‘‘مین ورسز وائلڈ ’’کا ہوسٹ بیئر گرلز :دور حاضر کےسب سے عجیب وغریب شخص کی حیران کن داستان

بئیر گرلز دور حاضر کا عجیب و غریب شخص مانا جاتا ہے اس کے عجیب و غریب حرکات سے بھرے پروگرام کو پوری دنیا میں دیکھا جاتا ہے سکول چھوڑنے کے بعد بیئر گرلز نے برصغیر پر مقیم برطانوی فوج میں حصہ لینا چاہا۔ ہمالیہ اور مغربی بنگال کی پہاڑیوں کی کوہ پیمائی کی۔ فوج سے جڑنے کے بعد

اس نے 21 ایس اے ایس رجمنٹ 1997ء تک تین سالہ ڈیوٹی سر انجام دی۔ 1996ء میں پیراشوٹ کے ذریعے اترتے ہوئے خود کو زخمی کر دیا۔ اسکی چھتری 16 ہزار فٹ کی بلندی پر آدھی پھٹ گئی اور وہ تیزی سے نیچے آنے لگا۔ جس کی وجہ سے اسے اپنی پیٹھ کے سہارے گر کر زمین پر اترنا پڑا۔ اس سے اسکی ریڑھ کی ہڈی کے تین اجزاء ٹوٹ گئے۔ اس کے سرجن کے مطابق وہ مر کے زندہ ہوا ہے۔ حادثے کی وجہ سے مفلوج بیئر کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہو گیا تھا کہ یہ آئندہ چل بھی سکے۔ اسے اگلا ایک سال فوج سےفوج سے باہر اپنی تندرستی کے لیے گزارنا پڑا۔تاہم، اپنی خالص وقفیت اور لگن کے ساتھ 1998ء میں اس نے اپنے بچپن کا خواب پورا کر ہی لیا۔ ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹنے کے 18 ماہ بعد ہی بیئر گرلز نے دنیا کی سب سے اونچی اور قاتل پہاڑی ماؤنت ایوریسٹ کو سر کرلیا۔ 23 سال کی عمر میں اس وقت کے سب سے کم عمر کوہ پیما کا اعزاز اس نے حاصل کیا جو ماؤنٹ ایوریسٹ پر چڑھا۔ یہ کہانی بیئر گرلز کی ہے جسے ڈسکوری چینل پر ایک مشہور و معروف پروگرام مین ورسز وائلڈ کی وجہ سے آفاقی شہرت ملی۔ اپنی خامیاں اور تکلیفوں کو پرے رکھ کے خود کو وقف کردینے والے لوگ ہی بعض اوقات وہ کر دکھاتے ہیں جو سننے میں نا ممکن سا لگتا ہے۔ بیئر کی کہانی بھی ہمارے لیے مشعل راہ جیسی ہے۔ تمام کے تمام انسان جو آج کامیاب نظر آتے ہیں، وہ ماضی میں کمر توڑ دینے والی مشکلوں کو مات دے کر آئے ہیں۔