وہ وقت جب ایک صحابی اپنی معاشی حالات میں‌ تنگی کی شکایت کر کر کے شادیاں کری جا رہا تھا توآپ ﷺ۔۔۔۔۔ کیا رسول اللہ ﷺ نے تنگدستی کے خاتمے میں کے لیے دوسری شادی کا حکم دیا؟ ایمان افروز تحریر

ایک صحابی نے اپنی معاشی حالات میں‌ تنگی کی شکایت کی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے دوسری شادی کا حکم دیا، دوبارہ وہی شکایت کی تو آپ نے پھر شادی کا حکم دیا۔ یہاں‌ تک وہ شخص بار بار شادی کرتا رہا اور بالآخر اس کی تنگدستی ختم ہو گئی۔ بسیار

کوشش کے باجود ہمیں ذخیرہ حدیث سے کوئی ایسی روایت تو نہیں ملی کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی شخص کے بار بار تنگدستی کی شکایت کرنے پر اُسے دوسری تیسری یا چوتھی شادی کرنے کا حکم فرمایا ہو تاہم ایک روایت جسے چند مؤرخین ومفسرین نے نقل کیا ہے۔ اس روایت میں مطلقاً شادی کا ذکر ہے: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، قَالَ: حدثنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، قَالَ: حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ التِّرْمِذِيُّ، قَالَ: حدثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حدثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو إِلَيْهِ الْفَاقَةَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ.حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اپنے فقر وفاقہ کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے شادی کرنے کا حکم فرمایا۔خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 1: 365، رقم: 307، بيروت: دار الغرب الإسلاميامام ذہبی اور ابن حجر عسقلانی نے اس روایت کو انتہائی ضعیف اور ناقابل اعتبار قرار دیا ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک روای سعید بن محمد ناکارہ ہے۔ یاسر بڑا ہی سمجھدار اور معقول انسان تھا مگر پتا نہیں یاسمین کی اسے کون سی خوبی نظر آگئی کہ انھوں نے چند ہی دنوں میں شادی کر لی۔ یاسمین کی تو یہ پہلی ہی شادی تھی مگر یاسر کی دوسری تھی۔ شادی کرتے وقت یاسر نے اپنی پہلی بیوی روبینہ سے دوسری شادی

کی اجازت نہیں لی تھی چنانچہ سپیشل جوڈیشل مجسریٹ نے اسے بغیر اجازت دوسری شادی کرنے کے جرم میں چھ ماہ قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنا دی ۔ جبکہ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں یاسر کو مزید ایک ماہ قید سخت بھگتنا ہو گئی۔مرد کی دوسری شادی خواتین کے لئے ایک سنگین مسئلہ بن جاتی ہے۔ اس سے بسے بسائے گھر اجڑ جاتے ہیں ۔ اولاد نافرمان بن جاتی ہے ۔اگر پہلی بیوی ذرا ہوشیار اور چالاک ہو تو یاسر جیسے لوگ جیل میں چلے جاتے ہیں۔ کیونکہ پاکستان رائج الوقت قانون کے مطابق مرد کو دوسری شادی کرنے سے پہلے اپنی پہلی بیوی سے تحریری طور پر ممکن ہو تو اشٹام پیپر پر نہیں تو ایک سادہ پیپر پر بیوی کی اجازت لینا ضروری ہوتی ہے۔ یہ اجازت پہلی بیوی کی آزادنہ رضامندی سے ہو یہ نہ ہو کہ شوہر زبردستی، سختی سے یا ورغلا کر اجازت لے۔یعنی واضع طور پر اجازت ہو۔جس کے بعد دوسری شادی ہو سکتی ہے۔اس قانون کے تحت نکاح خوان اور رجسٹرار کی یہ ذمہ داری ہے کہ بوقت نکاح اگر مرد بتلائے کہ یہ دوسری شادی ہے تو وہ اس سے اجازت نامہ طلب کرے اور نہ دکھانے پر نکاح پڑھانے یا رجسٹرڈ کرنے سے انکار کر دے۔ اور اگر جھوٹ بول کر نکاح بھی کروا لے تو پہلی بیوی کی درخواست پر شوہر کو سزائے قید اور جرمانہ کی سزا ہو سکتی ہے۔اسلام اگرچہ ایک مرد کے لئے بیک وقت چار دائمی بیویاں رکھنے کی اجازت دیتا ہے لیکن اگر کو ئی

عورت دوران عقد یہ شرط رکھ دے کہ اس کا شوہر اس کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کرسکتا ہے تو۔۔۔بعض فقہا کی نظر میں یہ شرط صحیح ہے اور شوہر کو اس کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے۔اس حوالے سے فقہا کا کہنا ہے کہ نکاح دو فریقین کے درمیان ایک معاہدے جیسا ہے۔ لہٰذا ایک لڑکی یا اس کے گھر والوں کو یہ شرعی حق حاصل ہے کہ اگر وہ چاہیں تو نکاح نامے میں یہ ”شرط“ شامل کروا سکتے ہیں کہ لڑکا اس بیوی کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کرے گا۔ اور اگر لڑکا اس شرط کو مان لے تو پھر وہ پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں کرسکتا۔ان فقہا کے مطابق شادی بیاہ میں فریقین اپنی پسند کی کوئی بھی شرط لکھوا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ شرط کارفرائض سے روکنے اور کار حرام کو کرنے سے متعلق نہ ہو۔ چونکہ دوسری شادی کرنا فرض نہیں ہے، لہٰذا پہلی بیوی نکاح نامے میں یہ شرط شامل کرواسکتی ہےجس کے بعد شوہر بیوی کی زندگی میں دوسری شادی نہ کرنے کا پابند ہوگا۔مگر اب پاکستان میں فیملی ایکٹ کی اس شق کو غیر شرعی اور مردوں پر بے جا پابندی کے مترادف کہا جا رہا ہے۔یہ بحث اب عام محفلوں سے ہوتی ہوئی ایوانوں تک پہنچ گئی ہے۔پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں باقاعدہ اس پر بحث ہوچکی ہے ۔ جن میں کہا گیا ہے کہ موجودہ قوانین میں ترمیم لانے کی ضرورت ہے اور مردوں کو پہلی بیوی سے اجازت حاصل کیے بغیر دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔ ایوان میں جہاں خواتین ممبران نے اس قانون کو برقرار رکھنے کے لیے یہ دلائل دیے گئے کہ عام اور شرعی قوانین دونوں میں مرد کو دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اسلام کی غلط تشریح کی گئی۔وہاں مرد ارکان نے ایوان کو بتایا کہ اسلام میں مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے اور کسی طرح کا قانون بھی اس چیز سے روک نہیں سکتا جس کی ہمیں قرآن میں واضح طور پر اجازت دی گئی ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے خصوصی دیہی معاشرے میں دوسری شادی کا عام رواج ہے ۔ ایسے میں اس قانون کی ضرورت ہے تاہم مردوں کے معاشرے میں دوسری شادیاں ہوتیں رہے گی لہٰذا ایسی خواتین کو چاہیے کہ ان کی شوہر کی طرف سے دوسری بیوی لانے پراس سے حسد اور نفرت نہ کرے بلکہ اپنے خاوند کی دوسری شادی کی حقیقت کو عزت اور پر وقار طریقے سے قبول کر لے۔ اس طرح وہ اپنے خاوند کی عزت اور محبت کو پا لے گی۔ گھر بار تباہ ہونے سے بچ سکتا ہے۔