اسلام میں‌ سگار پینے کا کیا حکم ہے؟ قرآن پاک کی تعلیمات پر مبنی ایمان افروز تحریر

سگریٹ نوشی ان ممنوعات میں سے ہے جو خبیث، نقصاندہ اورگندی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالی کا ارشادہے: وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَآئِثَ.(نبی مکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم) ان (اہلِ ایمان) کے لیے پاکیزہ صاف ستھری چیزیں حلال بتاتے ہيں اورخبائث کو حرام کرتے ہيں۔

سگریٹ نوشی سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات واضح ہیں، یہی وجہ ہے کہ سارى انسانیت اس كے خلاف جنگ میں مصروف ہے یہاں تک کہ سگریٹ بنانے والے بھی ہر ڈبی پر ‘مضر صحت ہے’ لکھ کر اس سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔ شرعِ متین کا تو اولین مقصد ہی انسانی جان و مال کی حفاظت ہے اور اسی لیے ہر نقصاندہ و ضرر رساں شے حکمِ شریعت کی رو سے ممنوع ہے۔ اللہ تعالی کا ارشادہے:وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ.اپنے آپ کوقتل نہ کرو۔النساء: 29اور:وَلاَ تُلْقُواْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ.اپنے آپ کو ہلاکت ميں مت ڈالو۔البقرة: 195جب یہ واضح ہوگیا کہ سگریٹ نوشی نقصاندہ اور ممنوع ہے تو اس کا استعمال، اس کی بیع و شراء اور تجارت بھی جائز نہیں ہے۔ اس لیے سگریٹ پینا، اسے تیار کرنا، تیاری کا حصہ بننا اور اس کی خرید و فرخت کرنا جائز نہیں ہے۔ سگریٹ نوشی ایک ایسی آفت ہے جو انسانی تہذیب میں داخل ہوچکی ہے، اور اس کے خطرات کے احساس وشعور کے باوجود بہت سے لوگ اس سے بچنے کی فکر نہیں کرتے، جبکہ ماہرین کی بقول سگریٹ نوشی کے نقصانات بہت زیادہ ہیں، تعجب تو اس قانون پر ہے جو اس کے ڈبوں پر اس کے نقصان دہ ہونے کی تحریر چھاپنے کو تو لازم کرتا ہے، لیکن اس کے نقصان کو گوارہ کرتے ہوئے اس کی تیاری اور خرید وفروخت کی اجازت دیتا ہے، حالانکہ قانون کا بنیادی تقاضہ انسان کی جان ومال کی حفاظت ہے، اور معاشرہ کو ایسی چیزوں سے

پاک کرنا ہے جو انسان کے لئے نقصان دہ ہے، یہ تو اسلامی قانون کی خوبی ہے اس نے جن چیزوں کو ممنوع کیا ہے اس کی خرید وفروخت کوبھی ممنوع کیا ہے۔ مثلا شراب پینا حرام ہے تو اس کو بیچنا اور خریدنا بھی حرام ہے۔سگریٹ نوشی کے نقصانات کا جائزہ لینے والوں کے بقول اس کے مضر اثرات صرف دل، معدہ، بلڈپریشر اور سانس پر ہی اثر انداز نہیں ہوتے، بلکہ کینسر جیسی مہلک بیماری اس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، بالخصوص پھیپھڑے کے کینسر کے اسباب میں سے ایک اہم سبب سگریٹ نوشی ہے۔ اسی طرح ماں کی سگریٹ نوشی کے برے اثرات اس کے شکم میں موجود بچے پر پڑتے ہیں اور اس کے’’ دماغی شرائین ‘‘کو متأثر کرتے ہیں ،ماہرین کے بقول حالت حمل میں سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کے جنین عموما رحم مادر میں ہی مرجاتے ہیں یا ولادت کے بعد ابتدائی چند ہفتوں میں مرجاتے ہیں ۔اسی طرح سگریٹ نوشی گنجے پن کا بھی ایک اہم سبب ہے، تحقیق کنندگان کی تحقیق کے مطابق گنجے پن میں مبتلا افراد میں پچھتر فیصد وہ افراد ہیں جن کی عمر ۲۱۔ ۲۲ سال کے درمیا ن ہے، اور انہوں نے سگریٹ نوشی (۱۴) یا (۱۵) سال کی عمر میں شروع کی تھی۔یہ ہیں اس کے چند مہلک خطرات، جن کو ذہن میں رکھنے سے اس کا حکم شرعی بھی واضح ہوجاتا ہے، قرآن کریم اللہ عزوجل نے انسان کو حکم دیا ہے :ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ (سورہ بقرۃ :۱۹۵)’’اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘علامہ شوکانی علیہ الرحمۃ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: فکل ما صدق علیہ انہ تہلکۃ فی الدین اوالدنیا فہو داخل فی ہذا (فتح القدیر للشوکانی: بقرۃ: ۱۹۵)’’ہر وہ چیز جس پر یہ بات صادق ہو کہ وہ دینی یا دنیاوی اعتبار سے ہلاکت خیز ہے وہ آیت میں داخل ہے‘‘