ترجمہ قرآن کا شوق اور بغیر سوچے سمجھے ترجمہ پڑھنے کے نتائج۔۔۔ آج کے علمااکرام پر مبنی ایک ایمان افروز تحریر

آج سے سو (100) سال پہلے مسلمانوں کا یہ طریقہ تھا کہ عام مسلمان قرآن کریم کی تلاوت محض ثواب کی غرض سے کرتے تھے اور روزانہ کے ضروری مسائل پاکی پلیدی ، روزہ نمازکے احکام میں بہت محنت اورکوشش کرتے تھے ۔ عام مسلمان قرآن شریف کا ترجمہ کرتے

ہوئے ڈرتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ یہ دریا ناپیدا کنارہے ۔ اس میں غوطہ وہی لگائے جو اس کا شنا ور ہو ،بے جانے بوجھے دریا میں کودنا جان سے ہاتھ دھونا ہے اور بے علم وفہم کے قرآن شریف کے ترجمہ کو ہاتھ لگانا اپنے ایمان کو بر باد کرنا ہے نیز ہر مسلمان کا خیال تھا کہ قرآن شریف کے ترجمہ کا سوال ہم سے نہ قبر میں ہوگا نہ حشر میں۔ ہم سے سوال عبادات ، معاملات کا ہوگا اسے کوشش سے حاصل کرو یہ تو عوام کی روش تھی رہے علماء کرام اور فضلائے عظام ، ان کا طریقہ یہ تھا کہ قرآن کریم کے ترجمہ کے لئے قریباً اکیس علوم میں محنت کرتے تھے مثلا صرف ، نحو ، معانی، بیان ، بدیع ، ادب ، لغت، منطق ، فلسفہ ، حساب ، جیومیڑی ، فقہ ،تفسیر ، حدیث ، کلام ، جغرافیہ ، تواریخ اور تصوف ، اصول وغیرہ ۔ ان علوم میں اپنی عمر کا کافی حصہ صرف کرتے تھے ۔ جب نہا یت جانفشانی اور عرق ریزی سے ان علوم میں پوری مہارت حاصل کرلیتے تب قرآن شریف کے ترجمہ کی طرف تو جہ کرتے پھر بھی اتنی احتیاط سے کہ آیات متشابہات کو ہاتھ نہ لگاتے تھے کیونکہ اس قسم کی آیتیں رب تعالیٰ اور اس کے محبو ب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان راز ونیاز ہیں، اغیار کو یا ر کے معاملہ میں دخل دینا روا نہیں ۔ میان طالب و مطلوب رمز یست! کراما کاتبیں

راہم خبر نیست! رہیں آیات محکمات ان کے ترجمہ میں کو شش تو کرتے مگر گزشتہ سارے علوم کا لحاظ رکھتے ہوئے مفسرین ، محدثین ، فقہا کے فرمان پر نظر کرتے ہوئے پھر بھی پوری کوشش کرنے کے باوجود قرآن کریم کے سامنے اپنےکو طفل مکتب جانتےتھے۔اس طریقہ کار کافائدہ یہ تھا کہ مسلمان بد مذہبی ، لا دینی کا شکار نہ ہوتے تھے وہ جانتے بھی نہ تھے کہ قادیانی کس بلا کانام ہے او ردیوبندی کہا ں کا بھوت ہے ۔ غیر مقلدیت، نیچریت کس آفت کو کہتے ہیں ۔ چکڑالوی کس جانور کا نام ہے ۔ علماء کے وعظ خوف خدا عظمت و ہیبت حضور محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ، مسائل دینیہ اور علمی معلومات سے بھرے ہوتے تھے وعظ سننے والے وعظ سن کر مسائل ایسے یاد کرتے تھے جیسے آج طالب علم سبق پڑھکر تکرار کرتے ہیں کہ آج مولوی صاحب نے فلاں فلاں مسئلہ بیان فرمایا ہے غرضیکہ عجیب نوری زمانہ تھا اور عجب نورانی لوگ تھے ۔اچانک زمانہ کا رنگ بدلا، ہوا کے رخ میں تبدیلی ہوئی بعض نادان دوستوں اور دوست نما دشمنوں نے عام مسلمانوں میں ترجمہ قرآن کرنے اور سیکھنے کا جذبہ پیدا کیا اور عوام کو سمجھا یا کہ قرآن عوام ہی کی ہدایت کے لئے آیا ہے اس کا سمجھنا بہت سہل ہے ۔ ہر شخص اپنی عقل وسمجھ سے ترجمہ کرے اور احکام نکالے اس کے لئے کسی علم کی ضرورت نہیں ۔ عوام میں یہ خیال یہاں تک پھیلایا کہ لوگو ں نے قرآن کو معمولی کتاب اور قرآن والے

محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو معمولی بشر سمجھ کر قرآن کے ترجمے بے دھڑک شرو ع کردیئے اور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات کاانکار بلکہ اس ذات کریم سے برابر ی کا دعوی شرو ع کردیا ۔اب عوام جہلا یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ خواندہ ، ناخواندہ ، انگریزی تعلیم یافتہ لغت کی تھوڑی باتیں یاد کر کے بڑے دعوے سے قرآن کا ترجمہ کر رہا ہے اور جو کچھ اس کی ناقص سمجھ میں آتا ہے اسے وحی الٰہی سمجھتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہو اکہ مسلمانوں میں روزانہ نئے نئے فرقے پیدا ہورہے ہیں جو ایک دوسرے کو کافر، مشرک، مرتد اور خارج از اسلام سمجھتے ہیں ۔لطیفہ : ایک اردوا سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب نے دوران تقریر کہا کہ جس کو قرآن کا ترجمہ نہ آتا ہو وہ نماز ہی نہ پڑھے کہ جب عرضی دینے والے کو یہ خبر ہی نہیں کہ درخواست میں کیا لکھا ہے تو درخواست ہی بیکار ہے میں نے کہا کہ پھر عربی زبان میں نماز پڑھنے کی کیا ضرورت ہے موجودہ انجیلوں کی طر ح قرآن کے اردوترجمے اور اردو خلاصے بنالو ، اس میں نماز پڑھ لیا کر و ، رب تعالیٰ اردو جانتا ہے ۔ اس پر وہ خاموش ہوگئے ۔آج ہربد مذہب ہر شخص کو قرآن کی طر ف بلا رہا ہے کہ آؤ میرا دین قرآن سے ثابت ہے اسی پر فتن زمانہ کی خبر حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دی تھی ۔

اور ایسے دجالوں کا ذکر سر کار نے فرمایا تھا: یَدْعُوْنَ اِلٰی کِتَابِ اللہِ وہ گمراہ گر وہ ہر ایک کو قرآن کی طرف بلائے گا ۔ (سنن ابی داود،کتاب السنۃ،باب فی قتال الخوارج،الحدیث۴۷۶۵،ج۴،ص۳۲۰، دار احیاء التراث العربی بیروت) رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : وَالَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوۡا عَلَیۡہَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا ۔ ترجمہ : مسلمان اللہ تعالیٰ کی آیتو ں پر گو نگے اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے ۔ (پ19،الفرقان:73)کانپور میں ایک بد مذہب پیدا ہوا، مسمی عزیز احمد حسرت شاہ جس نے ماہوار رسالہ” شحنہ شریعت”جاری کیا ۔ اس میں بالا لتزام لکھتا تھا کہ سارے نبی پہلے مشرک تھے، گناہ گار تھے ، معا ذ اللہ بدکر دار تھے ، پھر تو بہ کر کے اچھے بنے اور حسب ذیل آیات سے دلیل پکڑتا تھا کہ رب تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا : وَعَصٰۤی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی ﴿۱۲۱﴾ آدم علیہ السلام نے رب کی نافرمانی کی لہٰذا گمراہ ہوگئے ۔ (پ۱۶،طٰہٰ:۱۲۱) ۔ حضور علیہ السلام کے بارے میں فرمایا : وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ۪﴿۷﴾ یعنی رب نے تمہیں گمراہ پایا تو ہدایت دی ۔ (پ۳۰،الضحی:۷) ۔ حضر ت ابراہیم علیہ السلام نے چاند ، ستارے، سورج کو اپنا رب کہا ،یہ شرک ہے ۔ فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ہٰذَا رَبِّیْ (پ 7،الانعام78) حضرت آدم وحوا کے بارے میں فرمایا : جَعَا لَہ، شُرَکَآءَ فِیْمَآ اٰتٰہُمَا ان دونوں نے اپنے بچہ میں رب کا شریک ٹھہرایا۔ (پ۹،الاعراف:۱۹۰) ۔ یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: وَلَقَدْ ہَمَّتْ بِہٖ ۚ

