظفر“ فقدقیل: یکفر مطلقاً، وقدقیل: یکفرإذاقال علی وجہ الإستھانة،ولوقال للنبي: ”ذلک الرجل قال کذاوکذا“فقدقیل:أنہ یکفر…ومن قال:”جن النبي“یکفر