ایک دکاندار نے اپنے بولنے والے طوطے کا پنجرہ دکان کے باہر لٹکا رکھا تھا ، یہ طوطا ویسے تو بڑا تمیز والا اور ہر کسی کو سلام کرتا مگر ایک پڑوسی دکاندار کو دیکھتے ہی گالیاں دینے لگتا ، پھر ایک روز کیا دلچسپ واقعہ پیش آیا ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) ایک دکاندار نے اپنے بولنے والے طوطے کا پنجرہ دکان کے باہر لٹکا رکھا تھا۔ طوطا راہگیروں سے سلام دعا لیتا رہتا تھا۔ یہ طوطا ویسے تو خاصا مہذب اور تمیزدار تھا لیکن خدا جانے اس کو ایک پڑوسی سے کیا بیر تھا کہ اسے دیکھتے ہی وہ باقی راہگیروں

کے برعکس اچھے طریقے سے سلام دعا لینے اور حال چال پوچھنے کے بجائے مغلطات بکنے لگ جاتا تھا۔ ایک روز اس پڑوسی نے تنگ آ کر طوطے کے مالک سے شکایت کر دی۔ طوطے کے مالک نے طوطے کو آئندہ اس حرکت سے منع کیا اور مہذب طریقے سے پیش آنے کا کہا۔ اگلے روز طوطے نے پھر وہی حرکت کی اور اسے دبے دبے مغلطات سے نوازا ۔ پڑوسی نے دوبارہ طوطے کے مالک کو شکایت لگائی۔ اس بار طوطے کے مالک نے نہایت سختی سے طوطے کو وارننگ دی اور کہا کہ اگر اس نے اس ہمسائے کو دوبارہ مغلطات دیں تو اچھا نہ ہو گا ۔ اگلے روز جب وہ شخص وہاں سے گزرا تو طوطے نے اس کی شان میں قصیدے پڑھنے شروع کر دیئے اور اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے۔ اس شخص نے اس کایا کلپ پر بڑی حیرانی سے طوطے کی جانب دیکھا تو طوطے نے اپنی گول گول آنکھیں گھماتے ہوئے اس کو مخاطب کیا اور کہنے لگا: ” استاد! توں سمجھ تے گیا ای ہوویں گا‘‘ (استاد ! آپ سمجھ تو گئے ہی ہوں گے) ۔۔۔۔۔