وَہَمَّ بِہَا لَوْلَاۤ اَنۡ رَّاٰبُرْہَانَ رَبِّہٖ ؕ (پ 12، یوسف :24) یقینا زلیخا نے یوسف اور یوسف نے زلیخا کا قصد کرلیا اگر رب کی بر ہان نہ دیکھتے تو زنا کر بیٹھتے پھر لکھا کہ غیر عورت کو نظر بد سے دیکھنا اور برا ارادہ کرنا کتنا بر اکام ہے جو یوسف علیہ السلام سے سرزد ہو ا۔داؤد علیہ السلام نے اوریا کی بیوی پر نظر کی اور اوریا کو قتل کروا دیا ۔ یہا ں تک بکواس کی کہ آدم علیہ السلام اور ابلیس دونوں سے گناہ بھی ایک ہی طر ح کا ہوا اور سزا بھی یکساں ملی کہ ابلیس سے کہا گیا: فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ ﴿ۙ۳۴﴾ تو جنت سے نکل جا تو مردود ہے ۔(پ۱۴،الحجر:۳۴) آدم علیہ السلام سے کہا گیا : قُلْنَا اہۡبِطُوۡا مِنْہَا جَمِیۡعًا ۚ ہم نے کہا کہ تم یہاں سے نکل جاؤ۔ (پ۱،البقرۃ:۳۸) غرضیکہ دو نوں کو دیس نکالے کی سزادی ہاں پھر آدم علیہ السلام نے تو بہ کرلی اور ابلیس نے توبہ نہ کی ۔ میں نے اس مرتد کو بہت سے جوابات دیئے مگر وہ یہ ہی کہتا رہا کہ میں قرآن پیش کر رہا ہوں کسی بزرگ ، عالم ،صوفی کے قول یا حدیث ماننے کو تیار نہیں ۔ آخر کار میں نے اسے کہا کہ بتا رب تعالیٰ بھی بے عیب ہے کہ نہیں؟بولا:ہاں!وہ بالکل بے عیب ہے،میں نے کہا کہ قرآن مجید میں ہے کہ خدا میں عیب بھی ہیں اور خدا چند ہیں۔خدا کے دادا بھی ہیں ۔ چنانچہ فرمایا ہے: وَمَکَرُوۡا وَمَکَرَ اللہُ ؕ وَاللہُ خَیۡرُ

