روز ویلٹ ہوٹل کس نے اور کب بنایا اور پی آئی اے اسے بیچنا کیوں چاہتی ہے؟ وہ حقائق سامنے آ گئے جن سے اب تک ہر کوئی لاعلم تھا

لاہور(ویب ڈیسک)قومی ایئر لائن پی آئی اے کی ملکیت نیو یارک کے معروف ہوٹل روز ویلٹ کو مستقل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ہوٹل کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ 31 اکتوبر 2020 سے یہ تاریخی ہوٹل مستقل طور پر بند کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ نے ہوٹل بند کرنے

کی وجہ معاشی مشکلات بتائیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں ہوٹلنگ کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے، امریکن ہوٹل اینڈ لوجنگ ایسوسی ایشن کی 31 اگست کو جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق کورونا کی وجہ سے ہوٹل انڈسٹری کا کاروبار نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے 9 گنا زیادہ متاثر ہوا ہے۔ سال 2020 کے دوران ہوٹل انڈسٹری کے ریونیو میں 124 ارب ڈالر کی کمی ہوئی، یہ ہوٹلنگ انڈسٹری کی تاریخ کا بد ترین سال قرار دیا گیا ہے۔نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کے قیام کو ایک صدی ہو گئی ہے۔ اس کا افتتاح 23 ستمبر سنہ 1924 کو ہوا تھا۔ 26 ویں امریکی صدر تھیوڈر روزویلٹ کے نام پر بنائے گئے اس ہوٹل کی تعمیر پر اس وقت ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر رقم خرچ ہوئی تھی۔ یہ ہوٹل ایک خفیہ زیرِ زمین راستے سے نیویارک کے گرینڈ سینٹرل سٹیشن سے بھی جڑا ہوا تھا۔ اس ہوٹل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ صرف نیو یارک بلکہ دنیا کے پوش ترین علاقے مین ہیٹن میں واقع ہے جہاں سے اہم امریکی و اقوام متحدہ کی عمارتیں انتہائی قریب پڑتی ہیں۔ روز ویلٹ ہوٹل نیویارک کے مرکز مین ہیٹن کی 45 ویں اور 46 ویں سٹریٹ کے درمیان واقع ہے جو نیویارک کے گرینڈ سنٹرل سٹیشن سے صرف ایک بلاک دور ہے۔ یہاں سے ٹائمز سکوائر اور براڈ وے جانے میں صرف پانچ منٹ لگتے ہیں۔یہ دنیا بھر میں وہ پہلا ہوٹل تھا جس نے اپنے مہمانوں کی۔۔۔