کیا زکوٰۃ کی ادائیگی قسط وار کی جاسکتی ہے؟ ماہ صیام کے پس منظر سے ایک ایمان افروز تحریر

زکوۃ کی ادائیگی میں شریعت نے بڑی آسانی رکھی ہے۔ صاحبِ استطاعت شخص کے لیے نصاب پر ایک سال مکمل ہونے پر زکوٰۃ فرض‌ ہوتی ہے اور وہ اس کی ادائیگی دورانِ‌ سال بھی کر سکتا ہے اور سال گزر نے کے بعد بھی مہلت ہے کہ حسب موقع و حالات تاخیر

کی جاسکتی ہے، البتہ حتی المقدور زکوٰۃ کی جلد ادائیگی کی کوشش ہونی چاہیے۔ اسی طرح زکوٰۃ کی ادائیگی یکمشت بھی کی جاسکتی ہے اور تھوڑی تھوڑی کر کے ادا کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں، صاحبِ مال ماہانہ چند سو یا چند ہزار روپے کے لحاظ سے بھی زکوٰۃ ادا کرسکتا ہے۔ بہرحال زکوٰۃ کی قسط وار ادائیگی جائز ہے۔ زکوٰۃ جس کو دی جائے اُسے یہ بتانا کہ یہ مالِ زکوٰۃ ہے ضروری نہیں، کسی غریب کے بچوں کو عیدی یا کسی اور نام سے دیدینا بھی کافی ہےزکوٰۃ کے معنی پاکیزگی، بڑھوتری اور برکت کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’اُن کے مال سے زکوٰۃ لو تاکہ اُن کو پاک کرے اور بابرکت کرے اُس کی وجہ سے، اور دعا دے اُن کو‘‘۔ (التوبہ103) شرعی اصطلاح میں مال کے اُس خاص حصہ کو زکوٰۃ کہتے ہیںجس کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فقیروں ومحتاجوں کو دے کر انہیں مالک بنا دیا جائے۔ قرآن کریم کی آیات اور حضور اکرم ﷺ کے ارشادات سے زکوٰۃ کی فرضیت ثابت ہے۔ جوشخص زکوٰۃ کے فرض ہونے کا انکار کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ زکوٰۃ کی فرضیت ابتداء اسلام میں ہی مکہ مکرمہ کے اندر نازل ہوچکی تھی، جیساکہ امام تفسیرابن کثیرؒنے ذکر کیا ہے البتہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں زکوٰۃ کے لئے کوئی خاص نصاب یا خاص مقدار مقرر نہ تھی بلکہ جو کچھ ایک مسلمان کی اپنی ضرورت سے بچ جاتا، اُس کا ایک بڑا حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جاتا تھا۔

نصاب کا تعین اور مقدارِ زکوٰۃ کا بیان مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد ہوا۔زکوٰۃ اور رمضان: زکوٰۃ کا رمضان میں ہی نکالنا ضروری نہیں بلکہ اگر ہمیں صاحب نصاب بننے کی تاریخ معلوم ہے تو ایک سال گزرنے پر فوراً زکوٰۃ کی ادائیگی کردینی چاہئے خواہ کوئی سا بھی مہینہ ہومگر لوگ اپنے صاحب نصاب بننے کی تاریخ سے عموماً ناواقف ہوتے ہیں اور رمضان میں ایک نیکی کا اجر 70 گنا ملتا ہے تو اس لئے لوگ رمضان میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں اور پھر ہر سال رمضان میں ہی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ۔ زکوٰۃ ایک سال مکمل ہونے سے قبل بھی نکالی جاسکتی ہے اور اگر کسی وجہ سے کچھ تاخیر ہوجائے تو بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی لیکن قصداً تاخیر کرنا صحیح نہیں ۔ زکوٰۃ کے فوائد: زکوٰۃ ایک عبادت ہے، اللہ کا حکم ہے، زکوٰۃ نکالنے سے ہمیں کوئی منفعت حاصل ہویا نہ ہو، کوئی فائدہ ملے یا نہ ملے، اللہ کے حکم کی اطاعت بذات خود مقصود ہے۔ اصل مقصد تو زکوٰۃ کا یہ ہے لیکن اللہ کا کرم ہے جو کوئی بندہ زکوٰۃ نکالتا ہے تو اللہ اُس کو دنیاوی فوائد بھی عطا فرماتا ہے، اُن فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی باقی مال میں برکت ،اضافہ اور پاکیزگی کا سبب بنتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ سود کو مٹاتا ہے اور زکوٰۃ اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔‘‘ (البقرہ176) حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی بندہ زکوٰۃ نکالتا ہے تو فرشتے

اُس کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! جو شخص اللہ کے راستے میں خرچ کررہا ہے اس کو اور زیادہ عطا فرما اور اے اللہ جس شخص نے اپنے مال کو روک کر رکھ رہا ہے اور زکوٰۃ ادا نہیں کررہا تو اے اللہ اس کے مال پر ہلاکت ڈالے۔ نیز حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا : کوئی صدقہ کسی مال میں کمی نہیں کرتا۔ (ترمذی) زکوٰۃ کس پر فرض ہے: اُس مسلمان ،عاقل اوربالغ پر زکوٰۃ فرض ہے جو صاحب ِنصاب ہو۔ نصاب کا اپنی ضرورتوں سے زیادہ اور قرض سے بچا ہوا ہونا شرط ہے ، نیز مال پر ایک سال گزر نا بھی ضروری ہے۔لہذا معلوم ہوا کہ جس کے پاس نصاب سے کم مال ہے یا مال تو نصاب کے برابر ہے لیکن وہ قرض دار بھی ہے یا مال سال بھر تک باقی نہیں رہا ، تو ایسے شخص پر زکوٰۃ فرض نہیں۔88 گرام سونا یا 612 گرام چاندی یا612 گرام چاندی کی قیمت کے برابر نقد روپیہ یا سامانِ تجارت وغیرہ جس شخص کے پاس موجود ہے اور اُس پر ایک سال گزر گیا ہے تو اُس کو صاحب ِنصاب کہا جاتا ہے۔ غرضیکہ اگر کسی شخص کے پاس صرف سونا ہے تو وزن یعنی 88 گرام سونے پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اگر کسی شخص کے پاس صرف چاندی ہے تو وزن یعنی612 گرام چاندی پر زکوٰۃ واجب ہوگی لیکن اگر سونا، چاندی اور نقدی مشترک ہے یا صرف نقدی ہے تو612 گرام چاندی کی قیمت کے برابر پیسہ ایک سال سے زیادہ موجود ہونے پر زکوٰۃ واجب ہوجائے گی۔ مال تجارت میں زکوٰۃ کے وجوب کے لیے دو مزید شرطیں ہیں۔ بیچنے کی نیت سے خریدا تھی اور اب تک بیچنے کی نیت باقی ہے۔ گھر کے سازوسان حتی کہ گاڑی وغیرہ پر کوئی زکوٰۃ واجب نہیں۔