الْمٰکِرِیۡنَ ﴿٪۵۴﴾ کفار نے فریب کیا اور خدا نے فریب کیا خدا اچھا فریب کرنے والا ہے ۔(پ۳،اٰل عمرٰن:۵۴) معا ذ اللہ ! دو سرے مقام پر فرماتا ہے: یُخٰدِعُوۡنَ اللہَ وَہُوَ خَادِعُہُمْ ۚ یہ خدا کو دھوکا دیتے ہیں اور خدا انہیں دھوکادیتا ہے (پ۵،النساء:۱۴۲)۔ دیکھو دھوکا ، فریب دہی، نمبر ۱۰ کے عیب ہیں مگر قرآن میں خدا کے لئے ثابت ہیں۔ اور فرماتا ہے : وَاَنَّہ، تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا ہمارے رب کا دادا بڑا خاندانی ہے ۔ (پ۲۹،الجن:۳) خدا کا دادا ثابت ہوا ۔اور فرماتا ہے: فَتَبٰرَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾ اللہ برکت والا ہے جو تمام خالقوں سے اچھا ہے۔ (پ۱۸،المؤمنون:۱۴) معلوم ہوا کہ خالق بہت سے ہیں ۔ جب ترجمہ لفظی پر ہی معاملہ ہے تو اب رب کے لئے کیا کہے گا ؟ تب وہ خاموش ہوا ۔ دیکھا آپ نے ان اندھا دھند ترجموں کا یہ نتیجہ ہے ۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے دعوی نبوت کیا او راپنی نبوت کے ثبوت میں قرآن ہی کو پیش کیا ، کہا کہ قرآن کہتا ہے : اَللہُ یَصْطَفِیۡ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ ۔ ترجمہ : اللہ تعالیٰ فرشتو ں اور انسانوں میں سے رسول پیغمبر چنتارہے گا ۔ (پ۱۷،الحج:۷۵) ۔معلوم ہوا کہ پیغمبر ، رسول آتے ہی رہیں گے وغیرہ وغیر ہ ۔ غرضیکہ اندھا دھند ترجمے بے ایمانی کی جڑ ہیں ۔ آنکھوں پر پٹی باندھ لو جوچاہو بکواس کرو اور قرآن سے ثابت کر دو ۔ ایک کتاب میری نظر سے گزری ہے ” جواہر القرآن”جو کسی ملحد غلام اللہ خاں (اللہ کے غلام) نے لکھی ہے اس میں بھی اندھا دھند ترجمہ کیا گیا ہے بتوں کی مذمت میں نازل ہونے والی آیات پیغمبر وں پر ، کفار کی مذمت میں نازل ہونے والی آیتیں مسلمانوں پر بے دھڑک چسپاں کر کے مصنف نے یہ ثابت کرنے کی کو شش کی ہے کہ دنیا بھر کے علماء ، صوفیاء ، مومنین اور صالحین مشرک تھے اور مسلمان موحد صرف میں ہی ہوں یا میری ذریت ۔ بخاری شریف جلد دوم میں باب باندھا ہے ۔ بَابُ الْخَوَارِجِ وَالْمُلْحِدِیْنَ خارجیوں اور بے دینوں کا باب وہاں ترجمہ باب میں فرمایا وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَرَا ھُمْ شِرَارُخَلْقِ اللہِ وَقَالَ اِنَّہُمْ اِنْطَلَقُوْا اِلٰی اٰیَاتٍ نُزِلَتْ فِی الْکُفَّارِفَجَعَلُوْھَا عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان خارجیوں،ملحدوں کو اللہ کی مخلوق میں بد تر سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ ان بے دینوں نے ان آیتو ں کو جو کفار کے حق میں نازل ہوئیں مسلمانوں پر چسپاں کیا ۔ (صحیح ا لبخاری،کتاب استتا بۃ المرتدین…ا لخ،تحت الباب قتل الخوارج والملحدین…الخ، ج۴،ص۳۸۰،دار الکتب العلمیۃ بیروت) یہ ہی طریقہ اس ملحد نے اختیار کیا ہے۔ غرضیکہ ترجمہ قرآن بے دھڑک کرنا ہی ایسی بڑی بیماری ہے جس کا انجام ایمان کا صفایا ہے ۔(ماخوذ : علم القرآن حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی ، التبیان استاذی المکرّم غزالی زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی تبیان القرآن علامہ غلام رسول سعیدی ، علیہم الرّحمہ )۔(طالب دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی خلیفہ مجاز پاکپتن شریف)