بنی اسرائیل خدا کی سب سے نافرمان قوم ،پڑھیے یہودیوں کی نافرمانی کا ایسا واقعہ جو اس قوم کے زوال کی وجہ بنا

بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص مارا گیا جسے اس کے بھتیجوں نے جنگل میں موقعہ پا کر قتل کیا اور رات کے اندھیرے میں کسی دوسرے شخص کے مکان کے سامنے پھینک دیا۔ اس کے قاتل کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی کہ اس قوم کو حکم دو کہ وہ ایک گائے ذبح کریں۔ گائے ذبح کرنے

کا حکم کیوں دیا گیا تھا اس پر دو نقطہ نظر پائے جاتے ہیں ۔ روایتی نقطہ نظر یہ ہے کہ ذبح شدہ گائے کے گوشت کا ٹکڑا مارنے سے مردہ لاش جی اٹھتی اور اور بول کر قاتل کا پتہ بتا دیتی۔دوسرا نقطہ نظر کے مطابق بنی اسرائل میں قسامہ کا طریقہ رائج تھا۔جس میں جب قاتل کا سراغ نہ ملتا تو اس مقام پر مشتبہ اور متعلقہ لوگوں کو جمع کیا جاتا اور کسی جانور کو ذبح کرکے یہ تمام لوگ اس کے خون سے ہاتھ دھوتے اور قسم کھاتے کہ انہوں نے یہ قتل نہیں کیا ہے یا وہ قاتل کو نہیں جانتے۔گائے کو ذبح کرنے کا حکم دراصل بنی اسرائیل کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کے مترادف تھا۔ گؤ سالہ پرستی کے جراثیم اور گائے بیل سے محبت اور اسے دیوتا سمجھنے کا عقیدہ ابھی تک ان میں موجود تھا۔ لہذا ایک تکلیف تو انہیں یہ ہوئی کہ جس چیز کو قابل پرستش سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے اسی چیز کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ دوسرے انہیں یہ یقین نہیں تھا کہ اس طرح گائے ذبح کرنے سے قاتل کا سراغ کس طرح مل سکتا ہے۔ لہذا موسیٰ علیہ السلام سے یوں کہہ دیا کہ ہم سے دل لگی کرتا ہے۔موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں تو تمہیں اللہ کا حکم بتا رہا ہوں، دل لگی نہیں کر رہا۔

کیونکہ ایسی دل لگی کرنا جاہلوں کا کام ہے۔اگر بنی اسرائیل ایک فرمانبردار قوم ہوتے اور کوئی سی گائے بھی ذبح کر دیتے تو حکم کی تعمیل ہو جاتی، مگر کٹ حجتی اور ٹال مٹول، حتیٰ کہ نافرمانی ان کی رگ رگ میں بھری ہوئی تھی۔ کہنے لگے اچھا ہمیں اپنے پروردگار سے پوچھ کر بتاؤ وہ گائے کیسی ہونی چاہیے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا۔ وہ گائے جوان ہونی چاہیے، بوڑھی یا کم عمر نہ ہو۔ پھر دوسری مرتبہ یہ سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ سے پوچھ کر ہمیں بتاؤ کہ اس کا رنگ کیسا ہونا چاہیے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ وہ گہرے زرد رنگ کی ہونی چاہیے، جو دیکھنے والے کے دل کو خوش کر دے۔ اب بھی حکم بجا لانے پر طبیعت آمادہ نہ ہوئی تو تیسری مرتبہ یہ سوال کر دیا کہ ایسی صفات کی گائیں تو ہمارے ہاں بہت سی ہیں ہمیں پوچھ کر بتایا جائے کہ اس کی مزید صفات کیا ہوں؟ تاکہ ہمیں کسی متعین گائے کا علم ہو جائے جس کی قربانی اللہ تعالیٰ کو منظور ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا کہ وہ گائے ایسی ہونی چاہیے جس سے ابھی تک کھیتی باڑی کا کام لینا شروع ہی نہ کیا گیا ہو یعنی نہ وہ ہل کے آگے جوتی گئی ہو اور نہ کنویں کے آگے۔ تندرست ہو اور صحیح و سالم ہو۔ یہ نہ ہو کہ کسی بیماری یا کمزوری کی وجہ سے کام نہ لیا جا رہا ہو اور اس میں کوئی داغ بھی نہ ہو