کیا شریعت نے مسواک کی لمبائی اور موٹائی کی حد مقرر کی ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی سے ایک شاندار معلومات

قرآن و حدیث میں مسواک کی لمبائی یا موٹائی کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی، اس لیے اپنی سہولت و ضرورت کے مطابق کسی بھی حجم کی مسواک استعمال کی جاسکتی ہے۔ مسواک سے شریعت کا اصل مقصود منہ کی صفائی ہے۔ جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ.مسواک منہ کی صفائی کا سبب ہے، رب کریم کی خوشنودی کا باعث ہے۔نسائي، السنن الكبرى، كتاب الطهارة، الترغيب في السواك، 1: 64، رقم: 4، حلب: مكتب المطبوعات الإسلاميةابن حبان، الصحيح، باب سنن الوضوء، ذكر إثبات رضا الله عز وجل للمتسوك، 3: 348، رقم: 1067، بيروت: مؤسسة الرسالة ویسے بھی مسواک استعمال ہونے سے مسلسل چھوٹی ہوتی رہتی ہے جس کی بناء پر اس کی لمبائی ایک حالت میں نہیں رہ سکتی اور نا ہی کسی خاص لمبائی کو اس کی شرعی حد قرار دیا جاسکتا ہے۔ (۱) مسواک کے سلسلہ میں بہتر یہ ہے کہ نرم ہو، لکڑی میں جوڑ نہ ہو، انگلی کے بقدر موٹی ہو، ایک بالشت لمبی ہو، اور مسواک بانس، انار اور ریحان کے علاوہ کسی اور درخت کی ہونی چاہئے، خصوصاً کڑوے درخت کی، جیسے نیم کا درخت،زیادہ اولیٰ پیلو کے درخت کی ہے، پھر زیتون کے درخت کی ہے، الغرض مسواک درخت کی ہونی ضروری ہے، اگر کسی وقت کسی درخت کی مسواک میسر نہ ہو تو اُنگلی سے دانت صاف کرکے منہ کی بدبو زائل کردے، اس طرح بھی سنت ادا ہوجاتی ہے، بہرحال اصل سنت درخت کی مسواک ہے، وہ میسر نہ ہو یا دانت نہ ہوں یا دانت یا مسوڑھے کی خرابی کی وجہ سے مسواک سے تکلیف ہوتی ہو تو ضرورة ہاتھ کی انگلیوں یاموٹے کھردرے کپڑے یا منجن، ٹوتھ پیسٹ یا برش سے مسواک کا کام لیا جاسکتا ہے، مگرمسواک کے ہوتے ہوئے مذکورہ چیزیں مسواک کی سنت ادا کرنے کے لئے کافی نہیں اور مسواک کی سنت کا پورا اجرحاصل نہ ہوگا، گرچہ صفائی تو ہوجائیگی۔ (۲) وضو کرتے وقت مسواک کرنا سنتِ موکدہ ہے، قرآن شریف پڑھتے وقت، سوتے وقت، منھ میں بدبو پیدا ہونے کے وقت، وغیرہ وغیرہ مسواک کرنے کی تاکید بہت ساری احدایث میں وارد ہوئی ہے، (۱) ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں اپنی امت کیلئے مشقت نہ جانتا، تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا۔ [بخاری۱حدیث نمبر ۸۴۶] (۲) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دس چیزیں سنت ہیں مونچھیں کتروانا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا…الخ [مسلم۱حدیث نمبر ۶۰۴ و۷۷۴۳] (۳) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “وہ نماز جس کے لیے مسواک کی گئی (یعنی وضو کے وقت) اس نماز پر جس کے لیے مسواک نہیں کی گئی ستر درجے کی فضیلت رکھتی ہے۔” (احمد، بیہقی) فائدہ: مسواک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دانت کے اوپری حصہ پربھی کیا جائے اور نچلے حصہ پر بھی، اور ڈاڑھوں پر بھی،دائیں جانب سے مسواک کی ابتداء کرے،کم سے کم تین بار اوپر تین بار نیچے پانی کے ساتھ مسواک پھیرنی چاہیے،مسواک چوڑائی میں یعنی دائیں حصہ سے بائیں حصہ کی طرف کرنی چاہیے، طول میں مسواک کرنا بہتر نہیں کیونکہ اس سے مسوڑھے زخمی ہوسکتے ہیں، اور مستحب یہ ہے کہ مسواک کودائیں ہاتھ سے پکڑا جائے،